پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 7 )
آج کی تیز رفتار زندگی میں دوستی کے آداب اور انداز بدل گئے ہیں۔ اب دوستی فیس بک پر ہو جاتی ہے اور اسنیپ چیٹ پر اسٹریک کا زمانہ ہے۔ دوست کی سالگرہ اس لئے یاد رہتی ہے کہ فیس بک پر اس کا نو ٹیفکیشن آ جاتا ہے۔
میں اس دور میں پیدا ہوئی تھی جب نانا اور چچا نانا کی دوستی ٹرین میں ہوئی تھی ان کے بعد اگلی نسل امی اور عرفان ماموں پھر میں اور عارفین اور اب چوتھی نسل پرما اور سکینہ ہیں۔ یہ دوستی کب خونی رشتوں سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی معلوم نہیں۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگوں کے پاس سفر کرنے کے لئے اپنی گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں اور ایک دوسرے سے ملنے کے لئے کئی بسیں بدل کر مطلوبہ منزل تک پہنچا جاتا تھا۔ لوگ اتنے مصروف نہیں ہوئے تھے جیسے آج ہیں۔
نانا اور چچا نانا ایک دوسرے کے لیے دوست کم اور بھائی زیادہ تھے۔ مجھے یاد ہے جب چچا نانا گاڑی میں سب کو ٹھسم ٹھس بھر کر نکلتے تو عرفان ماموں کو روٹ پہلے سے بتا دیا جاتا اور وہ کئی گھروں سے ہوتے ہوئے ہمارے گھر پہنچتے گاڑی کا ہارن سنتے ہی میں اور سحینا باتھ روم کی طرف دوڑتے تاکہ وہاں ٹنگا اپنا کرتہ پاجامہ پہن لیں ہم دونوں فراک اسکرٹ بلاؤز یا جینز پہنتے تھے اور چچا نانا کو یہ مغربی پہناوا بالکل پسند نہیں تھا وہ ہم دونوں کو دیکھتے ہی کہتے کے ابھی فرنگی لباس بدلا ہے۔ اور ہم سر جھکا کر کہتے جی چچا نانا ہم جھوٹ نہیں بول پاتے اور وہ ہماری سچائی پر یا شاید امی سے اپنی محبت کی وجہ سے ہمیں کچھ نہ کہتے۔
ہم سب کو آداب کیا کرتے تھے اور چچا نانا کہتے کہ بیٹی سلام کیا کرو لاکھ کوشش کے باوجود ان کے سامنے منہ سے آداب نکل جاتا اور پھر ہم جلدی سے سلام کر کے وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتے۔
عارفہ خالہ جب تک زندہ رہیں نانا کے ذکر پر ان کی آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔ رضوان ماموں نے جب لندن جانے کا ارادہ کیا تو چچا نانا اس کے لئے بالکل تیار نہیں تھے۔ یہ نانا تھے جنھوں نے رضوان ماموں کو اس سفر کی اجازت دلوائی تھی۔ نانی اماں کو جب ڈینٹسٹ کے پاس جانا ہوتا رضوان ماموں الہ دین کے جن کی طرح حاضر ہو جاتے تھے۔
میری پیدائش پر عرفان ماموں اور صالحہ مامی اتنے تحائف لائے تھے کہ رحمت ماموں نے کہا تھا یہ تو کمرہ ایسے بھر گیا جیسے جہیز کا سامان ہو۔ مجھے آج بھی سعدیہ، عارفین، بینا، زینت، زیبا اور ارم کی سالگرہ یاد رکھنے کے لئے فیس بک کے نوٹیفیکیشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔
زندگی بہت تیزی سے آگے بڑھی ہے مگر آج بھی وہ رشتے ان سے جڑی یادیں دل پر نقش ہیں۔ شاہ فیصل کے اس گھر میں نہ اب چچا نانا ہیں نا چچی نانی، عرفان ماموں، عارفہ خالہ، عمران ماموں، فہمیدہ مامی سب اب شہر خموشاں میں سو رہے ہیں مگر وہ دوستی جو لگ بھگ ساٹھ سال پہلے ٹرین میں ہوئی تھی وہ زندہ رہ جانے والے آج بھی نبھا رہے ہیں۔
پرما جب تمہارے اور فرجاد کے دوست گھر آتے ہیں تم سب ساتھ گھومنے جاتے ہو۔ تم سب کے قہقہے گھر میں گونجتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے کہ آج کے اس الیکٹرانک دور میں بھی انسان کا انسان سے تعلق برقرار ہے۔ دوست جو قوت دیتے ہیں ان کی وجہ سے زندگی میں جو رنگوں کی قوس و قزح ہوتی ہے اس کا کیا کہنا۔ زندگی بہت تیز چل رہی ہے تم دونوں پرانے دوستوں کو یاد رکھنا اور نئے دوست بنانا اور کوشش کرنا کہ ان دوستوں کی سالگرہ تمہیں خود یاد رہے فیس بک کے نوٹیفیکیشن کی ضرورت نہ پڑے۔


