واٹس ایپ سٹیٹس کی نفسیات


khawar jamal

اگلے وقتوں میں جب آبادی کم تھی، لوگ آس پاس رہتے تھے۔ عزیز رشتہ دار زیادہ سے زیادہ کچھ کلومیٹر دور ہوتے تھے تو خوشی یا غم کی خبریں جلد ایک دوسرے تک پہنچ جاتی تھیں۔ لوگ فوراً مقررہ جگہ پر پہنچ جاتے تھے اور خوشی یا غم بانٹ لیا جاتا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہوا اور بات آج کے دور تک جا پہنچی جہاں ایک سیکنڈ میں کسی کو بھی کوئی خبر پہنچائی جا سکتی ہے۔

سوشل میڈیا نے تو کام اتنا آسان کر دیا ہے کہ شادی کے کارڈ بھی اب واٹس ایپ کر دیے جاتے ہیں۔ اکثر سوشل میڈیا اور رابطے کی سہولت دینے والی ایپس لوگوں کو اپنا ”سٹیٹس“ اپ لوڈ کرنے کی سہولت مہیا کرتی ہیں اور لوگ اسے مفت میں بٹنے والی امداد کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ منچلے تو اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی خبر بھی سٹیٹس پر ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے مجھ جیسے شریف لوگوں کی حسرتوں میں اونچے درجے کا سیلاب آ جاتا ہے۔

سٹیٹس اپ لوڈ کرنے کا سب سے زیادہ فائدہ ان انکل اور آنٹیوں کو ہوتا ہے جو واٹس ایپ کو صبح بخیر اور سوہانجنے کے فوائد پر مبنی ویڈیوز اور میسج موبائل میں موجود ہر نمبر پر بھیجنے پر قادر ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں کے بال بچوں پر نظر رکھنے کا اس سے بہتر طریقہ بھلا کیا ہو سکتا ہے۔ اب یہ معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جانے کی بالکل ضرورت نہیں رہی کہ فلاں کی بیٹی کی شادی ہو گئی یا نہیں۔ فلاں کے بیٹے کی نوکری لگی کہ نہیں۔ ادھر بیٹے نے ”فیلنگ لوسٹ“ کا سٹیٹس لگایا نہیں کے عزیزوں کے دل کو راحت ہوئی، شکر ہے ابھی بے روزگار ہی چل رہا ہے۔

ایک اور فائدہ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کا بھی ہے۔ میرے ایک دوست نے انسٹا گرام پر سٹیٹس لگایا کہ ”اگر میں چپ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ڈر گیا ہوں“ ۔ پس منظر میں سدھو موسے والا کا گانا چل رہا تھا جب کہ منظر میں نواز الدین صدیقی سگریٹ کا دھواں اڑا رہے تھے۔ میں نے اسے فون کیا استاد خیر ہے سب؟ کہنے لگا بس یار تیری بھابی ناراض ہو کر میکے گئی ہے۔ اس کے بھائی واپس نہیں آنے دے رہے۔ میرا شک صحیح نکلا۔

پھر اس سہولت کے زیادہ استعمال سے عوام میں ایک نفسیاتی عارضہ بھی جڑ پکڑتا جا رہا ہے جو کہ ہر کھانے سے پہلے تصاویر لینے کا ہے۔ چلیں اگر آپ فوڈ ویلاگر ہیں یا ایک ماہر شیف ہیں تو پھر سمجھ آتا ہے کہ آپ اپنی تیار کردہ تخلیق کی مختلف زاویوں سے تصاویر لے کر لوگوں کو دکھائیں لیکن ہر کھانے کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر سٹیٹس پر لگانا زیادتی ہے۔ کیا معلوم آپ کے سٹیک اور پاستا کا سٹیٹس دیکھ کر پتلی پیلی دال کھانے والے کے دل پر کیا گزرتی ہو۔

کسی کے گھر ملاقات کے لیے جانے سے پہلے اگر فون کر لیا جائے تو یہ اچھی بات ہوتی ہے لیکن ”سٹیٹس“ نے لوگوں کا یہ کام بھی آسان کر دیا ہے۔ فون کرنے سے پہلے اگر آپ ان حضرت یا خاتون کا سٹیٹس دیکھ لیں تو بہتر رہتا ہے۔ اگر سٹیٹس افسردہ ہے تو عین ممکن ہے اگلی پارٹی کا موڈ خراب ہو۔ اگر کوئی مزاحیہ ویڈیو سٹیٹس پر لگی ہو تو سمجھ جائیں کہ آج ملنا اچھا ہو گا۔

میری رائے میں اگر سٹیٹس لگانا بہت ضروری ہے اور رات کو اس کے بغیر نیند نہیں آتی تو مختصر سٹیٹس لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ ایسا سٹیٹس جس سے دو جملوں میں بات مکمل ہو جائے یا مختصر ویڈیو۔ یقین کریں لمبے سٹیٹس کوئی نہیں پڑھتا۔ اپنی یا اپنے بچوں کی کامیابی شیئر کریں لیکن اپنے مسائل خود تک محدود رکھیں۔ اس ضمن میں ایک انگریزی مقولہ پڑھا تھا کہ ”فیس یور پرابلم، ڈو ناٹ فیس بک اٹ“ ۔

جو لوگ کچھ باتیں کسی سے نہیں کہہ پاتے وہ سٹیٹس میں کہہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میاں بیوی کی لڑائی ہو جاتی ہے تو خاتون کی طرف سے عورتوں کے حقوق پر مبنی سٹیٹس فوراً سارا سوشل میڈیا گھیر لے گا جب کہ صاحب کے سٹیٹس پر ”مرد کی دماغی صحت کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا“ جیسی ویڈیوز لگنی شروع ہو جائیں گی۔ دونوں سمجھتے ہیں کہ میرا سٹیٹس دیکھ کر اگلا سوری بولے گا لیکن اس کے برعکس دونوں ایک دوسرے کا سٹیٹس دیکھ کر صرف ”ہونہہ“ بولتے پائے جاتے ہیں۔ تو دیکھا آپ نے کہ ایسے سٹیٹس لگانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لہٰذا اپنا ”سٹیٹس“ نہ گرائیں اور ایسی حرکتیں کرنے سے اجتناب فرمائیں۔

Facebook Comments HS

خاور جمال

خاور جمال 15 سال فضائی میزبانی سے منسلک رہنے کے بعد ایک اردو سوانح ”ہوائی روزی“ کے مصنف ہیں۔ اب زمین پر اوقات سوسائٹی میں فکشن کے ساتھ رہتے ہیں۔ بہترین انگریزی فلموں، سیزن اور کتابوں کا نشہ کرتے ہیں۔

khawar-jamal has 54 posts and counting.See all posts by khawar-jamal