مجھے میرٹ چاہیے


وطن عزیز میں میرٹ کی خواہش کرنا قابل تعزیر جرم بن چکا ہے۔ میرٹ کے لئے صاحبان منصب و اقتدار کے دروازے پر زنجیر عدل ہلانے جاؤ تو دربان الٹا فریادی کو کاٹنے کے لئے دوڑتے ہیں۔ ایسے ظلم پر اب نہ تو زمین پھٹتی ہے اور نہ آسمان گرتا ہے۔ پہلے صرف سنتے تھے اب اپنے ساتھ بیتی ہے تو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے ہمارے اوپر ظلم ڈھانے والا کوئی غیر نہیں ہمارا اپنا بھائی تھا۔ بھائی سمجھ کر کافی عرصہ برداشت کیا مگر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق آخر ایک دن ہم نے قانون کا دروازہ کھٹکٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ پہلے کئی دفتروں میں نہ صرف عرضیاں بھیجیں بلکہ ان کی کاپیاں صدر مملکت، وزیر اعظم، چیف جسٹس، وزیر اعلیٰ، وفاقی اور صوبائی محتسب اور آئی جی تک کو ارسال کیں مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے۔ اتفاق سے جب ایک دن کسی نے بتایا کہ قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر میں ضلع کا پولیس کپتان کھلی کچہری لگانے آ رہا ہے تو ہم نے بھی شنوائی کی امید پر وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا۔

کھلی کچہری والے دن پہلے ہم عرضی نویس کے پاس پہنچے تاکہ ایک اچھی سی درخواست لکھوائی جا سکے۔ عرضی نویس کو بتایا کہ مشترکہ موٹر سائیکل کی فروخت سے حاصل ہونی والی رقم میں سے ہمارا کچھ حصہ بڑے بھائی نے ہڑپ کر لیا ہے اور مطالبہ کرنے پر الٹا سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ بھلا ہو عرضی نویس کا اس نے ہمیں یاد کرایا کہ بھائی نے نہ صرف سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں بلکہ اپنے چار دوستوں کے ساتھ اسلحہ سے لیس ہو کر ہمارے اوپر حملہ آور ہوا اور جاتے ہوئے ہماری جیب سے موبائل نوکیا تینتیس دس اور دو ہزار روپے بھی نکال کے لے گیا ہے۔ درخواست کو فائل کور میں رکھ کر ہم کھلی کچہری کے مقام پر پہنچ گئے۔ سچ پوچھیں تو جاتے ہوئے ہم کچھ گھبراہٹ کا شکار تھے کہ آخر پولیس کے پاس جا رہے تھے مگر وہاں میلے کا سا سماں دیکھ کر ہمیں نہ صرف ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوا بلکہ ہمارے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

پولیس کپتان کے پہنچنے میں ابھی کچھ وقت تھا مگر شہریوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچ چکی تھی۔ کچھ لوگوں نے پھولوں کے ہار اٹھائے ہوئے تھے اور کچھ کے ہاتھوں میں گلاب کے پھولوں سے بھرے شاپنگ بیگز تھے۔ دو ڈھول بجانے والے پنڈال کے داخلی راستے پر موجود تھے جو ہر تھوڑی دیر بعد ڈھول بجا کے ماحول کو گرما رہے تھے۔ ایک دو منچلوں نے تو ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈالنا شروع کر دی تھی۔ منچلوں کا قصور نہیں تھا ڈھول بجانے والے ایسا رنگ جما رہے تھے کہ ایک دفعہ تو ہمارا من بھی دھمال کے لئے مچلا مگر ہم نے اسے یاد دلایا میاں تم یہاں فریادی بن کے آئے ہو۔ صحافیوں اور ٹک ٹاکرز کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اپنے اپنے موبائل کیمرے سٹیج کے سامنے سیٹ کر رکھے تھے۔ چند ایک صحافیوں نے فیس بک پر لائیو پروگرام بھی شروع کر دیا تھا۔ ایک دفعہ تو ہمیں شک گزرا کہ شاید ہم کسی غلط جگہ پر آ گئے ہیں مگر بعد میں ایک پولیس والے نے تصدیق کی کہ آپ ٹھیک جگہ پہنچے ہیں۔ کچھ دیر ماحول سے لطف اندوز ہونے کے بعد پنڈال میں گھوم پھر کر چنا چاٹ بیچنے والے سے بیس روپے کی چاٹ خرید کر ہم پہلی لائن میں ایک خالی کرسی پر بیٹھ گئے۔ کافی دیر انتظار کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر اعلان ہوا کہ کپتان صاحب تشریف لا چکے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں آپ کے سامنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی وردی کی آستینیں چڑھا کر کالا چشمہ لگائے اور گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے ڈھول کی تھاپ پر کپتان صاحب پنڈال کے اندر داخل ہوئے۔ پنڈال میں موجود تمام لوگوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے ہوئے استقبال کیا۔ کپتان نے سٹیج پر پہنچ کر دونوں ہاتھ ہوا میں لہرا کر لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

خدا خدا کر کے تقاریر کا مرحلہ اختتام کو پہنچا تو سائلین کو اجازت دی گئی وہ باری باری اپنی عرض معروض کپتان کے حضور پیش کر سکتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو میلے ٹھیلے جیسے ماحول میں گزرے پچھلے چند گھنٹوں کی وجہ سے ہمارا اعتماد کسی بے وقوف کے اعتماد کی طرح ساتویں آسمان پر تھا اس لئے چھلانگ مار کے سب سے پہلے سٹیج پر پہنچے اور اپنی فائل کپتان کے سامنے رکھ دی۔ ”بھائی اور اس کے چار دوستوں نے آتشیں اسلحہ سے لیس ہو کر تم پر حملہ کیا پھر تم بچ کیسے گئے؟“ درخواست کے سرسری مطالعہ کے بعد کپتان نے پوچھا۔ ہم نے کہا حضور زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، بس آپ میرٹ کر دیں۔ ”اچھا تمہارا نوکیا موبائل اور دو ہزار روپے بھی چوری کر لیے انہوں نے؟ یار خدا کا خوف کرو کچھ، موبائل تو کوئی اور لکھوا دیتے۔ نوکیا تینتیس دس تو اب مارکیٹ میں بھی نہیں ملتا اب۔ حد ہے ویسے“ دوسرے سوال کا جواب بھی ہم یہی دے پائے کہ حضور ہمیں بس میرٹ چاہیے۔ اب میرے ماتھے پر پسینے کے ہلکے ہلکے قطروں کے ساتھ ساتھ پنڈال میں موجود لوگوں کے دبے دبے قہقہے بھی میرے کانوں تک پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ ”چلیں آپ دور سے آئے ہیں، اگر آپ کے بھائی سے آپ کی رقم وصول کرا دیں تو پھر ٹھیک ہے ؟“ درخواست پر دوبارہ سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد کپتان میری طرف مڑے۔ ہم نے کچھ بولنے کی کوشش کی مگر ہونٹ اتنے خشک ہو چکے تھے کہ آواز باہر نہ نکل سکی۔ پھڑپھڑاتے ہونٹوں سے کپتان نے ٹھیک اندازہ لگایا کہ ہم نے ایک بار پھر میرٹ ہی کا تقاضا کیا تھا۔ ”او بھائی میرٹ کوئی فریج میں پڑا ہوا دودھ کا ڈبہ ہے جو اٹھا کے تمہیں دے دوں۔ آخر تم چاہتے کیا ہو؟“ کپتان صاحب اونچی آواز میں دھاڑے۔

سچ پوچھیں تو اب ہمارا صبر اور اعتماد دونوں جواب دے چکے تھے۔ ہمیں اب یقین ہو گیا تھا کہ اس ملک میں میرٹ مانگنا قابل تعزیر جرم بن چکا ہے۔ حالات بگڑتے دیکھ کر ہم نے جلدی سے اپنی فائل اٹھائی اور اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ ”اصل میرٹ تو یہ ہے کہ ایسی جھوٹی درخواستیں دینے والوں کو گرفتار کر کے جیل بھیجنا چاہیے۔ “ پنڈال سے باہر بھاگتے ہوئے پولیس کپتان کے الفاظ میرے کانوں سے ٹکرائے۔

Facebook Comments HS