چولستان اور تھر پہ مشتمل نیا صوبہ وقت کی ضرورت کیوں؟


مسئلہ یہ درپیش تھا کہ قلعہ دیراوڑ کو اندر سے دیکھنے کی اجازت امیر آف بہاول پور کے صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب سے لینا پڑتی تھی کیونکہ قلعہ کی چابی ان کے خاص کارندے کے پاس تھی اور یہ اجازت صرف بہت ہی اہم حکومتی شخصیات یا غیر ملکی سفیروں وغیرہ کے لیے ہی دی جاتی۔ ہم ٹھہرے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طلباء، ہماری اتنی پہنچ تو نہ تھی۔ یہ بات ہے پچیس سال قبل کی جب انٹرنیشنل چولستان جیپ ریلی کا نام و نشان تک نہ تھا اور قلعہ دیراوڑ بھی اس حالت میں تھا کہ اب گرا تب گرا۔ وہ تو بھلا ہو کسی بڑے فوجی دماغ کا جس کو دیراوڑ کو انٹرنیشنل ٹورازم میں متعارف کرانے کا آئیڈیا سوجھا اور اس ”بھوت خانے“ کی قسمت بھی جاگ اُٹھی۔

خیر، ایک پولیس افسر جو اُسی علاقہ میں تعینات تھا اور وہ اسلامیہ یونیورسٹی میں کسی شعبہ میں بھی زیرِ تعلیم تھا اُس نے ہمارے اساتذہ کو کہا ”کوئی مسئلہ ہی نہیں“ ۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے چابی وہاں پہنچ گئی۔ ساڑھے آٹھ سو سالہ قدیم قلعہ طویل عرصہ سے بند چلا آ رہا تھا اور عوام میں مشہور تھا کہ اندر جنّات کے قبیلوں کی رہائش ہو چکی ہے اور اب کوئی انسان قلعہ کے اندر رات نہیں گزار سکتا۔ قلعہ کے اندر ہماری نظریں بھی مسلسل جنّات کو ڈھونڈ رہی تھیں شاید اس بوسیدہ کمرے میں ہوں شاید اس بوسیدہ ستون کے پیچھے چُھپے ہوں۔

اندر سے سیڑھیاں چڑھ کر جب قلعہ کی فصیل پہ پہنچے اور چاروں طرف صحرا پہ نظر پڑی تو ایک ہیبت سی طاری ہو گئی۔ وحشت ہی وحشت۔ قلعہ کے اندر صدیوں پرانے تہہ خانہ میں اترے تو ایک کلاس فیلو لڑکی نے مجھے ڈرانے کے لیے درقطنی چھوڑی ”اکبر! صدیوں پرانے قلعوں کے بوسیدہ تہہ خانوں میں جنّات اور شیش ناگوں کا بسیرا ہوتا ہے“ ۔ اُس کی اس بات سے تو میں نہ ڈرا لیکن جب اس نے کہا ”لگتا ہے تہہ خانے کی بوسیدہ چھت نیچے آنے والی ہے اور ہم سب دفن ہونے والے ہیں“ تو اگلے لمحے اکبر تہہ خانے سے باہر تھا۔

قلعہ دیراوڑ کا وہ وزٹ میرے تحت الشعور کے کسی لاکر میں محفوظ ہو کر رہ گیا۔ یہ اسی تحت الشعور کی یاد کا اثر تھا کہ راقم نے دسمبر 2020 میں افسانہ بعنوان ”آباد شہر کے ویران ہوتے لوگ“ لکھا جو فیس بک پہ اردو افسانوں کے عالمی ایونٹ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ بلاگ ویب سائٹ ”ہم سب“ پہ بھی شائع ہوا۔ اس افسانہ کی چند لائنیں یہاں رقم کرتا ہوں۔

”ہر طرف گُھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ رات اتنی تاریک اور گہری سیاہ کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ سردی ایسی کہ ہڈیوں کو بھی کپکپا دینے والی۔ اوپر سے یخ تیز ہوا چل رہی تھی گویا راہ چلتے ہوئے انسان کو راستے میں ہی جما دے گی۔ ایسے میں شعلہ اگلتی دو سرخ آنکھیں کسی نامعلوم ہدف کی طرف بڑھ رہی تھیں“ ۔

” بُڈھا سائیں، آپ کہتے ہو کہ قلعہ دیراوڑ کے اندر اور نوابوں کے شاہی قبرستان میں جنّات کا بسیرا ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ان کو؟“ ، نواز چنڑ نے پوچھا۔

بُڈھا بلوچ نے جو عمر کی اسّی بہاریں دیکھ چکا تھا، مسکرا کر نواز کو دیکھا اور پھر آگ میں تھوڑا سا بالن اور ڈال دیا تاکہ خود کو اور الاؤ کے اردگرد بیٹھے دیگر چولستانیوں کو سردی کی شدت سے محفوظ کر سکے۔

”شالا جوانیاں مان ہوں تیری، میں کیا، ہمارے بڑے بھی یہی کہتے آئے ہیں کہ جب سے نوابوں نے اس قلعے سے کوچ کیا اور ڈیرہ نواب اور بہاولپور شہر میں جا کے ڈیرے لگائے، یہاں پھر جنات کے قبیلوں نے اپنا شہر آباد کر لیا۔“

”سائیں، میں یہ پوچھ رہا تھا، آپ تو قلعہ دیراوڑ کے اندر درختوں اور جھاڑیوں سے اپنی بکریوں کے لیے خوراک لینے جاتے ہو، کبھی وہاں جنوں کو چلتے پھرتے دیکھا؟ کیسے ہوتے ہیں وہ، ہم انسانوں کی طرح یا بہت خوفناک شکلوں والے؟“

احباب! پانچ مارچ 2025 کو جب میں یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو آج کا قلعہ دیراوڑ اب انٹرنیشنل جیپ ریلی کی بدولت نہ صرف عالمی میڈیا کا موضوع ہے بلکہ اب پاکستان آرمی کی زیرِ سرپرستی وہ اپنی شکل بھی بدل چکا ہے۔ نہ صرف قلعہ دیراوڑ اب تو چولستان بھی مکمل صحرا نہیں رہا۔ کیا خیال ہے چولستان اور تھر پہ مشتمل نیا صوبہ نہ بنا دیا جائے؟ سندھ کا بھی بھلا، پنجاب کا بھی بھلا اور تو اور پورے پاکستان کا بھلا۔ چولستان اور تھر پہ مشتمل اس نئے صوبے کو مکمل طور پہ دبئی کے ماڈل پہ ڈیزائن کر کے اسے دبئی کا متبادل بنا دیا جائے جہاں نہ صرف پوری دنیا کی بزنس کمپنیاں اپنے دفاتر قائم کریں بلکہ پوری دنیا کے سیاح یہاں آ کر رہیں اور اشیاء کی خرید و فروخت کے حوالے سے یہ مکمل ڈیوٹی فری یعنی ٹیکس فری صوبہ ہو۔

بھارت سے معاہدہ کر کے تاریخی ہاکڑہ دریا کو بحال کرائیں جس میں بھارتی ڈیموں سے پانی چھوڑا جائے۔ ہاکڑہ دریا چولستان سے ہوتا ہوا سیدھا تھر کے اندر جا کر پھر کیٹی بندر کے راستہ سمندر سے جا ملے۔ چولستان سے تھر جاتے ہوئے اس ہاکڑہ دریا کے کناروں پہ پوری دنیا کے سیاحوں کی کشش کے لیے سینکڑوں کلومیٹرز طویل سفاری پارک بنایا جائے۔ یہ پارک ہاکڑہ دریا کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ چلے جس میں پوری دنیا سے جنگلی جانوروں کی تمام اقسام لا کر ان کی افزائش کی جائے۔ دریائے ہاکڑہ کے اندر سفاری کروز چلائے جائیں اور پوری دنیا سے آئے سیاح کروز میں بیٹھے چولستان سے تھر تک اس سفاری پارک کا نظارہ کرتے جائیں۔ راستہ میں دریا کے کنارے پہ جدید شہر آباد کیے جائیں جہاں فائیو سٹارز ہوٹلز، فوڈ سٹریٹس اور ڈیوٹی فری میگا شاپنگ مالز ہوں۔

دریائے ہاکڑہ کے دائیں کنارے پہ چولستان سے تھر تک ریل ٹریک ڈال کر سفاری ٹرین چلائی جائے اور بائیں کنارے پہ چھ لین موٹر وے بنائی جائے جو چولستان سے تھر میں داخل ہو کر ٹھٹھہ کو جا ملے۔ کچھ دوست میری اس تجویز پہ ہنس رہے ہوں گے کہ یہ کیا دیوانے کی بڑ ہے۔ کیا موجودہ دبئی، شارجہ اور ابو ظہبی ماضی میں صحرا نہیں تھے؟ اب وہاں موٹر ویز کیسے آ گئیں؟ قوموں کے اندر خودداری والا مائنڈ سیٹ پیدا کیا جائے تو لق و دق صحرا اور بنجر بے بیان پہاڑوں والی سرزمین بھی سپر پاور امریکہ اور سپر پاور چین بن جاتی ہے ورنہ کشکول تو ہے نا۔ میری اس تجویز کو عملی جامہ پہنا دیا جائے تو اس سے سالانہ آمدن کھربوں روپے نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز ہو گی۔

اکبر شیخ اکبر تو تجویز دیتا ہے کہ پاکستان اٹھارہ سے انیس نئے صوبے فوراً بنائے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش بھی اپنے موجودہ صوبوں کی تعداد کو ڈبل کر دیں۔ مجھے اندازہ ہے قارئین کی ایک تعداد کو میری اس تجویز سے غصّہ آ گیا ہو گا تو پھر کیا ”گریٹر پنجاب“ اور ”گریٹر سندھ“ کے گیت گاتے ہوئے کروڑوں لوگوں کی محرومیوں، غربت، بے روزگاری اور مسائل کو جوں کا توں رہنے دیا جائے؟

پاکستان اس وقت اڑتیس ڈویژن رکھتا ہے۔ آپ ہر دو ڈویژنز پہ مشتمل ایک نیا صوبہ بنا دیں یا پھر جس ڈویژن مثلاً لاہور کی آبادی سال 2023 میں دو کروڑ ستائیس لاکھ سے زائد دکھائی گئی ہے تو اس اکیلے لاہور ڈویژن پہ مشتمل ایک صوبہ بنا دیں اور جہاں ڈویژن کم آبادی رکھتے ہوں تو وہاں دو ڈویژن پہ مشتمل ایک صوبہ بنا دیں۔

بہاول پور ڈویژن کی آبادی سال 2023 میں ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد دکھائی گئی۔ چونکہ بہاول پور ماضی میں آئینِ پاکستان میں باقاعدہ آئینی صوبے کی حیثیت رکھتا تھا جس کی اپنی قانون ساز اسمبلی اور اپنا گورنر اور وزیرِ اعلیٰ تھے تو بہاول پور صوبہ کو ایگزیکٹو آرڈرسے بحال کر دیں۔ ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کی مجموعی آبادی سال 2023 میں دو کروڑ باسٹھ لاکھ سے زائد تھی، ان کو بھی علیحدہ علیحدہ یا ایک صوبہ بنا دیں۔ فیصل آباد سال 2023 میں ایک کروڑ باسٹھ لاکھ سے زائد آبادی رکھتا تھا اسے ایک صوبہ بنا دیں۔ گوجرانوالہ اور گجرات کی سال 2023 میں مجموعی آبادی ایک کروڑ پچاسی لاکھ سے زائد تھی، ان دونوں پہ مشتمل ایک صوبہ بنا دیں۔

کراچی کی آبادی سال 2023 میں دو کروڑ سے زائد دکھائی گئی ہے جب کہ حقیقت میں کراچی تین کروڑ سے زائد آبادی رکھتا ہے آپ اکیلے کراچی پہ مشتمل ایک مکمل صوبہ بنا دیں۔ حیدرآباد اور لاڑکانہ کی مجموعی آبادی ایک کروڑ چھیاسی لاکھ سے زائد دکھائی گئی ہے آپ ان دونوں پہ مشتمل ایک صوبہ بنا دیں۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہر دو ڈویژنز پہ مشتمل ایک صوبہ بنا دیں۔

دیکھیں، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ میری اس تجویز سے کچھ دوستوں کو بہت شدید غصّہ آ رہا ہے اور میرے اس بلاگ کے شائع ہونے کے بعد تنقید اور ٹرولنگ کی توپیں گولے اگلنا شروع کر دیں گی لیکن میرے اس سوال کا جواب دیجیے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ گریٹر پنجاب، گریٹر سندھ اور بہت زیادہ آبادی اور بڑے بڑے زمینی رقبوں پہ مشتمل موجودہ صوبوں کو گالیاں ملتی رہیں؟ عام آدمی اس وقت بڑی تکلیف کا شکار ہے، نئے صوبوں کا قیام اس کے مسائل کو کم کر سکتا ہے۔ عام آدمی چاہے وہ کسی بھی قومیت یا زبان سے تعلق رکھتا ہے ہم اسے لسانیت، قوم پرستی اور شاؤنزم کی خاطر مزید قربانی کا بکرا نہیں بنا سکتے۔

اس کے ساتھ ساتھ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش اپنے اپنے ممالک میں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام لائیں۔ وزیرِ اعظم اور و زیرِ اعلیٰ کے عہدے ختم کر دیے جائیں۔ ملک کا صدر اور گورنر براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئیں جیسے امریکہ اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں ہے۔ پارلیمانی نظام میں خوبیاں ہوں گی لیکن اس کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس نظام میں حکومت کے آپریشنل اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS