کمرشل، اوسط اور اعلٰی ادب – مکمل کالم


میں ناول پڑھنے کا شوقین نہیں ہوں، اِس کام کے لیے جس صبر کی ضرورت ہے وہ مجھ میں نہیں، چیدہ چیدہ ناول میں نے ضرور پڑھ رکھے ہیں مگر زیادہ لُطف مجھے افسانے اور کہانیاں پڑھنے میں آتا ہے۔ تاہم دو سال پہلے انیس اشفاق کا ناول خواب سراب نظر سے گزرا، پڑھنا شروع کیا اور پھر پڑھتا چلا گیا، شاید دو یا تین نشستوں میں وہ ناول میں نے ختم کر لیا۔ ایسی عمدہ نثر، ایسا اچھوتا پلاٹ اور ایسی کمال کی کردار نگاری کہ بندہ حیران رہ جائے۔ لیکن اِن سب سے بڑھ کر یہ کہ انیس اشفاق نے لکھنؤ کا جو نقشہ اِس ناول میں کھینچا اُس کا جواب نہیں۔ ناول سنگِ میل نے شائع کیا تھا سو میں نے افضال احمد سے مصنف کا رابطہ نمبر لیا اور پھر لکھنؤ فون کر کے انہیں داد دی اور کسی نقاد کی طرح اپنا فیصلہ سنایا کہ بلاشبہ یہ ناول اردو کے چند بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ کاش کہ کوئی لکھاری اِس طرح کا ناول لاہور پر بھی لکھے جس میں پرانے لاہور کے گلی کوچوں کا ایسے ہی احوال بیان کیا جائے جیسا انیس اشفاق نے لکھنؤ کا کیا ہے۔

ناول کا پہلا صفحہ اِس سطر سے شروع ہوتا ہے : ”کربلائیں، درگاہیں، مسجدیں، امام باڑے، باغ، روضے، سیر گاہیں اور محل سرائیں۔ میں انہی میں زندہ ہوں اور میرا نام لکھنؤ ہے۔“ اِس ناول میں مصنف کے طرزِ تحریر پر انتظار حسین کا تبصرہ بھی شامل ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، آپ لکھتے ہیں : ”ہمارے نئے ناول اور افسانے کے ساتھ ایک مشکل یہ ہے کہ دانشورانہ اظہارِ رائے اسے بہت پسند آنے لگا ہے۔ ایسا شاید اُس وقت ہوا جب افسانے میں تجرید اور علامت کا عمل شروع ہوا۔ یوں تو اِن رُجحانوں میں دانشورانہ اِظہار شروع ہی سے موجود تھا، پھر وہ زمانہ آیا جب ادبی اور دانشورانہ حلقوں میں سارتر نے ایک فیشن کی شکل اختیار کر لی۔“

پورا تبصرہ تو یہاں نقل نہیں کیا جا سکتا البتہ اِس ایک سطر میں ہی انتظار صاحب نے دریا کو کُوزے میں بند کر دیا ہے۔ یہ وہ بات ہے جو میں بھی اکثر سوچتا ہوں کہ آخر ہمارے لکھاری ہنس کی چال کیوں چل رہے ہیں، وہ انیس اشفاق کی طرح دل میں اتر جانے والی نثر کیوں نہیں لکھتے، انتظار صاحب بھی ایسی ہی نثر کے دلدادہ تھے اور اُن کا تبصرہ اِس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ اردو کے ادیب، کچھ تو اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کے چکر میں اور کچھ یہ سوچ کر گُنجلک نثر لکھتے ہیں کہ شاید انہیں ادب کے نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا جائے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر سارا گاؤں بھی فوت ہو جائے تو ادب کا انعام ہمارے حصے میں نہیں آنا۔

اب نوبل انعام کا لطیفہ بھی سُن لیں۔ پتا نہیں مجھے یہ بات لکھنی بھی چاہیے یا نہیں، ہو سکتا ہے کہ نقاد اسے میری کم علمی پر مَحمُول کریں لیکن میں یہی سمجھتا ہوں کہ گزشتہ چند برسوں میں جن لکھاریوں کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا ہے اُن میں سے زیادہ تر مصنفین کی تحریریں اسی تجریدیت کا شکار تھیں جس کی جانب انتظار صاحب نے اشارہ کیا۔ چند سال پہلے اکادمی ادبیات پاکستان نے 2001 سے 2015 کے درمیان نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی منتخب کہانیاں شائع کیں، میں نے یہ کہانیاں پڑھنے کی صدق دل سے کوشش کی مگر پھر یہ پتھر چوم کر رکھ دیا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ کہانیاں بیکار ہیں، کچھ کہانیاں دلچسپ بھی ہیں مگر زیادہ تر کہانیاں پڑھ کر ایسا لگا جیسے اِن ادیبوں نے شعوری کوشش کی ہو کہ اِن کی کہانیاں خواص کو ہی سمجھ آئیں یا صرف مخصوص قسم کے نقاد ہی اِن سے حِظ اٹھا سکیں، یوں لگتا ہے جیسے کہانیاں لکھتے وقت اِن ادیبوں کے ذہن میں تھا کہ دقیق اندازِ بیان ہی اعلیٰ ادب کی پہچان ہوتا ہے اور نوبل انعام دینے والی کمیٹی بھی اسی اندازِ بیان کو پسند کرتی ہے۔ اِن نوبل انعام یافتہ ادیبوں کے بارے میں نوبل کمیٹی کی رائے بھی اِس انتخاب میں موجود ہے۔ مثلاً ایک ادیب کے بارے میں کمیٹی کا کہنا ہے کہ ”یہ ادیب بے شمار بہروپوں میں اجنبیوں کی ششدر کر ڈالنے والی شمولیت ڈالتے ہیں۔ وہ نہایت ہی ہُنرمند، بُنت کار، زرخیز مکالمہ نگار اور تجزیاتی تعقل کے حامل ہیں۔“ نوبل کمیٹی کی رائے کا یہ ترجمہ جس کسی نے بھی کیا ہے اُس نے بات کا رَس ہی نکال لیا ہے مگر پھر بھی یہ رائے اُس سوچ کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت اعلیٰ ادب کا تعین کیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے کراچی میں شکیل عادل زادہ صاحب سے ملاقات ہوئی، باتوں باتوں میں یہی موضوع چھِڑ گیا کہ اعلیٰ ادب کیا ہوتا ہے، ہمارے ایک بے حد پیارے دوست جو نہایت عمدہ ادبی ذوق رکھتے ہیں، اِس محفل میں موجود تھے، انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہوں نے فلاں فلاں ادبی مجلوں میں افسانے پڑھے جن میں سے دو چار بالکل ’کمرشل‘ نوعیت کے تھے۔ میں نے شکیل صاحب سے کہا کہ نہ جانے کیوں ہم نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو افسانہ دلچسپ ہو گا، جس کی تحریر پُر اثر ہو گی اور جس میں فقط تجریدیت ہی نہیں بلکہ کہانی بھی ہو گی تو اسے ہم کمرشل کہہ کر نظر انداز کر دیں گے۔ شکیل صاحب نے اِس فقیر کی رائے سے پُر زور انداز میں اتفاق کیا۔

ایک مرتبہ احمد فراز کے اعزاز میں جمخانہ لاہور میں ایک شام تھی، فراز صاحب نے حسبِ توقع اپنی غزلیں سنا کر وہ شام لُوٹ لی۔ بعد میں کھانے کی میز پر فراز صاحب کے ایک ہمعصر شاعر سے بات ہوئی تو میں نے فراز صاحب کی تعریف کی، انہوں نے بدقت تمام اثبات میں سر تو ہلایا مگر ساتھ ہی کہا کہ یہ سب کمرشل شاعری ہے، گویا وہی بات کہ جو شاعری عوام میں مقبول ہو جائے وہ کمرشل یعنی کمتر درجے کی کہلائے گی۔ یہ کلیہ کِس نے دریافت کیا، اُس شخص کی مجھے آج تک تلاش ہے۔

وہ بندہ تو خیر نہیں ملا البتہ پابلو نرودا بننے کے چکر میں ہمارے شعرا کی نام نہاد تجریدی نظمیں کچھ اِس قسم کی ہو گئی ہیں : ”مرغیاں اب انڈے نہیں دیتیں، جو انڈے وہ دیتی تھیں، ہم انسان کھا جاتے تھے، مرغیوں کو چاہیے اب اپنے پَر جلا ڈالیں، ماتم کریں، کہیں ایسا نہ ہو، کسی اندھیری رات میں، کوئی بِلّی، کسی مُرغی کو، اپنے پنجوں میں دبوچ لے، اور پھر اُس کی سِسکیاں، اندھیروں کو چیرتی ہوئی، قصائی کی دکان تک جا پہنچیں، اور اُس کے در و دیوار لرز اٹھیں، لیکن نہ جانے کیوں، مجھے لگتا ہے، مرغیاں اب کبھی انڈے نہیں دیں گی۔“

اِس گتھی کو ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے بہت وضاحت کے ساتھ سلجھایا ہے، اُن کا ایک مضمون ہے ”نابغے، فطین اور اوسط درجے کے ادیب“ ۔ وہ لکھتے ہیں : ”اوسط درجے کا ادیب، شعر و افسانہ لکھنے کی بنیادی صلاحیت بلاشبہ رکھتا ہے، وہ مصرع موزوں کر سکتا ہے، ایک کہانی کا پلاٹ ترتیب دے سکتا ہے، درست زبان بھی لکھ سکتا ہے مگر حیرت جگانے سے قاصر رہتا ہے۔ حیرت، کسی غیر متوقع دنیا کا دفعتاً انکشاف ہے۔ سخت محنت و ریاضت سے متاثر کن چیز لکھی جا سکتی ہے، حیرت انگیز نہیں۔“ ڈاکٹر نیر کی یہ بات سو فیصد درست ہے، تاہم ہمارے ادیبوں کا مسئلہ وہی ہے کہ حیرت جگانے کی کاوِش میں وہ کہانی کا پلاٹ بھی ترتیب نہیں دے رہے۔ بہتر ہو گا کہ ہمارے ادیب پہلے اوسط درجے کا ادب تخلیق کر لیں، اعلیٰ ادب خود بخود وجود میں بھی آ جائے گا۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada