آدھی گواہی کی موت


پنجاب کے وزیرِاعلیٰ نے ہونہار طلبہ کے لیے ایک سکالر شپ کا اعلان کیا، جو ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ ایک غیر منطقی اور امتیازی شرط کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سکالر شپ کے حصول کے لیے درکار حلف نامے پر بطور گواہ صرف مرد (اساتذہ اور افسران) دستخط کر سکتے ہیں، خواتین ( اساتذہ اور افسران ) اس پر دستخط کرنے کی مجاز نہیں؟ کیا یہ اس طرح کے فیصلے خواتین کی قابلیت اور پیشہ ورانہ حیثیت کو مشکوک نہیں کرتے؟ یہ المیہ نہیں کہ ایک خاتون چیف منسٹر سکالر شپ دے تو سکتی ہیں لیکن خود اس شرط کے تحت کسی طالب علم کے حلف نامے پر بطور گواہ دستخط نہیں کر سکتیں، کیونکہ وہ ایک عورت ہیں۔ ایک خاتون کی گواہی سے شروع ہونے والی رسالت، سے تشکیل کردہ سماج میں خواتین کی گواہی گواہی کم ہوتے ہوتے ختم کیوں ہو گئی؟ کیا یہ خواتین کی صلاحیتوں پر عدم اعتماد نہیں؟ کیا یہ اور اس طرح کی شرائط عقل اور انصاف سے ماورا نہیں؟

پنجاب میں اس وقت کئی خواتین یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے فعال ہیں، جہاں ہزاروں طالبات زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہیں۔ وہ اس سکالر شپ کے لیے درخواست دینا چاہیں گی تو گواہ (مرد) کہاں سے لائیں گی؟ ان کی اپنی اساتذہ اور ایڈمنسٹریٹو افسران، تو خواتین ہونے کے ناتے حلف نامے پر دستخط کرنے کے اہل نہیں۔

یہ فیصلہ محض صنفی تعصب کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ خواتین کی اہلیت اور سماجی حیثیت پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے یہ صورتحال ایک پوسٹ ماڈرن دنیا میں نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ باعثِ شرمندگی بھی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں صنفی برابری کو فروغ دیا جا رہا ہے، اور یہاں پرانے تصورات کو نئی نسل کے روشن مستقبل کے آڑے لایا جا رہا ہے۔ انصاف اور برابری کا تقاضا ہے کہ ایسے غیر منطقی اصولوں پر فوری نظرثانی کی جائے تاکہ خواتین کو محض ان کی صنف کی بنیاد پر پیشہ ورانہ ذمے داریوں اور معاشرے میں ان کے مقام و منصب سے محروم نہ کیا جائے۔ 2025 میں خواتین کے عالمی دن کا تھیم بھی Accelerate Action رکھا گیا ہے۔

بخدا خواتین کو ایک آبجیکٹ یا کوئی شے سمجھنے کی بجائے ایک انسان سمجھا جائے۔ خواتین کی عالمی دن کے موقع پر ایسے تمام دقیانوسی نظام اور نام نہاد ترقی یافتہ کارپوریٹ کلچر کے خلاف مذمت کی اپیل ہے جو خواتین کو اپنے مفادات کے لیے ایک چیز، ایک آلہ، ایک آبجیکٹ خیال کرتے ہیں۔

پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برتر
انسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں
(فاطمہ حسن)

Facebook Comments HS