جنت نما ضلع کرم جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں
ہم جب جنت کا نام سنتے ہیں تو ہمارے ذہن کی سکرین پر خوبصورت نظاروں، جھرنوں، دودھ اور شہد کے نہروں سمیت غلماں اور حوروں کی تصوراتی فلم چلنے لگتی ہے بالکل اسی طرح اگر کسی نے ضلع کرم دیکھا ہو تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال جنت ثانی کے نام سے آئے گا کہ اگر جنت ثانی ہے تو کرم کا علاقہ پاڑا چنار ہی ہے کیونکہ پاڑا چنار میں بھی ویسے ہی نظارے ہیں، خوبصورت پہاڑ اور دریا ہیں اور لوگ بے حد خوبصورت ہیں۔
ضلع کرم اور بدقسمت پاڑا چنار، یہاں کے موسم حسین ہیں، یہاں کے پہاڑوں نظاروں بارشوں جھیلوں جھرنوں اور دریاؤں کا حسن دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتا ہے
لیکن یہاں کے دکھ، یہاں کی بربادی، یہاں کی نفرتیں یہاں کی دشمنیوں میں ڈھائی گئی قیامتیں اور سب سے بڑھ کر یہاں رچائی جانے والی سازشیں نہ جانے کب سے جاری ہیں اور جانے کب تک یونہی جاری رہیں گی۔ یہاں کے شیعہ سنی فسادات دنوں مہینوں سالوں پر نہیں پوری پوری عمروں پر محیط ہیں۔
یہ لڑائی نہ تو حقیقت میں شیعہ سنی کی لڑائی ہے اور نہ ہی فریقین کے مابین زمین کا تنازعہ ہے بلکہ پس پردہ کوئی تیسری قوت ہے جس کے ان دیکھے ہاتھ ایک ہی پختون قوم کی عوام کو شیعہ سنی کے نام سے لڑاتی ہے اور امن سے رہنے نہیں دیتے حالانکہ دونوں فرقوں کے عوام جنگ سے بیزار ہیں۔
اس خوبصورت سرزمین پر ان کے آبا و اجداد ہزاروں سال سے رہتے آ رہے ہیں جو کہ اس وقت نہ تو سنی تھے اور نہ ہی شیعہ بلکہ ایک باپ کی اولاد کے طور پر مانے جاتے تھے تو اب کس نے ان کو فرقوں میں بانٹ کر نفرتوں کے بیج بوئے حالانکہ سب کے رسم رواج، ثقافت، پشتو اور پشتون ولی مشترک ہیں تو اس کا صاف مقصد یہی ہے کہ وہ ایک ہیں مگر انہیں لڑایا جا رہا ہے اور کوئی تیسرا فریق ان کی لڑائی سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے۔ ”
ضلع کرم جغرافیائی اعتبار سے اس وجہ سے بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہ انگریزی لفظ وی ( V ) کی شکل میں افغانستان کے اندر تک چلا گیا ہے اور اس ایک ضلع کے ساتھ افغانستان کے بارہ ضلعے اور کئی صوبے لگتے ہیں۔ کرم کے کے ساتھ خرلاچی کا مشہور ٹریڈنگ پوائنٹ ہے جس کے ذریعے افغانستان اور پاکستان کے بیچ تجارت ہوتی ہے اور یہ دروازہ تجارتی لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے مگر ایک طرف افغانستان میں طالبان حکومت سے پاکستان کے تعلقات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے اور دوسری طرف کرم میں مسلکی فسادات کی وجہ سے خرلاچی دروازے پر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔
دسمبر 2024 میں پختون قوم کے سرکردہ رہنماؤں اور قبائلی لوگوں نے امن کی خاطر ایک جرگہ ترتیب دیا جس نے دونوں فریقین کے درمیان امن کی بات چیت شروع کر دی مگر اس بیچ خیبر پختونخوا حکومت کو اس جرگے کی بھنک پڑی تو وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے اس جرگے کی بجائے ایک اور جرگہ تشکیل دیا جس میں ایپیکس کمیٹی کو شامل کر کے کوہاٹ میں امن جرگہ منعقد کیا جس میں دونوں فریقین کے سرکردہ لوگوں کو شامل کیا اور یکم جنوری 2025 کو چودہ نکاتی امن معاہدہ تحریر کیا گیا جس میں بند راستوں کو کھولنا، مورچے مسمار کرنا اور دونوں فریقین سے بھاری اسلحہ حکومتی تحویل میں لینا اہم نکات تھے جس میں خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر سیف نے اعلان کیا کہ جس بھی فریق نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف حکومت سختی سے پیش آئے گی اور دونوں فریقین سے اس پر دستخط لئے گئے۔
مگر اس کے باوجود نہ تو کرم کی بڑی سڑک ( جو پاڑا چنار کو صوبے سے ملاتی ہے ) کو کھولا گیا، نہ ہی دونوں فریقین سے اسلحہ حکومتی تحویل میں لیا گیا اور نہ ہی سارے مورچے مسمار کیے گئے بلکہ پاڑا چنار کے لئے مقامی تاجروں کے سامان سے لدے ٹرکوں کے کانوائے بنائے گئے جس کے پہلے ہی دن 4 جنوری کو ضلع کرم کے ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہو گئے اور اس کے بعد کرم کے اسسٹنٹ کمشنر کو بھی قاتلانہ حملے میں دہشت گردوں نے شدید زخمی کیا جس کے بعد حکومتی اعلان پر بگن کے علاقے کو عوام سے خالی کروا کر ان کو ٹل کے علاقے میں بنائے گئے ایک کیمپ میں منتقل کرنے کے بعد دو تین دنوں کے لئے آرمی کی سربراہی میں بگن کے علاقے میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کے بعد حکومت خاموش تماشائی کی مانند بیٹھ گئی اور اس دن سے آج تک مختلف اوقات میں خوارج نے ٹرکوں کے کاروان لوٹنے کے بعد جلائے اور ساتھ ہی ٹرکوں کے بے گناہ ڈرائیوروں اور آرمی کے ایک سپاہی کو زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔
اسی طرح پاڑا چنار میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے کیونکہ وہاں کی عوام بیروزگاری اور اناج نہ ہونے کی وجہ سے کھانے کے لقمے لقمے کے لئے ترس گئے ہیں، بیمار زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، اینٹی بائیوٹکس اور انسولین ناپید ہو گئے ہیں اور ساتھ ہی پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ایک لیٹر ہزار بارہ سو کا بلیک میں بک رہا ہے، تعلیمی نظام درہم برہم ہو گیا اور آٹھ سال کی عمر سے بڑے بچے ذہنی بیمار ہونا شروع ہو گئے ہیں تو پاڑا چنار کی عوام پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج بن گئے اور اپنے حقوق کے لئے کئی دنوں سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
دوسری طرف اہل سنت ایک ماہ سے بگن بازار اور اب پشاور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے مسمار شدہ بازار کو تعمیر کروا کر لوگوں کو واپس اپنے علاقے میں آباد کروایا جائے مگر خیبر پختونخوا کی حکومت کی کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور جب راقم نے ایف ڈی ایم اے کے ایک افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا ”کہ ہم نے سروے کر لیا ہے جس میں سینکڑوں کی تعداد میں دکانیں اور مکانات شامل ہیں مگر حکومتی طریقہ کار میں اس عمل کا دورانیہ تھوڑا لمبا ہوتا ہے کیونکہ حکومت پہلے اس کو ٹینڈر کرے گی جس کے بعد تعمیرات کا عمل شروع ہو گا“
حکومت وقت سے یہی کہنا چاہوں گا کہ خدارا ضلع کرم کے عوام کو زندہ درگور ہونے سے بچائیں کیونکہ ایک طرف لوگ جنگ کی وجہ سے مر رہے ہیں تو دوسری طرف بھوک سے مر رہے ہیں اور اگر آپ ان کو اس قیامت صغرا سے بچائیں گے تو پاکستان کو بچا پائیں گے بصورت دیگر ایسا نہ ہو کہ وہاں کے لوگ آپ کی بے توجہی کی وجہ سے اگر باغی ہو گئے تو پھر آپ صرف ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور سوچتے رہیں کہ اس سارے کھیل میں عالمی سازشیں کارفرما تھیں اور پھر یہ ضرب المثل یاد آئے گی
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت


