بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ
گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران عالمِ دین نے اللہ تعالیٰ سے یہ بھی التجا کی، ”یا اللہ اس جوڑے کو اولادِ نرینہ عطا فرمانا“ ۔ ایسے مواقع پر اولادِ نرینہ کی دعا زیادہ تر مولانا حضرات مانگتے ہیں اور ہال میں موجود لوگ آگے سے بلند آواز میں آمین کہتے ہیں لیکن ان مولانا صاحب کے منہ سے اولادِ نرینہ کی دعا سن کر مجھے جھٹکا اس لیے لگا کہ وہ ایک روایتی مولوی نہیں بلکہ ایک عالم تھے۔
میں حیران ہوا کہ اس دور میں بھی ہم اور خاص طور پر ہمارے علما کرام اللہ تعالیٰ سے نیک اولاد کی بجائے اولادِ نرینہ طلب کرتے ہیں۔ اولاد بھی ہو اور بیٹا ہی ہو۔ یعنی نر ہو۔ پتہ نہیں ہم اولادِ نرینہ کی بجائے اللہ سے نیک اور راست باز اولاد کیوں نہیں طلب کرتے؟
میں گاؤں میں رہتا ہوں اور بیٹیوں کے متعلق امتیازی رویوں کو دیکھتا رہتا ہوں۔ اب ایسا بالکل بھی نہیں کہ ہر گھر میں بیٹیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے لیکن یہ سوچ ابھی کافی حد تک موجود ہے۔ مثلاً بیٹے کی پیدائش پر کئی لوگ مقامی گلوکاروں کو مدعو کر کے محفلِ موسیقی سجاتے ہیں، پورے گاؤں میں حلوہ یا جلیبی یا مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے۔ عقیقہ پر دو بکرے ذبح کیے جاتے ہیں۔ لیکن بیٹی کی پیدائش کو ایک غالب اکثریت اس خوشی سے نہیں قبول کرتی جتنی خوشی ایک بیٹے کی پیدائش پر منائی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں آج تک گھر کا وارث بیٹے کو سمجھا جاتا ہے۔ ایک شخص کی پہلی شادی سے ایک بیٹی ہے۔ اس کے بعد اولاد نہیں ہوئی۔ وہ بہت بڑے زمیندار ہیں۔ فکر یہ تھی کہ ورثہ کہاں جائے گا۔ پھر بیٹے کی خاطر تین چار شادیاں اور کیں۔ میں نے اسے کہا تھا کہ جو بیٹی ہے اسے اچھی تعلیم دو۔ چاہو تو تم اسے تعلیم کے لیے برطانیہ یا امریکہ بھی بھیج سکتے ہو۔ ایسا کرو تو کل کو گاؤں میں تمہاری بیٹی جتنا قابل کوئی اور نہ ہو گا۔ مجھے پتہ تھا کہ میں نے دیوار کے ساتھ ہی ٹکر ماری ہے۔
اگلے دن گاؤں میں کسی کی بیٹی پیدا ہوئی اور ایک شخص کی وفات یعنی پھوڑی پر کسی عورت نے کہا کہ بیچاروں کی تیسری پوتی آ گئی ہے۔ گاؤں کی بوڑھی عورتیں آج بھی کسی نئے نئے شادی شدہ مرد کو دعا ایسے دیتی ہیں، ”اللہ ست پترا کری“ ۔ یعنی اللہ تمہیں سات بیٹے دے۔
چند برس قبل گاؤں میں ایک عورت کی جب پانچویں بیٹی پیدا ہوئی تو اس کی ساس نے یہ اعلان کیا کہ ”اس وچ جاکتاں آلا خانہ ای کونی“ ، اس میں تو لڑکوں والا خانہ ہی نہیں ہے۔
ایک اور چیز جو میں اکثر نوٹ کرتا ہوں۔ آپ کسی گاؤں کے قبرستان چلے جائیں۔ خواتین کی قبروں پر لگے کتبے دیکھیں۔ آج سے تیس چالیس سال پہلے فوت ہونے والی قبروں کے کتبوں پر آپ کو مرحومہ کا پورا نام اور اس کے شوہر یا والد کا نام لکھا ہوا ملے گا۔ مہر بھری، بھاگ بھری، مکھاں، تختاں بیگم، صفتاں بیگم وغیرہ۔ لیکن موجودہ زمانے میں اکثر خواتین کی قبروں پر ان کے نام نہیں ملیں گے بلکہ محض یہ لکھا ہو گا زوجہ فلاں اور دختر فلاں۔ مطلب ایک عورت پہلے ماں باپ کے گھر محنت مشقت کرے۔ صبح سے شام تک کام کرے۔ پھر ساری زندگی یہی تھینک لیس کام سسرال کے گھر کرے اور مر کر بھی اسے اس کا نام تک نہ مل سکے۔
اور یہ جو ہم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کی شادی کے موقع پر شادی کارڈ چھپواتے وقت اپنی ”دانشمندی“ کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ کارڈ پر بہن بیٹی کا نام لکھنے کی بجائے صرف دختر فلاں لکھتے ہیں لیکن جس شخص کے ساتھ ہم اپنی بہن بیٹی کی شادی کر رہے ہوتے ہیں اس کے نام کے ساتھ ہم اتنے کلی پھندنے لگاتے ہیں کہ دو الفاظ پر مشتمل نام ایک پورے فقرے میں نہیں سماتا۔ نام سے پہلے چوہدری، راجہ، ملک، فلائنگ افسر، کیپٹن، انسپکٹر، ایڈووکیٹ وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اپنی بہن بیٹی کا پورا نام کارڈ پر لکھتے ہوئے ہمیں نہ جانے کون سی موت پڑتی ہے۔ یہ کسی غیرت یا انا کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری منافقت اور ذہنی عارضہ ہے۔ ہماری منافقت دیکھیں کہ جب ہماری کوئی بہن بیٹی وکیل یا ڈاکٹر بن جائے تو ہم بڑے بڑے سائن بورڈز بنوا کر اوپر اس کا نام لکھواتے ہیں کہ ایڈووکیٹ فلاں ڈاکٹر فلاں۔ کیونکہ اب وہ نہ صرف پیسہ کما رہی ہے بلکہ خاندان کی عزت کو بھی چار چاند لگا رہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے پرکھوں نے ہماری نانیوں دادیوں کی قبروں پر کتبے لگواتے وقت ان کتبوں پر ان کے پورے نام لکھے لیکن آج کل ہم اپنی عورتوں کی قبروں کے کتبوں پر ان کے نام لکھنے سے کتراتے ہیں اور محض دختر اور زوجہ ہی لکھتے ہیں؟ وقت کے ساتھ ہماری شعوری سطح میں بہتری آنی چاہیے تھی لیکن ہم فکری انحطاط کا نہ صرف شکار ہیں بلکہ فکری انحطاط بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے
رہی بات کہ گھر کا وارث بیٹا ہی کیوں ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی ہمارا محض ایک فکری مغالطہ ہی ہے۔ اولاد بیٹا ہو یا بیٹی ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر بیٹی پرائے گھر جا کر کسی پرائے مرد سے بچے پیدا کرتی ہے تو بیٹا بھی تو کسی پرائی عورت کے بچوں کا باپ بنتا ہے۔ جتنا والدین کا خون بیٹے کی رگوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے اتنا ہی والدین کا خون بیٹی میں ہوتا ہے۔ آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ماں باپ کی جتنی خدمت بیٹیاں کرتی ہیں اتنی بیٹے نہیں کرتے۔ جو لوگ بیٹے کو ہی گھر اور جائیداد کا وارث اور نسل کے تسلسل کا امین سمجھتے ہیں وہ حضرت فاطمہ کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ اگر ہم اپنے ملک کی مثال ہی لیں تو اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف جیسے حکمرانوں کے جانشین بیٹوں کے ہونے کے باوجود ان کی بیٹیاں بنیں؟ آج آپ کسی کالج یونیورسٹی جائیں تو وہاں لڑکوں سے کہیں زیادہ لڑکیوں کی تعداد ملے گی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لڑکیاں پڑھائی میں لڑکوں سے بہت آگے ہیں۔
میرا گاؤں چکوال میں نیلہ روڈ کے ساتھ ہے۔ نیلہ روڈ پر پچھلے ایک سال سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک بیٹی موٹر سائیکل پر اپنی ماں کو بٹھائے ہوئے گزرتی ہے۔ ان ماں بیٹی کو دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ حتمی طور پر تو مجھے معلوم نہیں کہ یہ بیٹی اپنی ماں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر کہاں جاتی ہے لیکن جہاں تک میرا اندازہ ہے یہ بیٹی چکوال کے کسی کالج میں پڑھتی ہے اور ماں کے ساتھ روز موٹر سائیکل پر آتی ہے۔ کئی بار میں دیکھتا ہوں کہ کوئی بوڑھا باپ اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل اور حتیٰ کہ سائیکل پر بٹھا کر کالج چھوڑنے جا رہا ہوتا ہے تو ذہن میں فوراً یہ خیال ابھرتا ہے کہ اس عمر میں یہ باپ موٹر سائیکل اور سائیکل کیوں چلا رہا ہے جبکہ یہ کام اس کی جوان بیٹی بھی کر سکتی ہے؟ پنجاب کے دیہات میں جوان عورتیں ہر روز گدھا گاڑی جسے ہم کھوتی رہڑا کہتے ہیں پر کھیت میں چارہ کاٹنے جاتی ہیں۔ گاؤں کے مردوں کو ان عورتوں کا گدھا گاڑی چلانا معیوب نہیں لگتا لیکن اگر یہ کسی لڑکی کو موٹر سائیکل یا گاڑی چلاتے دیکھ لیں تو پھر گفتگو کا موضوع ہی یہی ٹھہرتا ہے۔ حالانکہ گدھا گاڑی پر موٹر سائیکل اور گاڑی کی نسبت عورت زیادہ غیر محفوظ ہوتی ہے۔
دیہات میں عورتیں چلم کے کش لگاتی ہیں اور کئی نسوار ڈالتی ہیں جبکہ مرد حقہ اور سگریٹ پیتے ہیں اور کئی نسوار بھی ڈالتے ہیں۔ اب چلم اور حقے میں صرف ساخت کا ہلکا سا فرق ہوتا ہے ورنہ جو تمباکو چلم میں ڈلتا ہے وہی حقے میں ڈالا جاتا ہے اور وہی تمباکو سیگرٹ میں ہوتا ہے۔ لیکن ہم کسی عورت کو سیگرٹ یا حقہ پیتے دیکھ لیں تو ہمیں یہ لگتا ہے کہ عورت اگر سیگرٹ یا حقہ پی رہی ہے تو وہ اس کے پھیپھڑوں پر نہیں بلکہ کردار پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
میں آج گھر میں موجود تھا کہ اتنے میں میرے بھانجے نے مجھے بلایا اور ایک ڈبہ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بتایا کہ کوئی کاشف صاحب آئے ہیں اور گیٹ پر ہی یہ ڈبہ دے کر یہ کہہ کر چلے گئے ہیں کہ ماموں کو دے دینا۔ میں نے جب گیٹ سے نکل کر دیکھا تو گاڑی کافی دور جا چکی تھی۔ پھر ڈبہ دیکھا جس پر یہ لکھا ہوا تھا، ”شکر الحمدللہ: خدا کی رحمت، دھی رانی کی پیدائش کی خوشی میں منہ میٹھا کریں۔ ملک کاشف اعوان اور سدرہ اشرف“ ۔
ڈبے میں برفی، گلاب جامن اور رس گلے تھے۔ ملک صاحب کو کال کی لیکن وہ بہت دور نکل چکے تھے کہ انہیں اور دوستوں کے گھر جا کر یہ تحفہ دینا تھا۔ ملک کاشف اور ان کی اہلیہ سدرہ کاشف کا یہ تحفہ آٹھ مارچ کو ملا اور آٹھ مارچ کو عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ ملک کاشف اور سدرہ جیسے والدین اس معاشرے میں چھائے اندھیرے میں روشنی کی کرن ہیں۔ ملک صاحب آپ کو اور آپ کی اہلیہ سدرہ کو بیٹی کی پیدائش پر ڈھیروں مبارک باد۔


