بچے فکشن کیوں پڑھیں؟


کلاس سے نکلنے کے بعد میں عموماً آہستہ چلتا ہوں تاکہ کسی بچے کو اگر مجھ سے کوئی سوال وغیرہ پوچھنا ہو تو وہ آسانی سے رسائی حاصل کرسکے ایسے ہی ایک دن ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا سر! یہ لیں آپ کا ناول مجھے فلاں استاد نے کہا ہے کہ آپ ناول وغیرہ نہ پڑھا کریں۔ یہ وقت کا زیاں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور دفعہ کالج کے کچھ طالب علم آئے تھے کلاس میں بچوں کو کتاب میلے میں شرکت کے لئے دعوت دینے، بچوں میں سے ایک نے سوال سوال میں پوچھا کہ کیا ہم فکشن پڑھیں؟ تو اس طالب علم نے مفتیانہ طرز پر اسے کرخت طریقے سے منع کیا۔

یہ وہ عمومی تصور ہے جو ہمارے بہت سے اساتذہ اور والدین نے اپنے دامن میں باندھ لیا ہے جس پر انھیں سوچنے اور فکر کرنے سے کوفت ہوتی ہے۔ اپنے حلقہ احباب اور طلباء اور طالبات کو میں نے کئی مرتبہ سمجھایا ہے بغیر فکشن آپ نان فکشن بھی نہیں پڑھ سکتے، کیوں کہ بغیر فکشن آپ کے تصور، فکر، اور جذبات میں وہ گہرائی نہیں آ سکتی جو ایک پڑھے لکھے شخص کو درکار ہے۔

بچوں کو فکشن کیوں پڑھنا چاہیے؟

انسان کی جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ انسان کی خوب سے خوب تر کی تلاش ہے جو رب کائنات نے اس میں ودیعت کی ہے، بہتر سے بہتر کی جستجو، اور یہ جستجو کا سفر ایک کہانی ہے، اس راہ میں ہر مشکل ایک الگ کہانی ہے، محرومیاں بھی کہانی کا روپ دھار لیتی ہیں اور حاصل بھی، ازل سے ہی انسان نے ان حاصل و لاحاصل، غم اور خوشی کو کہانی کے طور پر بیان کیا ہے اسی لئے بقول یووال نوح ہراری انسان ہومو فیکٹس ہیں۔ یہ کائنات کہانی ہے، یہ ایجادات کہانیاں ہیں چاہے خواب کی شکل میں ہو۔ کند سے کند ذہن انسان جو کچھ نہ سمجھتا ہو وہ کہانی سمجھ سکتا ہے۔ تو کہانی ہی ہماری کائنات ہے۔ ہمیں کہانی کو سمجھنا ہو گا۔ چاہے وہ کہانی، داستان ہو، ناول ہو، افسانہ ہو یا افسانچہ ہے انسان کی کاوشوں کی عکاسی کہ وہ دنیا کو کیسے دیکھتا ہے اور اسے کس طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ کہانی اس لیے بھی ضروری ہے کہ انسان سب سے زیادہ کہانیوں سے اثر لیتا ہے جس کی سب سے بڑی مثالیں الہامی کتب ہیں۔

ایجادات کی تاریخ کنگال کر دیکھیے ہر ایجاد ایک کہانی ہے چاہے وہ کہانی نیند میں خواب کی شکل میں ہو یا کسی جاگتی آنکھوں کی فنٹیسی، آپ موبائل کی تاریخ پڑھیں یا جہاز کی وہاں ایجاد بعد میں کہانی اول ہو گی۔

فکشن تصور ( Imagination) کو جلا بخشتا ہے۔ فکشن پڑھنے سے بچے ایسی چیزوں کا تصور کر سکتے ہیں جو انھوں نے دیکھی ہی نہیں اس سے ان کی فکری اور تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں۔ نفسیات دان جیروم برونز کہتے ہیں کہ فکشن بچے کو یہ باور کرواتا ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے، وہ حقیقی دنیا کی مشکلات کو قابل حل سمجھتا ہے۔ میں آٹھویں کلاس میں تھا ایک دن ایک دوست نے غالباً بوڑھا اور سمندر دیا کہ یہ کتاب پڑھیں۔ وہ کتاب جب پڑھی تو اس میں جملہ تھا جو آج تک میرے لئے نسخہ کیمیا کا درجہ رکھتا ہے۔ کہ انسان کو تباہ کیا جا سکتا ہے لیکن اسے کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔

چین میں بچوں کو بہت زیادہ فکشن پڑھایا جاتا ہے تو انگریزی کے ناول نگار نیل گیمن کہتے ہیں میں نے چائنہ میں لوگوں سے پوچھا آپ بچوں کو کیوں فکشن پڑھاتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے آئیڈیاز پہ کام کرتے تھے جو پرانے ہو گئے جب نئے آئیڈیاز لانے والوں کے بارے میں پڑھا گیا اور مشاہدہ سے یہ ثابت ہوا کہ کہانیاں ایجادات اور آئیڈیاز کی ماں ہوتی ہیں تو یہ جواب ملا کے دنیا کے سب نئے آئیڈیاز سوچنے والے بچپن میں فکشن پڑھتے تھے۔

روس میں اسکول کے بچوں کو ہوم ورک کے طور پر چھٹیوں میں کہانیاں پڑھنے کو کہا جاتا ہے اور چھٹیوں کے بعد انھیں یہ کہانیاں کلاس میں سنانی ہوتی ہیں۔ شاید اسی لئے آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ اگر آپ اپنے بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انھیں پریوں کی کہانیاں پڑھائیں اور اگر آپ انھیں زیادہ ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انھیں اور زیادہ پریوں کی کہانیاں پڑھائیں۔

فکشن کا اثر بڑوں پر دیر تک رہتا ہے تو بچوں پر یہ اثر مزید دیرپا ہوتا ہے۔ جن سے نیکی اور راست بازی کے علاوہ اخلاق کی تعلیمات بھی لی جا سکتی ہیں۔ فکشن بچوں میں ہمدردی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ کیوں کہ مختلف لوگوں کے احساسات پڑھ کر آپ ان کے احساسات اور محرومیوں سے ہمدردی کرنے لگتے ہیں۔ پھر آپ زمین والوں پر رحم کرنے والے بن جاتے ہیں۔ 2013 میں کی گئی ایک تحقیق جس میں بتایا گیا کہ وہ بچے جو فکشن پڑھتے ہیں وہ دوسروں کے دماغ، احساسات اور رویوں کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔

تو ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اسکولوں، لائبریریوں اور یہاں تک کہ گھر پر بھی بچوں کو قصے سنائیں اور انھیں قدرت کے تصوراتی نظام کا حصہ بنائیں۔

Facebook Comments HS