مونی صاحب کا نئے زمانے پر عدم اعتماد: کچھوا، سائیکل اور نوکیا 3310
یہ دنیا ترقی کی راہ پر سرپٹ دوڑ رہی ہے، مگر مونی صاحب اب بھی پرانے وقتوں کے عاشق اور نئے دور کے کٹر دشمن ہیں۔ ان کے مطابق ہر نئی ایجاد اصل میں قیامت کی نشانی ہے، اور ہر بدلتی ہوئی چیز شیطان کی چال!
دنیا چاند پر پہنچ گئی، لیکن مونی صاحب اب بھی کچھوے کے فلسفے پر کاربند ہیں۔ ان کے نزدیک جو بندہ کم چلے، زیادہ کھائے اور آرام کرے، وہی کامیاب ہے۔ کچھوا ان کا رول ماڈل ہے کیونکہ نہ یہ جم جاتا ہے، نہ واک کرتا ہے، اور پھر بھی 150 سال جی لیتا ہے۔
”اب بندہ صبح اٹھے اور دیکھے کہ دنیا میں کوئی نئی بلا آ گئی ہے، تو ایسے جدید دور سے کیا فائدہ؟“ مونی صاحب حسرت سے پرانے زمانے کی طرف تکتے ہیں، جہاں زندگی سادگی، سائیکل اور نوکیا 3310 کے گرد گھومتی تھی۔
مونی صاحب جدید ٹرانسپورٹ کے کٹر مخالف ہیں۔ ان کے نزدیک سائیکل کے بعد دنیا میں کوئی ایجاد ضروری نہیں تھی۔ ان کے نزدیک سائیکل ہی ترقی کی معراج تھی۔ وہ اکثر فرماتے ہیں :
”پہلے بندہ سائیکل چلاتا تھا، صحت مند رہتا تھا، نہ پیٹرول کا خرچہ، نہ ٹریفک کا جھنجھٹ! اب ہر بندے کے پاس گاڑی ہے، مگر ٹینشن دگنی ہو گئی ہے!“
یہی وجہ ہے کہ جب کسی کو ٹریفک میں پھنسا دیکھتے ہیں، تو ہلکا سا قہقہہ لگا کر کہتے ہیں :
”کہا تھا ناں، سائیکل چلا لو! مگر نہیں، سب کو بڑی گاڑی کا شوق ہے، لو بھگتو، اب اسی میں بیٹھے رہو!“
مونی صاحب کو آج کل کے بچوں کے بھاری بستے، ٹیوشن اور مشکل ریاضی کے سوالات دیکھ کر سخت افسوس ہوتا ہے۔
”ہمارے زمانے میں کیا سہولت تھی، دو دونے چار، تین تینے نو، یہ یاد کر لو، ریاضی پاس! اب بچے اسکول جاتے ہیں تو بستہ اتنا بھاری ہوتا ہے جیسے پڑھنے نہیں، وزن اٹھانے کا کورس کرنے جا رہے ہوں!“
مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ اب استاد بچوں سے ڈرتے ہیں! مونی صاحب کو یاد ہے کہ ان کے وقتوں میں استاد کا جوتا اور بچہ لازم و ملزوم تھے۔
”ہمارے استاد جو مرغا بناتے تھے، وہ آج تک نہیں بھولے! اب تو بچے استاد کی شکایت لگا دیتے ہیں، پہلے شکایت لگانے پر استاد مزید دو لگا دیتا تھا!“
مونی صاحب کو اگر کسی ایک ایجاد سے سب سے زیادہ نفرت ہے، تو وہ اسمارٹ فون ہے۔ وہ آج بھی پچیس سال پرانا نوکیا 3310 لیے پھرتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔
”یہ دیکھو! نہ بیٹری ختم ہوتی ہے، نہ وائی فائی، نہ نوٹیفکیشن کی ٹیں ٹیں! بس فون کرو یا میسج کرو، اور سکون کی زندگی جیو!“
جب کسی کو فون پر جھکا دیکھتے ہیں تو افسوس سے سر ہلا کر کہتے ہیں :
”یہ کیا زمانہ آ گیا ہے! پہلے لوگ آمنے سامنے بیٹھ کر باتیں کرتے تھے، اب ایک کمرے میں بیٹھے بھی موبائل پر مصروف رہتے ہیں
مونی صاحب کو آج کل کے فیشن سے خاص چڑ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے لڑکیوں پر شاعری لکھی جاتی تھی، گانے گائے جاتے تھے، اور وہ بغیر میک اپ کے بھی حسین لگتی تھیں۔
”اب تو حال یہ ہے کہ ٹک ٹاک پر فلٹر لگا کر پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون گورا ہے، کون کالا! ایک ہی لڑکی دس ویڈیوز میں دس رنگ بدلتی ہے، بندہ کیا کرے؟“
یہاں مونی صاحب ایک انتہائی سنجیدہ نتیجہ نکالتے ہیں :
”اس سے بہتر ہے کہ بندہ پیار ہی نہ کرے، کم از کم دھوکا کھانے سے تو بچے گا!“
مونی صاحب کے مطابق پہلے پیار آسان تھا، خط لکھا، شاعری کی، اور قصہ تمام!
”اب تو اگر کسی کو پسند کر لو تو لڑکی کے خرچے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ کبھی مہنگے کپڑے، کبھی سالگرہ کے تحفے، کبھی کیفے میں کافی! بندہ محبت کرے یا نوکری؟“
یہ کہتے ہی وہ اپنا نوکیا 3310 گھماتے ہیں، ایک لمبی سانس لیتے ہیں، اور شکر ادا کرتے ہیں کہ کم از کم ان کی جیب پر محبت کا بوجھ نہیں پڑا!
مونی صاحب کے مطابق دنیا کی تباہی اب زیادہ دور نہیں!
• کچھوا سکون سے جی رہا ہے، اور انسان بھاگ دوڑ میں پاگل ہو رہا ہے۔
• سائیکل کو چھوڑ کر گاڑیوں میں بیٹھ گئے، مگر خوشی وہیں کی وہیں ہے۔
• نوکیا چھوڑ کر اسمارٹ فون لے لیا، مگر دماغ کا سکون چلا گیا۔
• پیار ہو جائے تو خرچے بڑھ جاتے ہیں، نہ ہو تو زندگی اداس لگتی ہے۔
یہ سب کہہ کر مونی صاحب ایک لمبی آہ بھرتے ہیں اور کسی پرانی سائیکل والے کو گزرتا دیکھ کر رشک سے اسے دیکھنے لگتے ہیں۔
”یہی بندہ اصل میں کامیاب ہے!“

