احمدی برادری کے لیے مزید زمین تنگ
رمضان المبارک کے مہینہ میں پاکستانی مسلمان ہر سال کی طرح اپنی عبادات اور روزے رکھنے میں مصروف ہیں تاکہ جنت میں اپنی پکی جگہ بنا سکیں۔ مگر اس سال کچھ مسلمان عبادات اور روزے رکھنے کے علاوہ ایک اور نئی عبادت میں مصروف ہیں جو ان کے نزدیک تمام عبادت سے افضل ہے اور وہ یہ ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں کو ڈھونڈ کر ان کا گھیراؤ کیا جائے ان کو عبادت کرنے سے روکا جائے اور پولیس کی مدد کے ساتھ انہیں گرفتار کروا کر سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ یہ عناصر ماہ رمضان کے موقع پر جنت میں اپنی جگہ پکی کر سکیں۔
یہ مسئلہ بہت پیچیدہ ہے کیونکہ احمدیوں کی عبادت کا طریقہ کار بھی مکمل طور پر عام مسلمانوں کی طرح ہی ہے، عبادت کے اوقات اور تعداد بھی وہی ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ دونوں کے نزدیک ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرنا حرام ہے۔
پاکستان میں موجود احمدی برادری بخوبی واقف ہیں کہ کچھ لوگ ان سے سخت نفرت کرتے ہیں اس لیے احمدی جماعت نے بہت کوشش کر کے اپنی عبادت گاہ کو چھپانے کی کوشش کی ہوئی ہے جیسے ایک ویران گھر ہوتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات اب چھپ نہیں پا رہی اور علاقہ مکینوں کی مدد سے آگ کی طرح پھیل رہی ہے کہ کس کس علاقہ میں احمدیوں کی عبادت گاہیں موجود ہیں اس لیے اب احمدیوں کے لیے عبادت کرنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
احمدیوں کے پاس اب کیا راستہ بچا ہے؟
اگر پاکستانی احمدی جو اپنے مذہب سے جڑا رہنے چاہتے ہیں اور اپنی عبادات کیے بغیر نہیں رہ سکتے تو ان کے لئے جینے کا کیا راستہ چھوڑا گیا ہے۔
بدقسمتی سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدی برادری کے لیے ہر گزرتے دن کے ساتھ زمین کو مزید تنگ کیا جا رہا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سخت سے سخت پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔ قرآن پاک نہیں رکھ سکتے، اپنا نام مسلمانوں والا نہیں رکھ سکتے مذہبی تہوار عیدالاضحٰی کے موقع پر جانوروں کی قربانی نہیں کر سکتے، نماز ادا نہیں کر سکتے اور اب اس کے بعد عید کے موقع پر نئے کپڑے پہنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں احمدیوں کا وطن عزیز میں اپنی شناخت کے ساتھ رہنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور ریاست کا بھی دور دور تک کوئی ایسا ارادہ نظر نہیں آ رہا جو احمدیوں کے حق میں بہتر ہو۔


