مجھے میرٹ چاہیے

وطن عزیز میں میرٹ کی خواہش کرنا قابل تعزیر جرم بن چکا ہے۔ میرٹ کے لئے صاحبان منصب و اقتدار کے دروازے پر زنجیر عدل ہلانے جاؤ تو دربان الٹا فریادی کو کاٹنے کے لئے دوڑتے ہیں۔ ایسے ظلم پر اب نہ تو زمین پھٹتی ہے اور نہ آسمان گرتا ہے۔ پہلے صرف سنتے تھے اب اپنے ساتھ بیتی ہے تو صورتحال کی سنگینی کا احساس ہوا ہے۔ حد تو یہ ہے ہمارے اوپر ظلم ڈھانے والا کوئی غیر نہیں

Read more

اب تو بیمہ کرا لو

چند دن پرانی بات ہے، ایک ضروری کام کے سلسلہ میں شہر جانے کا اتفاق ہوا۔ کام نمٹانے کے بعد حسب معمول بشکو ٹی اسٹال پہنچ کر ایک کپ چائے اور آدھا پاؤ حلوے کا آرڈر دیا۔ وہاں بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ مجھے محسوس ہوا میرے برابر والی میز پر بیٹھا چھوٹے قد کا ایک درمیانی عمر کا شخص مجھے مسلسل گھور رہا ہے۔ ایک لمحہ کے لئے مجھے پریشانی سی لاحق ہوئی مگر اگلے ہی لمحے

Read more

نکلے جو ہم ڈھونڈنے رشتہ

آج کل پاکستان میں اچھا رشتہ ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا کہ کسی سرکاری محکمے میں کوئی ایماندار افسر ڈھونڈنا۔ قحط الرجال کے اس دور میں ہر دو کو ڈھونڈنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ خاکم بدہن ہماری اس تحریر کا مقصد کسی سرکاری افسر کی شان میں گستاخی قطعاً مقصود نہیں۔ اس کا ایک ثبوت، جس کی تفصیل ہم آگے جا کے بیان کریں گے، تو یہ ہے کہ ہم خود اپنے رشتے کے لئے کئی سرکاری

Read more

ڈپٹی کمشنر کی ڈائری

آج ڈائری لکھتے ہوئے سول سروس اکیڈمی میں ایک مہمان مقرر، جو ایک ریٹائرڈ آئی سی ایس تھا، کی شدت سے یاد آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریز دور میں ڈپٹی کمشنر کے اتنے وسیع اختیارات تھے جنھیں صرف پڑھنے کے لیے پورا دن درکار ہوتا تھا۔ میرا خیال ہے اگرچہ ریٹائرڈ افسر نے فرط جذبات میں کچھ لمبی چھوڑی ہوگی مگر میں سمجھتا ہوں کہ ڈپٹی کمشنر کے اختیارات پڑھنے کے لیے پورا دن نہیں تو

Read more

فائل اور نوٹ

میں جس چھوٹے سے سرکاری دفتر میں اپر ڈویژن کلرک کی حیثیت سے کام کرتا ہوں وہاں فائلوں کا کام ہوتا ہے۔ فائلوں کے کام کی بدولت یہاں کلرک سے لے کر بڑے افسر تک کی کار کردگی ماپنے کا پیمانہ بھی فائل ہی ہے۔ اگر دفتر کے کسی ملازم سے پوچھا جائے کہ آج اس نے کتنا کام کیا ہے۔ تو اس کا عمومی جواب یہی ہو تا ہے کہ آج اس نے اتنی فائلیں نکالی ہیں۔ کوئی سائل

Read more

اپنی ناکامی کا علانیہ اعتراف

خواتین و حضرات! تھوڑا سا عار محسوس کرتے ہوئے آج ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم (تحریر میں جہاں جہاں ’ہم‘ ہے اسے ’میں‘ پڑھا جائے ) ایک ناکام آدمی ہیں۔ اب ہم پر واضح ہو چکا کہ ہم کسی بھی شعبہ زندگی میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ سچ پوچھیں واضح تو کافی عرصہ پہلے ہو چکا تھا مگر مارے شرمندگی کے کبھی اعتراف نہ کر سکے۔ مگر اب اخفائے راز کا احساس ندامت شرمندگی پر حاوی ہو

Read more

زندہ بدست مردہ

یہ لگ بھگ دو مہینے پرانی بات ہے، میں رات کو گلی میں چہل قدمی کر رہا تھا کہ کارنر والے گھر سے اچانک شامی صاحب نکلے اور مجھے تقریباً حکم دیتے ہوئے کہنے لگے قیصرانی صاحب آ جائیے ابا جی فوت ہو گئے ہیں۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے میں ابا جی کے فوت ہونے کے انتظار میں گلی میں چہل قدمی کر رہا تھا۔ شامی صاحب کہنے کو تو ہمارے ہمسائے تھے مگر گلی میں کسی سے

Read more

ایماندار افسر

میں ایک ایماندار افسر ہوں۔ سکہ بند ایماندار۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہے مگر غول در غول بد عنوان اور بد دیانت لوگوں کے درمیان اکیلا ایماندار۔ سچ پوچھیں تو یہ دعویٰ اس لیے کہ مجھے اپنے معیار کا ایماندار شخص آج تک نہیں ملا۔ اگر چہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ ہے مگر پرہیزگاری کی بھی پوری کوشش کرتا ہوں۔ صبح دفتر پہنچ کر روزانہ گھنٹہ بھر کے لیے مختلف وظائف پڑھتا ہوں۔ کچھ وظائف

Read more

ماہواری، بچہ دانی اور کالی شلوار

خوشامد ایک ایسی چابی ہے جس سے کامیابی کا تقریباً ہر دروازہ باآسانی کھولا جا سکتا ہے، سرکاری ملازمت ہو یا کارپوریٹ کلچر، سیاست کا پرخار میدان ہو یا سماجی زندگی کے نشیب و فراز، خوشامد آپ کی کامیابیوں کو ایک مختصر سے وقت میں کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ ہمارے وطن عزیز میں اس چابی کا استعمال تو تقریباً ٹھیک ہی ہو رہا ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باہر کے ملکوں میں آج تک اس چابی

Read more

تاریخ پاکستان کی کتاب کا ایک پھٹا پرانا ورق

کئی برس ادھر کی بات ہے ہمارے دوست، اردو کے نامور مزاح نگار، وقار خان کو ایک پھٹا پرانا ورق کہیں سے ملا تھا جس پر کچھ بے ربط اور بے مقصد سی تحریر تھی۔ اس وقت ان کا خیال تھا کہ کسی نے اپنی خوش خطی ”پکانے“ کی کوشش کی ہے۔ چند روز قبل ہمیں بھی اسی طرح کا ایک پھٹا پرانا ورق ملا ہے۔ مجھے تو یہ وہی خوش خطی ”پکانے“ کا تسلسل ہی لگا ہے کہ شاید

Read more

ٹیکر کریسی اور پولیس

شام کا وقت تھا تھانہ ڈبن پورہ کا ایس ایچ او بہار عالم سارا دن اشتہاری ملزمان کے خلاف چلائے جانے والی مہم کے سلسلے میں جگہ جگہ چھاپہ زنی کرنے کے بعد تھکا ہارا تھانے میں واپس لوٹتا ہے اور ابھی دفتر میں بیٹھتا ہی ہے کہ تھانے کا محرر بھاگتا ہوا ایس ایچ او کے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ ایس ایچ او: ”اوئے کیا ہو گیا“ خیریت تو ہے؟ کیوں حواس باختہ ہو رہے ہو؟ محرر: سر

Read more

آئیے آپ کو کالم نگار بنا دیں!

پچھلے دنوں کالم نگاری کے حوالے سے لاہور میں ایک تربیتی ورکشاپ منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں بوجہ شرکت نہ کر سکنے والے لوگوں کی پر زور فرمائش کہ کالم کے ذریعے بھی اس فن پر روشنی ڈالی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نونہالان قوم اس سے مستفید ہو سکیں۔ ذیل میں ہم اردو کالم نگاری کے رہنما اصولوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ان اصولوں پر عمل کر لیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ ہر گلی

Read more

نقالوں سے ہوشیار

لاریب گھاٹے میں ہے وہ شخص جو کسی افسر کا صرف گریڈ دیکھ کر اس سے تعلق استوار کرتا ہے۔ سراسر گھاٹے میں۔ اکثر اوقات گریڈ صرف دھوکہ ہیں۔ سراسر دھوکہ۔ ابتدا ہی سے واضح کر دیں یہ کالم صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو شعبہ تعلقات سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ خاص ان لوگوں کے لیے۔ عامیوں کا اس تحریر سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس کالم کا مقصد بھی واضح کر دیتے ہیں۔ صرف اس شعبہ سے دلچسپی رکھنے

Read more