مہر گڑھ، بلوچستان کا عظیم تہذیبی ورثہ
ہمارے ہاں اکثر لوگ وادی سندھ کی تہذیب سے واقف ہیں۔ خاص طور پر موہنجوداڑو اور ہڑپہ جیسے پرشکوہ شہروں کی دریافت کے بعد ”انڈس سویلائزیشن“ کی گمشدہ عظمت کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا۔ اس کے علاوہ ہم وادی ہاکڑہ کی ثقافت سے بھی کسی حد تک آشنا ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ ہیں جو مہرگڑھ (بلوچستان) کی تہذیب کا علم رکھتے ہوں۔ مہر گڑھ وادی سندھ کی بھی پیشرو تہذیب ہے۔ بلکہ اب تو اسے دنیا کا قدیم ترین شہری تمدن مانا جاتا ہے۔
مہرگڑھ صوبہ بلوچستان میں درہ بولان کے دامن میں واقع ہے۔ اس علاقے کو کچھی یا کچی بھی کہا جاتا ہے۔ جس وقت کی ہم بات کر رہے ہیں یہ نو ہزار سال قبل مسیح کی بات ہے۔ تب مہر گڑھ ایک سر سبز و شاداب علاقہ تھا۔ جہاں مون سون کے سیزن میں خوب بارشیں برستی تھیں، دریائے بولان مہربان تھا اور ہر طرف ہریالی اور سبزہ تھا۔
اس علاقے کی شاندار آب و ہوا نے اس جگہ ایشیا کے سب سے اولین شہری تمدن کو جنم دیا جو مہر گڑھ کہلایا۔ ابھی بھی یہاں کی مقامی بستی کا نام مہرگڑھ ہی ہے۔ ادھر آباد ہونے والے قدیم انسان یقیناً پہلے خانہ بدوش رہے ہوں گے لیکن جب وہ ایک جگہ مستقل آباد ہو گئے تو انہوں نے پہلی بار برصغیر میں کاشت کاری اسی مقام پر شروع کی اور جو اور گندم کی فصل کاشت کی۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ زراعت میں ترقی کرتے گئے اور کھجور، کپاس اور دیگر فصلیں بھی کاشت کرنے لگے۔ اس کے علاوہ جانوروں کو باقاعدہ پالنے والے ابتدائی انسان بھی مہرگڑھ کی رہائشی ہی تھے۔ یہ سوال البتہ ابھی تک تحقیق طلب ہے کہ مہرگڑھ میں بسنے والے قدیم انسان کہاں سے وارد ہوئے تھے۔ وہ بلوچستان کے مقامی باشندے بھی ہوسکتے ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہے شاید وہ مشرق وسطیٰ یا ایران سے آئے ہوں۔
1968 میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو مہرگڑھ میں کچھ قدیم اور نادر اشیاء کے پائے جانے کی اطلاع ملی جس کے بعد فرانسیسی ماہرِ آثارِ قدیمہ ژاں فرانسوا جیرگ نے اس مقام پر کھدائی شروع کی اور ان کی ٹیم نے ایک عالیشان شہر دریافت کیا۔ کھدائی سے ماہرین کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ کچے گھروں میں رہتے تھے اور برصغیر میں ظروف سازی، مجسمہ سازی اور دست کاری کے موجد تھے۔ یہ رنگسازی کا ہنر بھی جانتے تھے اور مٹی کے برتن استعمال کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے نمونوں میں نفاست اور مہارت آتی گئی۔ یہ باشندے پتھر اور ہڈیوں سے اپنے اوزار بناتے تھے۔ پتھر سے بنی ایک کلہاڑی بھی ان ان کی باقیات سے ملی ہے۔ یہ تانبے سے اوزار بھی بناتے تھے اور چمکدار موتیوں کی مالائیں بنانے کا ہنر بھی جانتے تھے۔
مہرگڑھ کی آبادی ٹوکریوں کے استعمال سے بھی واقف تھی اور اناج کو ذخیرہ کرنا بھی جانتی تھی، ان کے گھر ایک سے زائد کمروں پر مشتمل ہوتے تھے جن میں سے ایک کمرہ اناج ذخیرہ کرنے کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ یہ انسانی دانتوں کے ابتدائی سرجن بھی تھے، دانتوں کی پہلی سرجری کے شواہد یہیں سے برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے دور دراز علاقوں سے تجارت تعلقات بھی تھے۔ تو اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مہرگڑھ کا انسان دنیا کا اولین کسان، باغبان، تاجر، دستکار اور صنعت کار تھا۔ کیونکہ اب تو مہرگڑھ وادی سندھ ہی نہیں بلکہ تاریخی سمیری اور مصری تہذیبوں سے بھی قدیم معاشرت قرار دی جا چکی ہے۔
سات ہزار سال قبل مسیح تک یہ تہذیب اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ پھر پانچویں صدی قبل مسیح تک مہرگڑھ کا سرسبز و شاداب علاقہ موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آنا شروع ہو گیا۔ یہاں بارشیں روٹھتی چلی گئیں اور دریائے بولان نے ناراض ہو کر اپنا رخ تبدیل کر لیا۔ مقامی آبادی آہستہ آہستہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ماہرین خیال کرتے ہیں کہ یہی مہرگڑھ کے رہائشی ہی بعد میں وادی سندھ میں پہنچے اور وہاں جا کر موہنجوداڑو، اور ہڑپہ جیسے شاندار شہر تعمیر کیے جو مہرگڑھ سے بھی جدید اور پختہ تھے۔ چونکہ مہر گڑھ کی آبادی شہری معاشرت سے اچھی طرح واقف تھی۔ اس لیے ان کے لیے ایسے منظم شہر بسا لینا کوئی حیرت کی بات نہیں تھی۔ مہرگڑھ کی تہذیب و تمدن کے اثرات وادی سندھ (موجودہ پاکستان) پر ہی نہیں بلکہ مشرقی ایران اور جنوبی افغانستان پر بھی نمایاں ہیں۔
افسوس کی بات مگر یہ ہے کہ مہرگڑھ سویلائزیشن پر ابھی بہت کم تحقیق ہوئی ہے اور اس پر ابھی بہت کام ہونا باقی ہے۔ یہ ایک گمشدہ تہذیبی خزانہ ہے جو جتنا دریافت ہوا ہے اس کی بھی حفاظت نہیں ہو سکی۔ یہاں ابھی تک کوئی مقامی میوزیم بھی نہیں بنایا جا سکا جہاں نوادرات محفوظ کیے جاتے۔ بلکہ بہت سارے نوادرات کے تو چوری اور سمگل ہونے کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔ صوبے کے مخدوش سیکیورٹی حالات اور حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مہرگڑھ کی سائٹ کو بھی بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے غیر ملکی سیاح آنا تو دور کی بات مقامی سیاح بھی یہاں نہیں جا سکتے۔ جس فرانسیسی ٹیم نے یہاں یہاں سالہا سال تحقیق کی سیکورٹی مسائل کی وجہ سے اس ٹیم کو بھی یہاں سے نکلنا پڑا۔
بلوچستان تاریخی اور تہذیبی حوالے سے ایک انتہائی زرخیز خطہ ہے۔ مقامی قبائل ابھی تک اپنی صدیوں پرانی روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کے باشندوں کی زندگیوں پر ابھی تک مہرگڑھ کی تہذیبی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ بلوچستان میں امن لوٹے اور ہم اس قابل قدر تہذیب کے گمشدہ رازوں کو کھوج سکیں جو بلوچستان ہی نہیں بلکہ سارے پاکستان کی پہچان ہیں۔ اس عظیم ورثے کی کھوج اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ابھی تک بلوچی تہذیبی شعور کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔


