تنہائی کی تین وجوہات


تنہائی بظاہر اکیلے رہنے کا نام ہے۔ کیا یہ صحیح ہے۔ زیادہ تر لوگ اس بات پر اتّفاق کریں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ آپ اکثر افراد کے جھمگٹے میں گھرے ہوں گے مگر پھر بھی تنہا ہوں گے۔ تنہائی ایک احساس کا نام ہے جو ہر دم آپ کے ساتھ لگا رہتا ہے۔ آپ کے ارد گرد آپ سے بظاہر شدید محبّت رکھنے یا اس کا اظہار کرنے والے لوگ ہوں گے مگر آپ پھر بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کریں گے۔ ماہر نفسیات اس کیفیت کو ڈپریشن یا اعصابی دبا‎ؤ کا نام دیں گے اور کچھ دوائیں تجویز کر دیں گے اور تھیراپی کا مشورہ دیں گے۔ لیکن مسئلہ تب بھی حل نہیں ہو گا۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے

میرے خیال میں اس کی پہلی وجہ آپ کی اپنی ذات، دوسری وجہ آپ کا معاشرہ میں مس فٹ (Misfit) ہونا اور تیسری سب سے بڑی وجہ لوگوں کی خودغرضی ہے۔ اب ہم ان تینوں وجوہات پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

1۔ اپنی ذات یا شخصیت:

ہر شخص کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے جو دوسروں سے مختلف ہوتی ہے وہ زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہے۔ کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے اپنے لئے دنیا میں ایک الگ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس میں یہ سب کچھ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اسے قدم قدم پر رکاوٹیں ملتی ہیں جنہیں وہ عبور کرنے یا دور کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اس طرح اسے جو کچھ میسّر آتا ہے اس پر قناعت کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ وہ ایک ایسے تنکے کی مانند ہوتا ہے جو دریا کے بہاؤ پر بہتا ہوا کہیں سے کہیں چلا جاتا ہے اور اس کی کوئی منزل نہیں ہوتی لیکن جہاں کہیں وہ اٹک کر رک جاتا ہے وہی اس کی منزل تصوّر کی جاتی ہے۔

لیکن دنیا کے تمام افراد ایسے نہیں ہوتے۔ وہ ان رکاوٹوں کو دور کرنے میں کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔ انہیں دوسروں کا مستقبل روندنے، ان کا ذریعہ معاش تباہ کرنے اور انہیں کچلنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا، کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی، انہیں صرف اپنے کام اور کامیابی سے مطلب ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ہر بڑا آدمی ہزاروں لوگوں کے کندھوں پر سوار ہو کر اوپر پہنچتا ہے۔ ان دو قسم کے افراد کے علاوہ تمام افراد ان دو انتہاؤں کے درمیان رہتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔ تاہم ان میں کچھ افراد کا جھکاؤ ایک طرف اور کچھ کا دوسری طرف ہوتا ہے۔

2۔ معاشرہ:

تنہائی کی دوسری سب سے بڑی وجہ معاشرہ ہے۔ چونکہ انسان ایک معاشی حیوان ہے وہ معاشرہ سے الگ ہو کر نہیں رہ سکتا۔ اسے اسی معاشرہ میں زندگی گزارنی ہوتی ہے جس میں وہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس کی سوچ، اس کے خیالات، اس کی شخصیت معاشرہ سے میل نہیں کھاتی تو اسے ایک قسم کی تنہائی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ اس کی سینکڑوں مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن اپنی بات کو سمجھانے کے لئے یہاں صرف چند ایک کا تذکرہ ہی کافی ہو گا۔ اگر آپ ایک خاندان کو لیں اور اس میں پائے جانے والے رسم و رواج کا جائزہ لیں جن کی پابندی اس خاندان کے ہر فرد پر ضروری ہو۔

لیکن اس خاندان میں ایک شخص ایسا ہو جس کے لئے ان رسم و رواج کی کوئی اہمیت نہ ہو یا وہ ان سے روگردانی کرے تو وہ شخص تنہا ہوجاتا ہے۔ چاہے وہ اپنے خاندان کا کتنا ہی خیال کرے۔ جیسے ایک خاندان میں اپنے خاندان سے باہر شادی کا رواج نہ ہو اور وہ شخص خاندان سے باہر شادی کر لے تو اس کا معاشی بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس معاشرہ میں مس فٹ ہوتا ہے اور وہ تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔

ایک دوسری مثال کسی دفتر میں کام کرنے والے افراد کی دی جا سکتی ہے۔ اگر اس دفتر میں کام کرنے والے اکثر افراد بے ایمان یا کام چور ہوں اور ایک شخص اپنا کام ایمانداری سے انجام دیتا ہے، کام چوری نہیں کرتا، رشوت نہیں لیتا تو وہ اس دفتر میں مس فٹ ہوتا ہے اور تنہائی کا شکار ہوجاتا ہے۔

3۔ خود غرضی:

تنہائی کی تیسری سب سے بڑی وجہ ساتھیوں اور نام نہاد دوستوں کی خود غرضی ہوتی ہے۔ آپ کے ارد گرد افراد جنہیں آپ اپنا دوست یا ساتھی سمجھتے ہیں وقت پڑنے پر آپ کا ساتھ دینے کی بجائے کنّی کاٹ جاتے ہیں اس وقت آپ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے چند دوست یا ساتھی ہیں۔ اکثر آپ کے ساتھ وقت گزارتے ہیں لیکن کسی مخصوص موقع پر آپ کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو اس وقت جو تکلیف آپ کو ہوتی ہے اور جو احساس تنہائی آپ کو ہوتا ہے وہ بیان سے باہر ہے۔

جیسے آپ ایک گروپ کا حصّہ ہوں اور اس میں کسی ایک شخص کے یہاں کوئی تقریب ہو۔ وہ گروپ کے تمام افراد کو دعوت دے لیکن آپ کو نظر انداز کردے اور آپ کو نہ بلائے تو آپ کیا محسوس کریں گے۔ اسی طرح اگر آپ کا کوئی شناسا ملک سے باہر رہتا ہو اور چھٹّیوں میں اپنے ملک آئے۔ دوسرے دوستوں سے ملاقات کرے لیکن آپ سے مواقع ہونے کے باوجود نہ ملے اور فون تک نہ کرے تو آپ کیا محسوس کریں گے۔ ہو سکتا ہے اس کی اپنی کچھ وجوہات ہوں یا آپ کی شخصیت ہو جیسا میں نے اوپر بیان کیا ہے لیکن مجھے اس میں خودغرضی کا عنصر نظر آتا ہے۔ اس طرح دوسرے افراد کی خودغرضی اس شخص کی تنہائی کا سبب بن جاتی ہے۔

یہاں مجھے سلمی آغا کے گانے کے بول یاد آتے ہیں
” لپٹ کر روتے ہیں آپس میں، میں اور میری تنہائی“

یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ ہر انسان اپنی تنہائی کا اظہار کرے۔ اکثر افراد اپنے تنہائی کے احساس کو اپنی ذات تک محدود رکھتے ہیں اور کبھی اس کا اظہار بھی کریں تو ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ یہ کہہ کر کہ وہ لوگوں کی توجّہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یا انہیں ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ آخر میں میں یہ کہہ کر اس مضمون کا اختتام کروں گا کہ انسان اکیلے پیدا ہوتا ہے، اکیلے زندگی گزارتا ہے اور اکیلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اور زندگی کا یہ چکّر ہزاروں سال سے چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔

ایک شخص بیٹا ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی باپ نہیں ہوتا
ایک شخص باپ ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی بیٹا نہیں ہوتا
ایک شخص شوہر ہوتا ہے لیکن اس کی کوئی بیوی نہیں ہوتی
ایک عورت بیوی ہوتی ہے لیکن اس کا کوئی شوہر نہیں ہوتا
اور پھر وہ خود بھی نہیں ہوتا
اس طرح زندگی کا یہ چکّر سوائے خوش فہمی کے اور کچھ نہیں ہے۔

Facebook Comments HS