بے عزتی زیلنسکی کی ہوئی یا ٹرمپ کی؟ پر تبصرہ

آج مورخہ 4 مارچ 2025 کے کالم میں نصرت جاوید صاحب نے ٹرمپ زیلنسکی ملاقات کو موضوع بنایا ہے۔ اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک پاکستانی میڈیا کے دانشوروں کی طرف سے ظاہر کیا گیا تھرڈ کلاس رد عمل بھی ہے جس کے مطابق وہ پاکستانی حکومتی نمائندہ کی گت بننے کی آرزو کا اظہار کر رہے ہیں۔
اپنے کالم میں اٹھائے گئے اعتراضات مثلاً ٹرمپ کا جو بائیڈن کے متعلق انتقامی طرز اظہار ہے جو اگر امریکہ میں سماجی رویوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو قابل فہم ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لئے جرمن چانسلر فراؤ میرکل کے روّیہ سے تقابل مفید ہو گا۔ فراؤ میرکل کا امریکیوں نے ٹیلیفون ٹیپ کیا تھا۔ جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس کا رد عمل کیا ہے تو اس نے مختصراً جواب دیا۔ ”دوستوں سے ایسا نہیں کرتے“ ۔ یہ یورپی تہذیب یا معاملہ فہمی کا آرٹ ہے۔ امریکہ میں لیکن ٹہکہ اور پیسے کے زور سے کامیابی ایک جائز عمل ہے۔ ٹرمپ کا تکیہ کلام ”ڈیل“ توجہ کے لائق ہے۔
نصرت جاوید صاحب کو ایک طرف عمران خاں اور ٹرمپ میں کچھ مماثلت تو محسوس ہوتی ہے دوسری جانب یورپی سیاست اور پاکستانی سیاست کے ”امیرکنائزڈ“ ورژن کو یورپی روایات کے آئینہ میں ملاحظہ کر رہے ہیں۔ جس پر زیادہ توجہ کی بدولت وہ کچھ باتوں کو نظر انداز کر گئے جن کا ذکر نہایت ضروری ہے۔
1۔ یوکرین کے معاملہ میں اب تک کی ساری امریکی پالیسی پریڈیٹر (صیاد) والی تھی اور 1990 میں روسی پسپائی کی بدولت امریکہ نے دہائیوں سے جاری نا انصافی پر مبنی دباؤ میں اضافہ کر دیا جس کے نتیجہ میں دیوار سے لگتے روس کو کارروائی پر مجبور کر دیا جس کے نتیجہ میں اسے ”حملہ آور“ قرار دیدیا گیا۔ یہاں سے روس کے خلاف اقدامات کو مہمیز ملی اور بالآخر روس کو ایٹمی جنگ کے امکان کا اظہار کرنا پڑا۔ یہ پلان ظاہر ہے کہ محض جو بائیڈن کا نہیں تھا لیکن وہ جنگ پسندوں کے گروپ کا نمائندہ تھا۔
2۔ غزہ میں جنگ بندی کو بائیڈن نے روکے رکھا جس سے اسرائیل کو کھل کر نسل کشی کا موقعہ ملا۔
3۔ زیلنسکی نے یورپی پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے جس رعونت کا مظاہرہ کیا وہ یورپی لوگ برداشت کرنے پر مجبور تھے کیونکہ اس وقت امریکہ کی نگاہیں بدلی نہیں تھیں۔
4۔ امریکہ کی مہلک پالیسیاں دنیا بھر میں آزمائش کا موجب بنی ہیں۔ ایشیا میں ایک وقت میں ایک پالیسی ہوتی ہے اور پھر ایشیائی ہمراہیوں کو 180 درجہ الٹ حرکت پر مجبور کیا جاتا ہے۔ پاکستان افغانستان کا حال سامنے ہے۔ یا مشرق وسطی میں جو کچھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔
5۔ نصرت جاوید صاحب کا یہ کہنا غلط فہمی پر دال ہے کہ روس نے ”یوکرین کی ہتھیائی زمین اسے لوٹائی نہیں“ نیز انہوں نے کریمیا کی بابت اس کے عثمانی سلطنت کا حصّہ ہونے کے بعد روس کا حصّہ بننے پر دوبارہ روسی قبضے کو ہڑپ کرنا لکھا ہے۔ یہ روسی علاقہ تھا جو اس نے سوویت دور میں یوکرین کی سوویت میں شامل کیا تھا تو اسے واپس لینا اس کا حق بنتا ہے جب یوکرین روسی سلامتی کے لئے مضر منصوبے کا حصّہ بن رہا ہو۔
6۔ ٹرمپ کی ذات کے متعلق نصرت صاحب کے ریمارکس درست ہونے ہونے کے باوجود اس یہ کہنا درست نہیں کہ ٹرمپ نے ڈانٹ ڈپٹ کی ہے بلکہ اس نے بغیر لگی لپٹی کے ڈیل کی بات کی ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ یوکرین بجائے ایک بفر سٹیٹ کے اگر نیٹو ملک بن جائے تو تیسری عالمی جنگ اس کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
7۔ پاکستان میں اگر بعض لوگ اس بغیر لگی لپٹی نظر آنے والی سرزنش کے آئینہ میں پاکستانی حکمرانوں کو دیکھ کر حظ اٹھاتے ہیں تو یہ ایک اخلاقی تربیت کی کمی یقیناً ہے لیکن اس کو پاکستانی مزاج کا حصّہ سمجھنا چاہیے۔
8۔ یوکرین کے معاملہ میں امریکہ اور برطانیہ میں خلیج دیکھنے میں نظر آتی ہے لیکن یہ کبھی ایک دوسرے کے مفاد میں خرابی کا باعث نہیں بننے والی۔ یہی برطانیہ ہے جس نے ہر جنگ میں امریکہ سے تعاون کیا۔ بلکہ اینگلو سیکسن ممالک کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ ہمیشہ محاذ پر متحد نظر آئے ہیں۔ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا۔
9۔ روس سے جرمنی آنے والی نارتھ پائپ لائن کی بربادی کی ذمہ داری کسی پر نہیں ڈالی گئی۔ اس لیے کہ دوستوں سے ایسا نہیں کرتے۔ اس روسی فرم گاس پروم کے ڈائریکٹر جرمنی کے سابق چانسلر شروڈر ہیں۔ جنہوں نے عراق کے خلاف سراسر جھوٹے الزام کے تحت کی جانے والی جنگ میں حصّہ لینے سے صاف انکار کر دیا تھا اور پھر ان کا ”جمہوری طریقہ سے جانا ٹھہر گیا“ تھا۔
10۔ جہاں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معاشی سائنسی اور دفاعی طاقت ایک خطرہ دکھائی دیتا ہے وہیں یورپ کا متحد ہوجانا بھی اینگلو سیکسن بالا دستی کو کھٹکتا ہے۔

