مصنف بیچارا اب منظر میں کیسے رہے؟
آج کل کتابیں جس تیز رفتاری سے آ رہی ہیں اسی تیز رفتاری سے پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ کتاب کی اشاعت کے پہلے چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک برس تک کتاب کے نام کا دیا روشن رہتا ہے تیرہویں مہینے وہ بھی پھڑپھڑانے لگتا ہے۔ پبلشر لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ چلو پانچ سو اشاعت کے دو ایڈیشن (یعنی ہزار کتب) ایک برس میں بیچ دیے۔
سال بعد بلکہ نو ماہ بعد مصنف کی ایک اور تازہ کتاب شائع ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ اب قاری بلکہ خریدار ہیں کہ دوسری کتاب خریدنے بیٹھ گئے۔ پہلی کتب پڑھی نہیں پڑھی کتنی پڑھی کچھ یاد نہیں ہاں تازہ اشاعت خریدی، تھوڑی پڑھی، ایک تصویر بنا کر دو پیراگراف ساتھ پوسٹ کیے اور یہ cycle چلتا رہتا ہے۔
جو مصنف ہمت کر کے ایک آدھ کتاب ہی لکھ پاتے ہیں وہ سال بعد سوچتے ہیں ارے ہماری کتاب کا کوئی نام نہیں کوئی ذکر نہیں۔ فیس بکی تبصرے تذکرے جو کتاب کی اشاعت سے پہلے اور بعد میں رونما ہوتے ہیں اور مصنف کو ساتویں آسمان پر لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ توقعات کی نفسیات وہیں سے جنم لیتی ہے اور کچھ مدت کے بعد مصنف جس کی کتاب معیاری ادب تھی یا نہیں خود کو منظر سے غائب پاتا ہے۔ کیا کیجیے کہ کمرشلائزیشن کا تقاضا ہی یہی ہے کہ صارف کے سامنے اشتہار بار بار چلایا جائے۔
چند کتابیں جو برس دو برس پہلے شائع ہوئیں مگر ان کا تذکرہ اور خریدار اب خال خال ہیں :
قصہ چار نسلوں کا ( قیصرہ شفقت )
دیہاتی بابو ( اسد طاہر جپہ )
داڑھی والا (حسنین جمال )
عاشق مست جلالی ( اظہار الحق )
دھنک کا آٹھواں رنگ ( لینہ حاشر )
گزرے دن ( حسن منظر )
دو ایسی آپ بیتیاں جو ایک برس پہلے اشاعت پذیر ہوئیں اور جن کا تذکرہ ان کے مصنفین کی شہرت کے باوجود بھی خال خال ہے۔
کتاب کہانی ( یاسر جواد )
آباد ہوئے برباد ہوئے ( علی اکبر ناطق )
وہ کتب جو اشاعت کے ایک سال بعد اب پس منظر میں ہیں کیونکہ ان کے مصنفین ہر چند ماہ بعد اپنی تازہ تصنیف کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں
پوٹھوہار خطہ دلربا (ڈاکٹر شاہد صدیقی)
آج کل ڈاکٹر صاحب کی کتاب آسماں در آسماں کا تذکرہ ہے۔
کماری والا ( علی اکبر ناطق )
آج کل ناطق صاحب کی کتاب کچے گھروں کی کہانیاں اور ناول کوفے کے مسافر منظر پر ہیں۔
اب منظر پر رہنے کا سادہ سا کلیہ تو یہ ہے صاحب کہ ہر چھ ماہ بعد سال بعد ایک دو کتب کی اشاعت ہو، اچھا سوشل سرکل آپ نے بنایا ہو، چند اچھے تعلقات بھی میسر ہوں تو تبھی کتاب زندہ رہ پائے گی ورنہ بہت مشکل ہے استاد۔


