روایات سے آگے بڑھیں


بین الاقوامی یومِ خواتین دنیا کے کئی ممالک میں منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خواتین کی کامیابیوں کو کسی بھی قسم کی تقسیم کے بغیر تسلیم کیا جاتا ہے، چاہے وہ قومی، نسلی، لسانی، ثقافتی، معاشی یا سیاسی ہو۔ اس سال کے موضوع ”تیزی سے عمل کریں“ (Accelerate Action) کے تحت، اس دن کا مقصد مثبت تبدیلی کو فروغ دینا، رکاوٹوں کو ختم کرنا، اور صنفی مساوات کو تیزی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ یہ صرف بات چیت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے اور خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں با اختیار بنانے کی پکار ہے۔

ہمارے معاشرے میں خواتین کو عزت دی جاتی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسی معاشرے میں خواتین ہر طرح کے تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔ اگر بیٹی آواز اٹھائے، اگر بیوی اپنا حق مانگے، اگر بہن اپنے حقوق کا مطالبہ کرے، یا اگر ماں اپنی رائے کا اظہار کرے، تو اُسے کبھی جنت کی علامت سے کم تر کر کے محض ایک بوجھ بنا دیا جاتا ہے۔

جب ہم خواتین کے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو ہم ان خواتین کی بات نہیں کرتے جو اپنے حقوق کے لیے لڑنا جانتی ہیں، جیسے عورت مارچ میں شامل خواتین۔ ہم ان خواتین کی بات کر رہے ہیں جنہیں بولنے کا حق نہیں دیا جاتا یا جو یہ بھی نہیں جانتیں کہ ان کا کوئی حق ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ خواتین پر ظلم کرتے ہیں، وہی ایک ایسے مذہب کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جو خواتین کے احترام کا درس دیتا ہے۔

مثالیں موجود ہیں : جب بیٹی گھر میں داخل ہو تو اس کے احترام میں کھڑا ہونا چاہیے۔ حضرت عائشہؓ کو ایک عظیم عالمہ بنایا گیا، انہیں ایسا دینی و فکری مقام عطا ہوا کہ ان کے زمانے کے بڑے علماء ان سے رائے لیتے تھے۔ حضرت خدیجہؓ کا مقام دیکھیے، وہ اس دورِ جاہلیت میں بھی اپنی پسند سے نبی کریم ﷺ کو اپنا شریکِ حیات منتخب کرنے کا حق رکھتی تھیں۔

لیکن وہی لوگ جو اس دین کے پیروکار ہیں، بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر مقام نہیں دیتے۔ بیٹے کو وارث بنایا جاتا ہے، جبکہ بیٹی کو چند سال پال کر ایک ذمہ داری سمجھ کر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ بہنوں کو وراثت میں حق نہیں دیا جاتا، بیویوں کو ملکیت سمجھا جاتا ہے، اور ماؤں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ کبھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور کبھی اولڈ ہوم میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کی حیثیت دو انتہاؤں پر موجود ہے۔ ایک طرف انہیں عزت و وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ روزمرہ زندگی میں امتیازی سلوک اور دباؤ کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک ماں کو عظیم کہا جاتا ہے، لیکن جب وہ بوڑھی ہو جاتی ہے تو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے یا تنہائی میں چھوڑ دی جاتی ہے۔ ایک بیوی سے قربانی اور صبر کی توقع کی جاتی ہے، مگر اس کے جذبات اور ضروریات کا خیال کم ہی رکھا جاتا ہے۔ بیٹیوں کی محبت کے گیت گائے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی تعلیم، ان کے فیصلے اور ان کے حقوق اکثر قربان کر دیے جاتے ہیں۔

مذہب اور اخلاقیات مساوات اور انصاف کی تعلیم دیتے ہیں، لیکن روایتی نظام اب بھی خواتین کی زندگیوں پر حاوی ہے۔ لڑکی کو چھوٹی عمر سے ہی خاموش رہنے اور سمجھوتہ کرنے کی عادت ڈال دی جاتی ہے تاکہ وہ ایک ایسی عورت میں تبدیل ہو جائے جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے ہچکچاتی ہے۔ عزت کا تصور صرف عورت کی زندگی کے فیصلوں سے جوڑ دیا گیا ہے، جبکہ مردوں پر وہی اصول لاگو نہیں ہوتے۔ جو خواتین سماجی حدود سے باہر قدم رکھتی ہیں۔ چاہے وہ تعلیم کے میدان میں ہوں، اپنے خیالات کا اظہار کریں یا اپنے جائز حقوق کے لیے کھڑی ہوں۔ انہیں ناپسندیدہ، باغی یا سماج دشمن سمجھا جاتا ہے۔

حقیقی تبدیلی تب ہی آئے گی جب خواتین کا احترام کسی شرط کے بغیر کیا جائے گا۔ جب انہیں صرف بیٹی، بیوی یا ماں کے رشتوں تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر ان کے حقوق، خوابوں اور امنگوں کو تسلیم کیا جائے۔ ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہے جہاں خواتین کو بنیادی وقار اور برابری کے لیے جدوجہد نہ کرنی پڑے بلکہ یہ حقوق انہیں از خود میسر ہوں۔

پاکستانی معاشرے میں خواتین کو الفاظ میں تو بہت بلند مقام دیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں انہیں اکثر بنیادی حقوق کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ان سے فرماں بردار بیٹی، قربانی دینے والی بیوی اور بے غرض ماں بننے کی توقع کی جاتی ہے، لیکن جب وہ خود کو منوانا چاہتی ہیں، تو انہیں روایتی حدود کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جو عورت زیادہ تعلیم حاصل کرنا چاہے، اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جو بیوی اپنے ازدواجی رشتے میں عزت کا مطالبہ کرے، اسے خود غرض سمجھا جاتا ہے۔ جو ماں اپنے بڑھاپے میں مالی تحفظ چاہے، اسے بوجھ قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ نا انصافی اس قدر عام ہو چکی ہے کہ بیشتر خواتین اسے اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں۔ روایتی اقدار اکثر ان مذہبی تعلیمات پر حاوی ہو جاتی ہیں جو خواتین کے لیے انصاف اور مساوات کا درس دیتی ہیں۔ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حق دیا، مگر آج بھی بیٹی کو جائیداد دینا احسان سمجھا جاتا ہے، حق نہیں۔ خواتین کو نکاح میں اپنی مرضی کا اختیار دیا گیا، مگر آج بھی بے شمار لڑکیوں کی شادیاں ان کی رائے کے بغیر کر دی جاتی ہیں۔ یہی معاشرہ جو حضرت خدیجہؓ کی خودمختاری کی تعریف کرتا ہے، وہی آج کی عورت کو مالی آزادی حاصل کرنے سے روکتا ہے۔

عورت کا مقام اس کی برداشت اور قربانی سے نہیں، بلکہ اس کے خوابوں، اس کی کامیابیوں اور اس کے حقوق سے طے ہونا چاہیے۔ جب تک یہ حقیقت قبول نہیں کی جاتی، ترقی ایک سراب بنی رہے گی اور خواتین کا احترام محض اس وقت کیا جائے گا جب وہ سماجی توقعات کے مطابق زندگی گزاریں، نہ کہ بطور فرد اپنے حقوق کے ساتھ کھڑی ہوں۔

ہمیں یومِ خواتین کے موقع پر اس سال کے پیغام ”تیزی سے عمل کریں“ (Accelerate Action) اس دن کو ایک عملی تحریک میں بدلنے کا عزم کرنا ہو گا۔ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب خواتین کو مواقع فراہم کیے جائیں، ان کی آواز کو تقویت دی جائے، اور ان کی کامیابی کے لیے ضروری وسائل مہیا کیے جائیں۔ اگر ہم ایک بہتر، منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہمیں خواتین کی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کی جدوجہد کو تسلیم کرنا اور ان کے حقوق کی مکمل پاسداری کرنی ہوگی۔

Facebook Comments HS