نیچرلزم ادبی تحریک کو سمجھنے کی مختصر کوشش
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں مچھروں کی 3,500 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں؟ 200 کے قریب مچھر انسانی خون پینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مچھر اور جراثیم مسلسل نئی مزاحمت پیدا کر رہے ہیں، یہاں تک کہ بیکٹیریا اور وائرس وقت کے ساتھ اپنے جینیاتی قوانین اپنی نئی نسل میں منتقل کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ دوائیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً، ہر سال لاکھوں انسان اور جانور ملیریا، ڈینگی، یا دیگر وبائی امراض کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ (اگرچہ ملیریا کی وجہ بیکٹریا نہیں ہیں )
یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ کیوں انسان ایک نہ نظر آنے والے جرثومے کی مسلسل بدلتی ہوئی ساخت کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے؟
اس کا واحد سائنسی جواب ارتقاء ہے۔
یہ فطری تبدیلیاں ایک سائنسی عمل کا نتیجہ ہیں۔ اس مسئلے کا حل اور اس کے اسباب کو سمجھنے کی صلاحیت صرف تحقیق، سائنسی جستجو، اور سائنسی طرزِ فکر میں پوشیدہ ہے۔
اس کے برعکس، روایتی سوچ ان پیچیدہ مسائل کا حل محض تقدیر اور اندھے عقیدے میں تلاش کرتی ہے، جو نہ تو حقیقی وجوہات کا ادراک کر سکتی ہے اور نہ ہی عملی حل پیش کرنے کے قابل ہے۔
نیچرلزم ادبی تحریک میں وراثت کا کردار بہت اہم تھا، خاص طور پر ایمیل زولا کے تصور میں۔ نیچرلزم اس خیال پر مبنی تھی کہ انسان کی زندگی پر اُس کے ماحولیاتی اور موروثی عوامل سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں، اور وہ اپنی تقدیر پر زیادہ اختیار نہیں رکھتا۔
اب آپ کو یہ بات بہت عجیب لگے گی، چلیں، مثال سے سمجھتے ہیں، ایک شخص اگر جینیاتی بیماری کا شکار ہے، جیسے موجودہ دور میں ہیموفیلیا، تھیلیسیمیا، وغیرہ، تو اگر وہ اپنے جیسے ہی جینز رکھنے والے خاندانی فرد سے شادی کرے اور نتیجتاً کوئی بچے کا جنم ہو، تو وہ بچہ ممکنہ طور پر اسی جینیاتی بیماری کا شکار ہو گا۔ اب جو بچہ پیدا ہوا، وہ پیدائشی طور پر نقص کا حامل ہے وہ نقص نہ نظر آنے والا کوئی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے، کوئی دماغی خلل بھی ہو سکتا ہے، کوئی جسمانی نقص بھی ہو سکتا ہے، ایسے میں اس شخص کے پاس فری وِل کا تصور تو محض ڈھونگ رہ جاتا ہے۔
ابھی ہم جغرافیائی سرحدوں سے ابھرنے والے مسائل کو زیر بحث نہیں لاتے، جس کی بدولت ایک اچھے بھلے انسان کی تعلیم، تربیت، قومیت اور مذہبیت طے ہوجاتی ہے۔ تو نیچرلزم تحریک کے زیر اثر پنپنے والے لکھاری یہ دکھانا چاہتے تھے کہ قدرت ایک بے رحم قوت ہے۔ انسان کے بہت سے عوامل اس کے بس سے باہر ہوتے ہیں۔ اختیار کا کامل ہونا ایک فریب ہے۔ *
زولا اور دیگر نیچرلزم کے ادیبوں کا ماننا تھا کہ وراثت صرف جسمانی خصوصیات ہی نہیں بلکہ اخلاقی کمزوریاں، ذہنی امراض، نشے کی عادات، اور مجرمانہ رجحانات بھی نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حیاتیاتی حد بندی (Biological Determinism) کے اصول۔ جس طرح جسمانی صفات والدین سے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں، اسی طرح ان کی شخصیت اور کردار بھی موروثی اثرات کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر کسی خاندان میں شراب نوشی، جرم، یا ذہنی بیماری عام ہو تو اس خاندان کے افراد میں بھی ان رجحانات کا پائے جانا ممکن ہے۔ آپ اسے ذہنی بیماری کے ثبوتوں کے طور پر جوڑ سکتے ہیں۔
میں اب آپ کے سامنے دو طاقتور مثالیں رکھوں گا۔
آپ نے یقیناً ورجینیا وولف اور ارنیسٹ ہیمنگ وے کا نام سنا ہو گا، دونوں ہی مشہور ادیب تھے اور موروثی طور پر منتقل شدہ ذہنی بیماریوں کا شکار تھے۔ وولف بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا تھیں، جو ان کے خاندان میں پایا جاتا تھا، جبکہ ہیمنگ وے کو ڈپریشن اور ممکنہ بائی پولر ڈس آرڈر لاحق تھا، جس کا تعلق ان کے خاندانی جینیاتی پس منظر سے جوڑا جاتا ہے۔ تاہم، ہم یہ بھی نظرانداز نہیں کر سکتے کہ بیرونی عوامل (ماحولیاتی دباؤ، ذاتی سانحات، اور سماجی حالات) نے بھی ان کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا۔ یہی تصور نیچرلزم میں بھی نظر آتا ہے، جہاں وراثت اور ماحول مل کر انسانی تقدیر کو تشکیل دیتے ہیں۔
تو آپ اب سوال کریں؟ کیا ان کی حادثاتی موت کا عمل طے شدہ تھا، یا ذاتی کوشش تھی یا موروثی بیماریوں سے متاثر شدہ تھی؟ جیسے حیاتیاتی تعین ہونا۔
پیدائشی نابینا چاہ کر بھی بہترین پائلٹ نہیں بن سکتا، اسی طرح جینیاتی بیماریوں میں مبتلا شخص یا قدرتی عوامل سے متاثر شدہ شخص اپنی زندگی کو مکمل جینے کے لئے پرزور کوشش کر کے بھی بعض دفعہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
زولا چاہتے تھے کہ ادب بھی سائنس کی طرح حقیقت پر مبنی ہو۔ اس لیے وہ کرداروں کے فیصلوں اور اعمال کی وضاحت ان کے جینیاتی اور سماجی پس منظر کی مدد سے کرتے تھے۔ یعنی ایک کردار جو کسی غریب اور بدحال نسل سے تعلق رکھتا ہو، اُس کے لیے زندگی میں ترقی کرنا بہت مشکل ہو گا کیونکہ اس کی وراثت اور ماحول اس کے خلاف ہیں۔ زولا کے ایک مشہور ناول ** میں انہوں نے ایک خاندان کی کئی نسلوں کی کہانی لکھی، جس میں یہ دکھایا گیا کہ موروثی خصوصیات جیسے پاگل پن، لالچ، اور نشہ بازی بار بار مختلف نسلوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے نیچرلزم کا سائنسی تصور ادب میں شامل کیا۔
نیچرلزم Free Will کے تصور کو چیلنج کرتی ہے۔ رومانویت کے برعکس، جہاں انسان کی اندرونی کشمکش اور جذبات پر زور دیا جاتا تھا، نیچرلزم میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ انسان اپنی وراثت اور ماحول کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیچرلزم اکثر مایوس کن ہوتا ہے، کیونکہ اس کے کردار اپنے اندرونی یا بیرونی حالات کو بدلنے میں ناکام رہتے ہیں۔
*وضاحت*
*سائنسی وضاحت کے لیے یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ جینیات اور ماحول دونوں انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور free will کچھ معاملات میں محدود ہو سکتی ہے، لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔
**یہ ناول
Les Rougon۔ Macquart بیس عدد ناولوں کو مشترکہ طور پر دیا جانے والا نام ہے۔


