کھانے دار مشاعرہ


اردو ادب کی تاریخ میں مشاعروں کا ایک نمایاں مقام ہے جس نے اردو زبان کی ترویج و ترقی کے علاوہ ہندوستان کو نامی گرامی شاعر بھی عطا کیے۔ ان محافل کی سرپرستی پہلے بادشاہ، ریاستوں کے نواب اور رئیس زادے فرماتے تھے مگر پھر دور بدلا تقاضے بدلے تو اس روایت کے اصول و محاسن بھی بدل گئے۔ لیکن ہر دور میں مشاعروں کا انعقاد ہوتا رہا ہے جو اب بھی جاری و ساری ہے۔ اسی ضمن میں ایک مشاعرہ ہمارے یہاں بھی اس چھوٹے سے قصبے میں منعقد ہوا جس کی بیس ہزار کی آبادی میں چالیس ہزار کے قریب تو شعرائے کرام کا نام و نشاں ملتا ہے۔ گویا برسات میں اتنے مینڈک پیدا نہیں ہوتے جتنے ہمارے اس مردم خیز قصبے نے شعرائے کرام پیدا کر ڈالے اور ابھی بھی دھرتی بنجر ہونے کی بجائے امید سے ہے۔ ان شعرائے کرام کی اکثریت زمانے کی ناقدر شناسی کی وجہ سے پردہ اخفاء میں ہے تاہم دو اشخاص ایسے ہیں جن کی شہرت کا ڈنکا قصبے کی حدود سے باہر بھی دو تین گاؤں میں بجتا ہے۔ میری مراد جناب قبلہ یادگار فراموش اور میاں خوش دل اداس صاحب سے ہے جن کی شاعری کا ایک زمانہ قائل اور تعریف میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔ ہر دو شخصیات نے شاعری کو یوں اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے کہ غالب و میر کی ہر غزل ان کی بدولت قصبے کے بچے بچے کی زبان پر ہے، جس میں ہر مقطع کے اندر غالب و میر کی بجائے فراموش اور اداس لکھا نظر آتا ہے۔

ان شعرائے کرام کے ہاں عموماً ہر جمعرات کو چھوٹے موٹے مشاعرے تو چلتے ہی رہتے ہیں، لیکن جس سال حاجی صاحب آڑھت منڈی والے نے پیاز کی ذخیرہ اندوزی سے بے پناہ منافع کمایا، اس سال اُن کے جی میں سمائی کہ سبزی منڈی کے احاطے میں ایک یادگار مشاعرہ منعقد کروایا جائے جس کو مدتوں لوگ یاد رکھیں۔ حاجی صاحب کی اس توانا آواز پر قصبے کے ادب پرستوں نے لبیک کہا اور اُن کے ہم قدم ہو کر اس مشاعرے کو یادگار بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کر دیا۔ پورے قصبے کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور در و دیوار اردو کے بے وزن اشعار سے یوں رنگین ہو گئے کہ ہر شخص کی زبان اردو اشعار کے ورد سے تر ہو گئی۔ یہ مشاعرہ جمعرات کو ہی منعقد ہوا جس میں سٹیج سیکریٹری کی خدمات قصبے کے لمبردار صاحب نے ادا کیں جنہوں نے پانچویں جماعت کا امتحان اُس زمانے میں فیل کیا تھا جب پاکستان کو بنے بمشکل پانچ سال ہوئے تھے۔ اس محفل میں کیونکہ لنگر شریف کا بھی معقول بندوبست تھا چنانچہ ادب کے عشاق کشاں کشاں آتے گئے، کھانے سے سیراب ہوتے گئے اور چپ چاپ واپسی کی راہ ناپتے گئے۔ یہ صورت حال جہاں ایک طرف بہت نازک تھی وہیں اس لحاظ سے خطرناک بھی تھی کہ اگر اہلِ ذوق یوں جوق در جوق آ کر پتیلے صاف کرتے گئے تو شعراء حضرات کے لئے کیا بچے گا۔ حاجی صاحب نے اپنے بے پناہ تجربے اور دولت کے تخمینے کو سامنے رکھ کر جتنا کھانا بنوایا تھا وہ ایسی محافل کے لئے کافی و شافی ہوتا ہے لیکن کیا کیجیے کہ یہاں اُن کا واسطہ اہلِ ذوق سے پڑا تھا اور وہ بھی کھانے کے اہلِ ذوق جو کھانے کی یوں تباہی مچا رہے تھے جیسے سور کماد کی۔ ہر طرف سے ”ہل من مزید، ہل من مزید“ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں جن کے شور میں کوئی دوسری آواز سنائی ہی نہیں دیتی تھی۔ ابھی پہلے سے بیٹھے افراد اٹھنے کا نام نہ لیتے کہ قصبے سے مزید تازہ دم فوج میدانِ کارزار میں شجاعت کے کارنامے رقم کرنے پہنچ جاتی۔ ایسے میں جب بیٹھنے کی جگہ کم پڑ گئی تو طعام کے شوقین اور ادب کے سرپرستوں نے وہ بینر اتار کر نیچے زمین پر بچھا لئے جن پر اس مشاعرے کے حوالے سے اعلانات درج تھے۔ اب حالت یہ ہو چکی تھی کہ ایک ٹولی کے نیچے اگر دو بینر کے ٹکڑے بچھے تھے تو وہ کچھ ایسے گڈ مڈ تھے ”ہم مشاعرے میں آنے والے تمام معززین کو“ اور دوسرا ٹکڑا ”واش روم کا راستہ بائیں ہاتھ ہے“ کے ساتھ مزین تھا۔ ایک دوسری ٹولی کے پاس بینرز کچھ یوں منہ چڑا رہے تھے، ”لائی حیات آئے، لی چلی چلے“ ، دوسرا ٹکڑا ”لنگر کھائے بغیر کوئی نہیں جا سکتا“ ۔ ایک حافظ صاحب جس بینر سے منہ صاف کر رہے تھے اُس پر حاجی صاحب کی وہ تصویر پینٹ تھی جس میں وہ خاکروبوں کے ساتھ ہفتہ صفائی منانے کے بعد جھاڑو لیے کھڑے تھے۔ ادھر حاجی صاحب، اُن کے ملازمین اور پکائی والے کھانا دیتے دیتے تھک گئے مگر اُدھر عوام کھانا کھاتے نہ تھکے بلکہ اُسی جوش و خروش اور جذبے سے پلیٹیں صاف کیے جا رہے تھے جو اس قوم کا شعار ہے۔ بالکل ساتھ ٹینٹ کے اندر شعراء کرام آپس میں ہی اشعار سنا کر داد و تحسین دیے جا رہے تھے، لیکن مردم خیز قصبے کے عوام اُن کو سننے کی بجائے یہاں حاضر ہونا ضروری خیال کر رہے تھے۔ اب عین اُس وقت جب یہ معرکہ حق و باطل اپنے عروج پر تھا اور قصبے کی فوج پلیٹوں کی پلیٹوں کو شکست دیے آگے بڑھ رہی تھی، ایسے نازک موقع پر حاجی صاحب کی لائی گئی کیٹرنگ سروس نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے اپنی شکست تسلیم کی اور وہاں سے یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

حاجی صاحب نے اس موقع پر فوری بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس بلا کر اس ناگہانی آفت سے بچنے کے متعلق تجاویز طلب کیں تاکہ اس یاجوج ماجوج نما مصیبت سے نجات مل سکے۔ اس اجلاس میں متعدد مفید تجاویز کا تبادلہ ہوا لیکن حاجی صاحب کا دل کسی طرح مطمئن نہ ہوا مگر اچانک ایک ایسی تجویز سامنے آئی جو معقول ہونے کے ساتھ ساتھ کم خرچ بالا نشین بھی تھی یعنی کھانے میں سرخ مرچ کا استعمال اتنا بڑھا دیا جائے کہ اہلِ ذوق کھانا مانگنے کی بجائے اس سے پناہ مانگیں، چنانچہ اس تجویز پر فوری عمل شروع کر دیا گیا۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ اجلاس ختم ہوئے دس منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ دشمن کی ٹڈی دل فوج کے لشکر پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے۔ جس نے ایک لقمہ کھایا اُسے دوسرے کی طلب نہ رہی اور جو کمزور معدے والا تھا اُس نے کھلے میدان کی راہ لی تاکہ وہاں جاکر کھلی آب و ہوا میں بیٹھ کر غور کرسکے کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا ہے؟ اب محفل کا نہ وہ رنگ رہا نہ وہ جوش، نہ وہ اہلِ ذوق دکھائی دیتے تھے نہ وہ اہلِ شوق کا ہجوم نظر آتا تھا جو اٹھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ حاجی صاحب کے چہرے پر بھی بشاشت کے ساتھ ہونٹوں پر انبساط تھا گویا اس معرکے میں اصلی فاتح بالآخر وہی ٹھہرے۔ ایک ایسی اداسی اور خاموشی نظر آتی جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ مشاعرہ ناکام ہو جائے گا، مگر اس کے باوجود بھی پچاس سے ساٹھ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد پنڈال میں کسی طرح بچ گئی جو اس قصبے کے ذوقِ طعام اور اردو ادب سے والہانہ لگاؤ کی گواہی دیتی تھی۔

Facebook Comments HS