کیا آپ مصنوعی ذہانت کے خلاف ہیں؟
سائنس نے چاقو بنایا
ایک انسان نے اس چاقو سے سیب کاٹ کر اپنی بیٹی کو کھلایا
دوسرے انسان نے اس چاقو سے اپنے دشمن کا گلا کاٹا
سائنس نے قلم بنایا
ایک انسان نے اس سے اپنی محبوبہ کے لیے محبت بھرا شعر رقم کیا
دوسرے انسان نے اس سے اپنے رقیب کے لیے نفرت بھرا خط لکھا
سائنس نے کار بنائی
ایک انسان نے اس میں اپنے بچوں کو دنیا کی سیر کروائی
دوسرے انسان نے اس میں دشمنوں کے بچوں کو اغوا کیا
سائنس نے ہوائی جہاز بنایا
ایک انسان نے اس میں مریضوں کو ہسپتال پہنچایا
دوسرے انسان نے اس جہاز سے دشمنوں پر بم گرائے
سائنس نے ایٹمی توانائی دریافت کی
کچھ انسانوں نے اس توانائی سے تاریک گھروں کو روشن کیا
کچھ اور انسانوں نے اسی توانائی سے ایٹم بم بنا کر روشن گھروں کو تاریک کیا
جدید دور میں جوں جوں علم نے ترقی کی ہے اس کا انسانیت سے رشتہ بھی تبدیل ہوا ہے
ہم نوجوانوں کو سائنس پڑھاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے دو طرح کے استعمال ہو سکتے ہیں
ایک استعمال انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے
دوسرا استعمال انسانیت کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے اور انسانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے
ہمیں اپنے نوجوانوں کو سائنس کے درس کے ساتھ ساتھ انسان دوستی کا درس بھی دینا ہو گا تا کہ وہ جان سکیں کہ سائنس اور ٹکنالوجی حاصل کرنا ان کا انسانی حق ہے لیکن اس حق کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے
EVERY RIGHT COMES WITH A RESPONSIBILITY
اور یہ ذمہ داری سماجی ذمہ داری ہے۔
اکیسویں صدی میں بہت سے مرد اور عورتیں مصنوعی ذہانت کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ ہے۔
جب لوگ میری رائے پوچھتے ہیں تو میں انہیں ایک کہانی سناتا ہوں
ایک شخص کو شکار کرنے کا بڑا شوق تھا اور اس نے ایک قیمتی بندوق خرید رکھی تھی جس سے وہ ہرن کا شکار کرتا تھا۔ لیکن جب اس کی محبوبہ اسے چھوڑ کر چلی گئی تو وہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا اور اس نے اپنی ہی پسندیدہ بندوق سے خود کشی کر لی۔
میں سمجھتا ہوں کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی حقیقی ذہانت نے بنائی ہے اور وہی اس کے مستقبل کے ذمہ دار ہے۔
اگر انسان اس کا مثبت استعمال کریں گے تو انسانیت کو فائدہ ہو گا
اور اگر منفی استعمال کریں گے تو انسانوں کو نقصان ہو گا۔
سگمنڈ فرائڈ نے ہمیں بتایا کہ انسان کے لاشعور میں جہاں تعمیری جذبے رہتے ہیں وہیں تخریبی جذبے بھی چھپے ہوئے ہیں۔
دانا انسان اپنے لاشعوری تخریبی جذبوں کو پہچانتے ہیں اور پھر ان پر شعوری طور پر قابو پانا سیکھتے ہیں۔
انسانوں اور جانوروں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ حیوان اپنی جبلت کے خلاف کام نہیں کرتے
شیر گوشت کھاتا ہے
گائے گھاس کھاتی ہے
کسی نے شیر کو گھاس کھاتے اور گائے کو گوشت کھاتے نہیں دیکھا
لیکن
انسان چاہے تو گوشت کھائے اور چاہے تو سبزی اور جب چاہے گوشت خور سے سبزی خور بن جائے۔
انسان اپنے اختیار کی وجہ سے انسان ہے۔
انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی فیصلوں سے اپنا مستقبل بناتے ہیں
انسانوں کو اختیار ہے کہ وہ
اپنے بہترین دوست بن جائیں یا بدترین دشمن
اگر انسانوں نے اپنا بدترین دشمن بننے کا فیصلہ کیا تو وہ خانہ جنگیوں اور ایٹم بموں سے اجتماعی خود کشی کر لیں گے
اور
اگر انسانوں نے اپنا بہترین دوست بننے کا فیصلہ کیا تو وہ ایک دوسرے سے عزت ’احترام‘ پیار اور محبت سے زندہ رہنا اور پرامن معاشرے تخلیق کرنا سیکھیں گے
میری پسندیدہ کہانی کے ہیرو وہ ہندوستانی بابا جی ہیں جو نوے برس کی عمر میں اپنے باغ میں آم کا پودا لگا رہے تھے
ہمسایے نے کہا
بابا جی آم کا پودا سات سال میں درخت بنتا ہے۔
جب یہ درخت پھل دے گا آپ زندہ بھی نہ ہوں گے
بابا جی نے مسکراتے ہوئے کہا
یہ پودا میں اپنے پوتے اور نواسی کے لیے لگا رہا ہوں
چنانچہ ہم سب کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ
کیا ہم اپنا
بہترین دوست بننا چاہتے ہیں؟
یا
بدترین دشمن؟
کیا ہم اجتماعی خودکشی کرنا چاہتے ہیں؟
یا
آئندہ نسلوں کے لیے پرامن معاشرے قائم کرنا چاہتے ہیں؟
اسی سوال کے جواب میں
انسانیت کے مستقبل کا دار و مدار ہے
اور اسی سوال کے جواب میں
انسانوں کی حقیقی ذہانت کی تخلیق کردہ
مصنوعی ذہانت کا مستقبل بھی پوشیدہ ہے۔
۔ ۔


