کراچی میں پانی کی طلب اور دریائے سندھ کی زندگی کا سوال


کراچی کی پانی کی ضروریات کے لیے، 1991 کے صوبوں کے درمیان پانی تقسیم معاہدے میں شہری اور صنعتی مقاصد کے لیے 1200 کیوسک پانی مختص کیا گیا تھا جس میں سے سندھ کے پانی کے حصے سے 1200 کیوسک پانی کراچی کو مہیا کیا جاتا ہے۔ جبکہ پانی معاہدے سے پہلے کراچی کے شہری مقاصد کے لئے 1988 میں صدر پاکستان نے 1200 کیوسک پانی پہلے سے مختص کیا تھا۔ اس حساب سے سندھ کو وہ پانی بھی ملنا چاہیے تھا۔ یعنی دونوں حصوں کو ملا کر کراچی شہر کے لیے 2400 کیوسک ملنا چاہیے مگر ارسا نے کراچی کے لئے کسی بھی طرح 1200 کیوسک سندھ کے حصے کے علاوہ زائد 1200 کیوسک پانی کی فراہمی سے انکار کیا ہوا ہے۔

کراچی کو دریائے سندھ سے مہیا کردہ پانی 650 ملین گیلن یومیہ بنتا ہے، جو سالانہ تھوڑے سے فرق سے ایک ملین ایکڑ فٹ ( 0.87 MAF) بنتا ہے۔ یہ پانی دریائے سندھ سے کوٹری بیراج کے مقام سے کلری بیگار کینال (KB Canal) کے ذریعے کینجھر جھیل اور پھر مختلف پمپنگ اسٹیشنز سے کراچی شہر کو مہیا کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کراچی کی حالیہ پانی ضروریات کے لئے 1250 ملین گیلن یومیہ پانی کی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کراچی کے لئے پانی منصوبے کے فور K۔ IV کا آغاز کیا گیا ہے جس سے دریائے سندھ سے پانی کی ترسیل کو 2400 کیوسک تک بڑھایا جائے گا۔ اس طرح کراچی کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئے منصوبوں کی تعمیر کے بعد دریائے سندھ سے کراچی کے لئے پرانی گنجائش 1200 کیوسک سے بڑھا کر 2400 کیوسک کرنے کا پروگرام ہے۔ اگر ہم اس حساب کا موازنہ سندھ کی سب سے بڑی پانی لے جانے والی نہر روہڑی کینال سے کریں تو سندھ میں پانی لے جانے والی سب سے بڑی نہر روہڑی کینال کا ڈیزائن 10,887 کیوسک پانی کے لئے ہے۔ جس پر سندھ کی دو لاکھ نوے ہزار ایکڑ اراضی کاشت کی جاتی ہے۔

کراچی شہر میں نئے منصوبوں کی تکمیل کے بعد دریائے سندھ سے کراچی شہر کی پانی کی ضرورت سندھ کی سب سے بڑی کینال روہڑی کینال کے پانی بہاؤ سے محض ایک چوتھائی سے تھوڑا سی کم ہے۔ لیکن اگر حالات کو دیکھا جائے تو دریائے سندھ میں پانی نہ ہونے کی صورت میں کراچی کے شہری بھی شدید خشک سالی کا شکار ہوں گے۔ کراچی کا زیر زمین پانی بھی کھارا اور پینے کے لائق نہیں ہے۔ تب ٹینکروں سے خریدا جانے والا پانی شاید دنیا کی نایاب اور مہنگی ترین چیز ہو۔ لہٰذا کراچی کے شہریوں اور کراچی شہر کے دعویدار سیاستدانوں کو بھی دریائے سندھ پر مجوزہ بننے والی چھ غیر قانونی کینالز کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS