زبانوں کی ترقی کا نوآبادیاتی بیانیہ


پاکستان جیسے پوسٹ کالونیل ملک میں برطانوی نو آبادیاتی حکومت کے اثرات اس قدر گہرے ہیں کہ 77 سال بعد بھی پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ ایسٹ انڈیا کمپنی ( 1857 کے بعد برطانیہ ) کی قبضہ گیر حکمرانی کو باعث شرف سمجھتے ہوئے اس کی عظمت کے گن گاتے ہیں۔ علمی، تاریخی اور تہذیبی طور پر نو آبادیاتی عوام کی نفسیات اور ان کا تشخص اس قدر مسخ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہی فاتحین اور قابضین کی تعریف و توصیف میں مگن نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں علمی طور پر اردو دان طبقہ جہاں فورٹ ولیم کالج کی تعمیر اور اردو زبان کی ترقی کے حوالے سے فورٹ ولیم کالج کے معجزات و کرامات کے قصے بیان کرتے نہیں تھکتے تو وہی دوسری جانب سندھی زبان و ادب سے وابستہ اساتذہ کی اکثریت بارٹل فیریئر جیسے ظالم و سفاک انگریز کمشنر کی سندھی زبان پر خدمات کے حوالے سے نازاں و شاداں دکھائی دیتی ہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر انسان اپنی زبان سے شدید جذباتی وابستگی رکھتا ہے اور محبت کرتا ہے۔ پاکستان میں ادبیات سے وابستہ افراد زبان و ادب کی ترقی کے حوالے سے عام طور پر یہ دلیلیں پیش کرتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور انگریز حکمرانوں نے ان کی زبان و ادب کو ترقی دی۔ یہ دلیل اپنے جوہر میں نہ صرف انتہائی سادہ بلکہ مکمل طور پر غیر سیاسی اور تنقیدی شعور سے عاری ہے۔ یہ دلیل کالونیل تصور علم اور نو آبادیاتی علمی و فکری غلبہ کا اظہار ہے۔ یہ دلیل اس پیراڈائم میں رہ کر پیش کی جاتی ہے جو پیراڈائم کالونائزرز نے صدیوں سے ہم پر تاریخی، نصابی اور تدریسی طور پر مسلط کر رکھی ہے۔ اس لیے ہماری اکثریت اس پیراڈائم کے باہر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ ہم نو آبادیاتی خدمات یا کارناموں کا پوسٹ کالونیل نقطہ نگاہ کے تحت تجزیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ نو آبادیاتی ذہن قبضہ گیروں کی نام نہاد خدمات کا علمی محاکمہ کرنے میں بے بس نظر آتی ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا مقامی زبانوں کو فروغ دینا اس کے نو آبادیاتی، تجارتی اور سیاسی مفادات سے جڑا ہوا سوچا سمجھا عمل تھا۔ یہ ایک کالونیل پروجیکٹ تھا اور اس کے کئی مقاصد تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کو انڈیا میں اپنے وسیع علاقے پر موثر طریقے سے حکومت کرنے کے لیے ایک مضبوط انتظامی بندوبست کی ضرورت تھی۔ مقامی زبانوں کے فروغ سے کمپنی کو مقامی اہلکاروں کی بھرتی کے عمل اور ان کی تعلیم و تربیت میں آسانی ہوتی تھی۔ مقامی زبانوں کے فروغ سے کمپنی عوام کے ساتھ موثر طریقے سے بات چیت کر سکتی تھی۔ مقامی زبانوں کے استعمال سے انتظامی عمل کو آسان بنایا گیا۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کمپنی افسران کی جانب سے ٹیکس وصولی کے نظام اور انگریزی قوانین مقامی سطح پر بآسانی سمجھ آئیں اور ان پر عمل درآمد ہو جس سے کمپنی حکومت کا عوام پر موثر کنٹرول قائم رکھا جاتا تھا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی اچھی طرح سے یہ سمجھتی تھی کہ بطور قبضہ گیر انڈیا میں اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے انہیں مقامی اشرافیہ (Local Elites) کی تائید و حمایت کی ضرورت ہے جو سماجی نظم و ضبط، سیاسی اثر رسوخ، انتظامی کنٹرول اور تجارت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی تھی۔ مقامی زبانوں کے فروغ سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈیا کی مقامی اشرافیہ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ کمپنی نے مقامی اشرافیہ جو اکثر مقامی امیر اور با اثر خاندانوں سے تعلق رکھتی تھی کو برطانوی قانونی، انتظامی اور اقتصادی نظام میں تربیت دی جس سے وہ بحیثیت اطاعت گزار نو آبادیاتی انتظامیہ کا ایک اہم حصہ بن گئے۔ اس طرح وہ لوٹ کھسوٹ اور استحصال پر مبنی انگریزی حکمرانی کو جائز قرار دیتے رہے۔

مقامی زبانوں کے فروغ کے نام پر کمپنی کے اصل مقاصد اور مفادات یہ تھے کہ وہ ہندوستانی ثقافت، تاریخ اور مذہب کی تعبیر و تشریح پر نو آبادیاتی نقطہ نگاہ کے تحت قابو پائیں۔ برطانوی قوانین اور ادب کے مقامی زبانوں میں تراجم کر کے ہندوستانی ذہن و فکر کو نوآبادیاتی خیالات کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی۔ زبان کے ذریعے ثقافتی و علمی ہم آہنگی کا عمل ایک نظریاتی آلہ تھا جو برطانوی موجودگی کو ایک ”تہذیبی مشن“ کے طور پر پیش کرتا تھا۔ مقامی زبانوں کو انگریزی اقدار، خیالات، نظریات اور یورپی برتری کے بیانیے کو پھیلانے کا ذریعہ بنایا گیا۔

ایسٹ انڈیا کمپنی بنیادی طور پر ایک استحصالی اقتصادی ادارہ تھی جس کا مقصد ہندوستانی وسائل کو لوٹنا اور تجارت پر قابو پانا تھا۔ مقامی زبانوں کا فروغ کمپنی کو مقامی تاجروں اور کاروباری افراد کے ساتھ بہتر بات چیت کرنے میں مدد دیتا تھا جو معیشت کے چلانے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ مقامی کاروباری کمیونٹی کے ساتھ موثر بات چیت سے تجارتی مذاکرات، ٹیکس کی وصولی اور وسائل کی نکاسی جیسے کام آسان ہو جاتے تھے۔ اس سے کمپنی کو اقتصادی غلبہ حاصل کرنے اور ہندوستان کے وسائل کا استحصال کرنے کا زبردست موقع ہاتھ آیا۔ چونکہ ہندوستان مختلف ثقافتوں، زبانوں اور مذاہب کا حامل تھا اور انگریزوں نے اس صورتحال کا سیاسی طور پر بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مختلف علاقوں میں مقامی زبانوں کے فروغ سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کی مختلف لسانی اور ثقافتی اکائیوں کے درمیان فرق کو مزید بڑھایا۔ کمپنی حکومت کا مقصد زبانوں کی خدمت نہیں تھی بلکہ لسانی شناخت کو ابھار کر مختلف لسانی اکائیوں کو ایک دوسرے کے مقابلے پر لا کھڑا کرنا تھا۔ یہ ”تقسیم اور غلبہ“ کی حکمت عملی تھی جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ کوئی ایک بھی گروہ کمپنی حکومت کے خلاف متحد نہ ہو سکے۔ اسی طرح کمیونل (مذہبی و فرقہ ورانہ شناخت ) بنیادوں پر بھی ہندوستانی عوام کو مزید تقسیم در تقسیم کیا گیا۔ ایک ہی مذہب سے تعلق رکھنے والے مختلف فرقوں کی شناخت کو باقاعدہ اور منظم طور پر ابھارا گیا۔

Facebook Comments HS