خواتین کے بین الاقوامی دن پر ہمارا پیغام۔ ان کے نام


خواتین ہماری آبادی کا تقریباً نصف حصہ ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں انہیں مردوں کے مقابلے میں ایک چوتھائی حقوق بھی حاصل نہیں۔

اے میری ہم عصر خاتون۔ مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ۔ اس معاشرے میں تمہاری آواز کو دبایا اور تمہارے خوابوں کو بے جا پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا جاتا ہے۔ تمہاری صلاحیتوں کو ”عورت“ ہونے کی پاداش میں محدود کر دیا جاتا ہے۔ کبھی تمہیں روٹی گول نہ بنانے پر روئی کی طرح دھن دیا جاتا ہے، تو کہیں پسند کی شادی کرنے پر تمہارے اپنے والدین تمہاری جان کے دشمن بن جاتے ہیں۔ کہیں تمہیں مذہب اور کلچر کے نام پر نقاب اوڑھا کر بے شناخت کیا جاتا ہے، تو کہیں تمہیں ناقص العقل قرار دے کر تمہاری اور تمہارے فہم و شعور کی توہین کی جاتی ہے۔ کہیں تمہیں شادی کی تقریب میں کسی کو ڈانس کرتا دیکھنے کی پاداش میں مار دیا جاتا ہے تو کہیں تمہیں شریعت کی اجازت سے بالغ ہونے سے پہلے ہی ازدواجی زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ کہیں تمہیں دفاتر میں جنسی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کہیں گھر کے اندر اپنے ہی محرم رشتوں کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ کہیں تمہاری پروموشن کو تمہارے جسم کے حصول سے مشروط کیا جاتا ہے تو کہیں تمہیں خود مختار ہونے اور خود کے لئے آواز اٹھانے کی پاداش میں فاحشہ اور حرافہ کہا جاتا ہے۔

مگر اس سب میں امید افزا بات یہ ہے کہ تم نے ہمت پھر بھی نہیں ہاری اور اپنے وجود، اور حقوق منوانے کے لئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہو۔ یقین کرو تمہاری یہ ثابت قدمی تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ تمہاری آنکھوں میں چھپے خواب، دل میں اٹھتی آواز، اور اس آواز میں وہ ساز ہے جو اس معجزے کو جنم دے سکتے ہیں جس کا تمہیں اور ہمیں ہمیشہ سے انتظار ہے، اور رہے گا۔ تم پر لازم ہے کہ اپنی آواز کو دبنے نہیں دینا۔ تمہیں اپنی راہ خود بنانا ہے۔ مردوں کی اکثریت تمہاری راہ میں مزاحم ہو گی مگر تمہیں ہمت نہیں ہارنا۔ لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہیں کرنا۔ تمہارا مستقبل تمہارے عزم، ہمت، اور انصاف کی تلاش میں پنہاں ہے۔ لاریب کہ یہ راستہ کانٹوں سے بھرا ہے۔ معاشرے کی نام نہاد ”اخلاقیات“ تمہارا راستہ روکتی رہیں گی۔ مگر مجھے علم ہے کہ تمہارا عزم ستاروں سے بھی بلند ہے اور تمہارے اندر وہ روشنی ہے جو ظلمت کی شبِ دیجور کو روزِ روشن کی مانند اجلا بنا سکتی ہے۔

آؤ! ہم سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد ڈالیں جہاں تم سے فقط برداشت، صبر اور اپنی ذات کو مٹا دینے کا تقاضا نہ کیا جاتا ہو، بلکہ تمہیں ایسا کامل انسان سمجھا جائے جو بہت سے معاملات میں مردوں سے ہزار گنا بہتر ہے، جہاں تمہاری کامیابیوں، جدوجہد، اور آزادی کی داستان زبان زدِ خاص و عام ہو اور جہاں اس بات کا مکمل ادراک ہو کہ تمہارے وجود کی روشنی سے ہی یہ دنیا روشن ہے۔

تمہیں خواتین کا عالمی دن بے حد مبارک۔ اپنے مقصد کے حصول تک کوشش کرتی رہو، اگر یہ راہ مقتل تک لے جاتی ہے تو بھی اس راہ پر چلتی رہو۔ بلکہ جھوم کر چلو۔ اور یاد رکھو تمہارا راستہ روکنے والا ہر پہاڑ ایک دن تمہارے قدموں تلے ریت ثابت ہو گا۔ اس سفر میں ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

تمہارا ایک ہم قدم

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari