مسیحا سنڈروم کا شکار چند شخصیات انجینئر محمد علی مرزا کے نرغے میں


انجینئر محمد علی مرزا نے بقول آفتاب اقبال ان کا سویا ہوا بھٹی جگا دیا ہے، چند ہنسانے والوں کے بیچ شگوفے چھوڑ کر دانشوری بگھارنے والوں کی عزت نفس بہت جلد مجروح ہوتی ہے، آئینہ دکھانے یا حقائق گویائی کرتے وقت لہجے اوپر نیچے ہو جاتے ہیں لیکن اس قسم کے طرزِ تخاطب سے حقائق نہیں بدلتے وہ وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔

جب آپ دوسروں پر ہنستے ہیں یا ڈمی میوزیم سے ڈمی شخصیات کو کٹہرے میں لاکر خوب ٹھٹھا اڑا سکتے ہیں تو خود پر ہنسنے یا تنقید کا ظرف اور حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔

شخصیت پرستی، خود کی محبت میں فنا ہو کر دیوتائی رویہ اختیار کرنا، بے اعتنائی کی سی کیفیت میں اور متکبرانہ انداز میں دوسروں کا چیزہ لینا کمزور یا بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

ساری زندگی ٹی وی پر بیٹھ کر یہی کچھ تو کیا ہے تو پھر تھوڑی سی تنقید یا حقائق کی درستگی پر اتنا تلملانے کی کیا ضرورت ہے؟

کون نہیں جانتا کہ اس قوم کے ساتھ کیسے کیسے ذہنی کھلواڑ کیے گئے ہیں، نجانے کتنی بار حقیقی منظر نامے کو مذہب و روحانیت کے نام پر اسموک سکرین کیا گیا، اس قوم کی حقیقی ذہنی صلاحیتوں کو مسیحائی کے سراب میں کچلا گیا، انہونے سپنے دکھائے گئے اور بالشتیے مفکرین نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے نوجوانوں کے ذہنوں میں غلط حقائق کے نام پر زہر گھولا اور ان کے تنقیدی شعور کو مسخ کرنے کے لیے جھوٹ در جھوٹ اس قدر ڈھٹائی سے بولا گیا کہ سچ لگنے لگا۔

سلسلہ نسیم حجازیاں کے تسلسل نے شروع دن سے ہی نوجوانوں کے ذہنوں کو جکڑ کے رکھا ہوا ہے، ان کی فکر پر ایک ان دیکھے آسیب کا سایہ خاصا گہرا ہو چکا ہے، اسی لیے تو یہاں عقیدت پرستی اور دست بوسیوں کا چلن ہے، تنقید اور تنقیدی رویے کیا ہوتے ہیں اس جوہر سے آج کا نوجوان بالکل ہی فارغ ہے بس تسلیم پر اکتفا کیے ہوئے ہے۔

جھوٹ پر سچ کا گاڑھا لیپ کرنے کے لیے نجانے کتنے اصحاب کی خدمات سے استفادہ کیا گیا، ان میں ہر مکتب فکر کے لوگ شامل تھے جنہیں یہ ٹاسک دیا گیا کہ تیار کیے گئے مسیحا کو اوتاری ہستی ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دو، اب تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پوسٹ ٹروتھ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور نجانے کب تک اس قوم کو اس کربناک کیفیت سے گزرنا پڑے کون جانے؟

اسی لیے آج کا نوجوان کچھ سننے کو تیار ہی نہیں ہے، مکالمے کی بجائے گالی کو ترجیح دیتا ہے، حقائق کی چھان بین کرنے کی بجائے عارضی بندوبست کے تحت فیڈ کیے گئے حقائق کو ہی سچ ماننے پر بضد ہے۔

اس طرح کی ذہن سازی کرنے میں آفتاب اقبال اور عمران ریاض خان پیش پیش تھے اور اب بھی یہی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، اب انجینیئر محمد علی مرزا نے چند سوالات اٹھائے، سابقہ اور موجودہ سیاسی منظر نامے پر خاصی کھل کے باتیں کیں، ظاہر ہے اس کے لپیٹے میں وہ لوگ بھی آ گئے جو اس نظام سے صحافت کے نام پر شہرت کما رہے تھے اور بینفشری تھے۔

مرزا جی سے نظریاتی و علمی اختلاف اپنی جگہ پر لیکن وہ کسی حد تک سیاسی بصیرت بھی رکھتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ وہ سیاسی راہداریوں سے خاصی شناسائی رکھتے ہیں۔

ان کے مذہبی میدان کو تو خیر علماء ہی بہتر جانتے ہوں گے ہم ایسے تو گناہ گار اور دنیا دار سے لوگ ہیں، سیاست کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کچھ ایسا کہہ گئے کہ جس کی تپش کو آفتاب اقبال اور عمران ریاض خان نے خاصا محسوس کیا ہے بلکہ اس کی چبھن کو دل سے ہی لگا لیا ہے۔

کلپ بازیاں چل رہی ہیں، مناظرے کی باتیں ہو رہی ہیں، ایک دوسرے کو تہذیب سکھائی جا رہی ہے، لہجوں کی ترش روی اس قدر بڑھی کہ ایک طرف سے انجینئر کی جگہ مولوی کا صیغہ جڑ دیا گیا اور دوسری طرف سے ”وڑنا یا تن دیا“ کے الفاظ سننے کو ملے، سوال یہ ہے کہ حقائق بہ مبنی سوال کوئی انجینئر پوچھے یا عام آدمی، سیاست نامے پر گفتگو یا رائے کا اظہار کوئی خاص شخص کرے یا معمولی اتنا سیخ پا ہونے کی کیا ضرورت ہے؟

عارضی بندوبست کے جو بینفشری ہیں ان کا یہ سستا سا نشہ یا خمار کب اترے گا کہ سیاسی منظرناموں کے 100 فیصد سچے حقائق صرف انہی کے پاس ہیں باقی سب تو اول درجے کے بیوقوف اور خالی الدماغ ہیں۔

ان کے دماغوں میں شخصیت پرستی اور اپنی سچائی کے متعلق 100 فیصد درست ہونے کے تیقن کا سراب اس قدر سرایت کیوں کرچکا ہے کہ وہ اپنے ماضی یا مسیحا کے متعلق کچھ سننا ہی نہیں چاہتے؟

مسیحا سنڈروم کا شکار یہ بالشتیے مفکرین کب اپنے ذہنی سراب سے باہر نکلیں گے؟

خدا کے لیے اس قوم پر رحم کریں، ریاست مدینہ سے لے کر نجانے کتنے مذہبی و روحانی ٹچ دیے گئے کہ کسی طرح سے مسیحا سنبھل جائے پلیز اب بس کریں، اس قوم کے نوجوانوں کے ذہنوں کو آزاد کر دیں، ان کو بھی فکری آزادی کا مزہ چکھنے دیں، آپ کی تو ملک سے باہر رہ کر بھی پوری پڑ رہی ہے لیکن رل تو اس دھرتی کا وہ نوجوان گیا ہے جسے والدین بڑی مشکل سے پڑھا لکھا کر پاؤں پر کھڑا کرتے ہیں، تم نے تو اس کے فہم کو ہی مسیحائی کے جھوٹے سراب کے عوض ہتھیا لیا ہے، المیہ یہ ہے کہ یہ دماغ تو رکھتے ہیں لیکن سوچنے سمجھنے سے بالکل عاری ہوچکے ہیں

Facebook Comments HS