ایک اور 8 مارچ اور خواتین کی جدوجہد اور مسائل


آج 8 مارچ، عالمی یوم خواتین کے موقع پر، ایک پروفیشنل ویمن ہونے کے ناتے، میں نے ایک بار پھر ان چیلنجز کو محسوس کیا جن کا سامنا پیشہ ور خواتین کو روزمرہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ میرے لیے آج سب سے بڑا مسئلہ دفتر آنے اور واپسی کے لیے ٹرانسپورٹ کا بندوبست تھا، جو کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ میرے ایک مرد کولیگ نے، جسے مجھ سے زیادہ فاصلے پر جانا تھا، نے جلدی گھر پہنچنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جب میں نے ڈرائیور سے کہا کہ وہ پہلے مجھے میرے قریبی مقام پر اتار دے، تو اس نے اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس کا یہ رویہ اس بات کی جھلک ہے کہ خواتین کو روزمرہ کے معاملات میں بھی اپنی ضروریات اور سہولتوں کے بجائے دوسروں کی ترجیحات کے مطابق چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف سفری مشکلات تک محدود نہیں ہے بلکہ دفتری ماحول میں بھی خواتین کو کئی طرح کے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون کولیگ نے بتایا کہ کس طرح ایک اہم اجلاس کے دوران اس کے مشورے کو نظرانداز کر دیا گیا، مگر جب وہی بات ایک مرد کولیگ نے کہی تو سب نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ یہ ایک عام مسئلہ ہے جسے اکثر دفاتر میں دیکھا جاتا ہے، جہاں خواتین کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے لیے مردوں سے دگنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسی طرح، ترقی کے مواقع میں عدم مساوات بھی خواتین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سی خواتین کو ان کی محنت اور قابلیت کے باوجود ترقی نہیں دی جاتی کیونکہ فیصلہ ساز پوزیشنز پر زیادہ تر مرد حضرات قابض ہوتے ہیں اور وہ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خواتین قیادت کے قابل نہیں ہوتیں یا وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو گھریلو زندگی کے ساتھ متوازن نہیں رکھ سکتیں۔

ہماری کام کی جگہوں پر مساوی مواقع کی بات کی جاتی ہے لیکن عملی طور پر خواتین کو اکثر غیر منصفانہ رویوں، سہولتوں کی کمی، اور صنفی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سفری سہولیات کی عدم دستیابی، دفتری ماحول میں صنفی تعصب، اور گھریلو و پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا دوہرا بوجھ، سب مل کر خواتین کے لیے کام کرنا ایک مسلسل آزمائش بنا دیتے ہیں۔ مزید برآں، دفاتر میں مردوں کی اجارہ داری اور فیصلہ سازی میں ان کا غلبہ خواتین کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرتا ہے جب خواتین ترقی کی منازل طے کرنے لگتی ہیں تو انہیں اکثر غیر ضروری تنقید، کردار کشی، یا غیر پیشہ ورانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، کام کی جگہ پر ہراسانی اور غیر محفوظ ماحول بھی خواتین کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، جو انہیں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔

پاکستان میں عمومی طور پر مرد حضرات خواتین کے عالمی دن کو پسند نہیں کرتے اور اسے بے حیائی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہر سال آٹھ مارچ کو خواتین کے حقوق کی بات کرنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں جیسے کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے نکالی جانے والی ریلیاں مغربی نظریات کو فروغ دینے کے لیے ہیں اور یہ ہماری اسلامی اور مشرقی اقدار کے خلاف ہیں کیونکہ عورت کی اصل ذمہ داری گھر اور بچوں کی دیکھ بھال ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو پہلے ہی تمام ضروری حقوق حاصل ہیں، اور کسی اضافی جدوجہد کی ضرورت نہیں۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ خواتین تعلیم حاصل کر رہی ہیں، ملازمت کر رہی ہیں اور انہیں ہر قسم کی سہولتیں میسر ہیں اس لیے ان کے مسائل خود ساختہ ہیں۔

یہ تمام توجیہات ایک ہی مقصد کے تحت دی جاتی ہیں کہ خواتین کے حقیقی مسائل کو نظرانداز کیا جائے اور انہیں دبایا جائے۔ مگر یہ حقیقت نظرانداز کر دی جاتی ہے کہ روزمرہ زندگی میں خواتین کو کن مسائل کا سامنا ہے۔ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک، سفری مشکلات، گھر اور دفتر کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا دباؤ، اور سماجی دباؤ جیسے مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔ صرف خواتین کے دن کو تنقید کا نشانہ بنانے سے ان حقیقی مسائل کی شدت کم نہیں ہوتی، بلکہ ان پر کھل کر بات کرنا اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنا ضروری ہے تاکہ خواتین کو ایک محفوظ اور باوقار ماحول میسر آ سکے۔

Facebook Comments HS