ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک فیصلے
امریکی اسٹیبلشمنٹ چین سے مقابلے اور امریکہ کی عالمی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے میڈ مین تھیوری پر عمل کرنے کا خوفناک منصوبہ بنا چکی ہے۔ یہ وہی تھیوری ہے جس کے تحت سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دور میں کمیونسٹ ممالک کو خوفزدہ کیا گیا تھا۔ صدر نکسن کی میڈ مین تھیوری سے مراد ان کی سفارتی حکمت عملی تھی۔ صدر نکسن نے میڈ مین تھیوری کو ویتنام کی جنگ اور سابق سویت یونین کے ساتھ جوہری مذاکرات میں کامیابی سے استعمال کیا۔
میڈ مین تھیوری میں سب سے بڑی چیز اچانک اور پیچیدہ اقدامات ہیں۔ نکسن نے آئزن ہاور کے دور میں ہی نائب صدر کے طور پر دھمکی دینے کا فن اچھے طریقے سے سیکھ لیا تھا۔ نکسن نے اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق جھکانے کے لیے پاگل پن کی صلاحیت کا بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ میڈ مین تھیوری کے ذریعے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے۔ صدر نکسن نے 1972 میں بین الاقوامی کشیدگی کے خطرے کے باوجود شمالی ویتنام کے شہروں ہنوئی اور ہیفونگ میں بڑے پیمانے پر بمباری کا حکم دیا، نکسن کے اس اقدام کو کرسمس بمباری کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے پھر نکسن نے شمالی ویتنام کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی خفیہ دھمکیاں بھی دیں، یہ دھمکیاں خفیہ دستاویزات اور ٹیپوں کی صورت میں سامنے آئیں۔ اس تھیوری کے ذریعے امریکی انتظامیہ باقی دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوئی کہ صدر نکسن اعصابی خرابی کے دہانے پر ہیں تاکہ ان کے مخالفین کو یہ یقین ہو سکے کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
اگرچہ میڈ مین تھیوری نکسن کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جز تھا، اس نے ویتنام جنگ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں مدد کی، مگر میڈ مین تھیوری صدر نکسن کو ایک لاپروا شخص کے روپ میں سامنے لائی جس سے امریکہ کا بین الاقوامی اعتماد خراب ہوا۔ اب یہی تھیوری صدر ٹرمپ کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا ہنگامہ خیز دور شروع ہو چکا ہے، (صدر ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکی ٹرمپ کو نیوکلیئر کنٹرول دینے پر نئے اصول وضح کر رہے تھے ) ، اب صدر ٹرمپ کا دوسرا دور خاصہ سخت نظر آ رہا ہے، اس دور صدارت میں دنیا میں بڑی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ صدر ٹرمپ نہ صرف امریکہ کے مخالفین بلکہ اتحادیوں کے لیے بھی سخت الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے خلاف ان کی زبان سے دھمکی نہیں نکل سکتی۔
امریکی صدر کے غیر متوقع فیصلے اس جانب اشارے دے رہے ہیں، امریکہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ چھیڑ چکا ہے۔ چین نے تاریخی طور پر پہلی بار امریکہ کو انتہائی سخت رد عمل دیا ہے واشنگٹن میں چینی سفیر نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم ہر طرح کی جنگ کے لیے تیار ہیں۔
سب سے پہلے ٹرمپ نے غیر ملکی تارکین وطن کے معاملے پر اپنے اتحادی ملک کولمبیا کو دھمکی دی کہ کولمبیا کو 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ سفری پابندی اور سرکاری حکام کے ویزا کی منسوخی کا سامنا ہو گا۔ جواب میں کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ صدر ٹرمپ اپنے لالچ کی وجہ سے انسانیت کو مٹا دیں گئے۔ ٹرمپ نے پھر پانامہ کینال اور ڈنمارک کے جزیرے گرین لینڈ پر فوجی قبضے کی دھمکی بھی دی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ کینیڈا کو امریکہ میں شامل کرنے کے لیے معاشی دباؤ استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ جسٹن ٹروڈو بھاگم بھاگ ٹرمپ کے پاس پہنچے اور ساتھ ناشتہ بھی کیا مگر پھر امریکی دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے مستعفی ہو گئے۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے میکسیکو، کینیڈا پر 25 فیصد جبکہ چین پر اضافہ دس فیصد ٹیکس عائد کرنے کے بعد باقاعدہ تجارتی جنگ شروع کر دی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے اس ٹیرف سے امریکہ کو سو ارب ڈالر کی آمدنی ہو گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے دیگر ممالک سے درآمد ہونے والے ایلومینیم اور اسٹیل پر 25 فیصد ٹیرف اپریل میں نافذ کرنے کا کہا ہے۔ اس کے بعد صورت حال مزید خطرناک ہو جائے گی، ادھر چین نے امریکی منڈیوں پر 15 فیصد اضافی ٹیکس لگانے کا کہا ہے۔ کینیڈا اور میکسیکو کی جانب سے بھی امریکہ پر جوابی ٹیرف لگا دیا گیا ہے، کینیڈا کے ایک صوبے اونٹاریو نے ایلون مسک کی کمپنی کے ساتھ سو ملین ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا ہے اس کے علاوہ کینیڈا سے امریکہ کی تین ریاستوں نیویارک، مشی گن اور منی سوٹا کو برآمد کی جانے والی بجلی پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا (یہ لیوی واپس لے لی گئی تھی)۔
غزہ میں حماس کو دھمکی دے رہے ہیں، خوفناک نتائج کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر وہ مکمل طور پر نیتن یاہو کے ساتھ ہیں، پوسٹیں بنا کر انسانوں کے قبرستان غزہ کو مستقبل کے دبئی میں تبدیل کر رہے ہیں، دوسری جانب ایران کو مذاکرات ورنہ فوجی کارروائی کے لیے دھمکا چکے ہیں۔ ٹرمپ کی عجیب و غریب حکمت عملی کا اندازہ دو باتوں سے ہوتا ہے، ایک طرف وہ غزہ، میکسیکو اور ایران کو فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو دوسری طرف ٹرمپ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور اسرائیل اور حماس کے درمیان معاملات طے کروا کر امن کا نوبل انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اب آتے ہیں یورپ کی طرف، یوکرین کے صدر زیلنسکی کی اوول آفس میں بے عزتی ہوئی یہ امریکہ کی سفارتی تاریخ کا انوکھا واقعہ تھا، حیران کن طور پر امریکہ اپنے اتحادی یورپ سے پیچھے ہٹ رہا ہے، اور روس سے لمبی دشمنی کی امریکی تاریخ کے باوجود وہ پوتن کو دوست بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ روس کو یوکرین پر حملے پر مجبور بھی امریکہ نے کیا اور اس کام کا سہرا ولادمیر زیلنسکی کے سر پر سجا ہوا ہے، یہ حکمت عملی حیران کن اور یورپ کے لیے پریشان کن ہے، امریکی یورپ کو یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ اب ہم تمہاری چوکیداری مفت میں نہیں کر سکتے۔ امریکہ نے یورپی اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر 25 فیصد ٹیکس لگایا تو یورپ نے امریکی مصنوعات پر 28 ارب ڈالر کے جوابی ٹیکس لگائے اور ساتھ بات چیت کا عندیہ بھی دیا۔
اب کچھ سوالات ہیں جیسے کیا امریکہ روس کے ساتھ امن معاہدے کے ذریعے اسے چین کی حمایت سے ہٹانا چاہتا ہے؟ (جبکہ چین نے روس یوکرین جنگ میں روس کے اندر گولہ بارود کی فیکڑیاں لگائیں ) ، کیا ٹرمپ روس کے ہاتھوں یورپ کو برباد کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اس ساری صورت حال کی اصل ذمہ دار اسرائیل لابی ہے؟ جس کی اپنی منفرد سوچ اور حکمت عملی ہے۔ کیا ٹرمپ، نیتن یاہو اور پوتن مل کر دنیا کو تیسری عالمی اور خوفناک جنگ میں دھکیل رہے ہیں؟ اس تھیوری کا ایک پہلو اور بھی ہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو ممکنہ تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں، امریکیوں کو صدر ٹرمپ کے دور کا خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ ٹرمپ کے اچانک اور خطرناک فیصلے دنیا میں تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔



Comments are closed.