قانون ہاتھ میں لینا جرم تو ہے لیکن جمعیت…

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے؟

اس سادہ، صاف اور مختصر سوال کا جواب تو کسی آئیں بائیں شائیں کے بغیر ہی آنا چاہیئے۔ چاہے آپ اپنی گفتگو کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا جتنا بھی تجربہ رکھتے ہوں اور اپنے اس تجربے پر جتنے بھی نازاں ہوں، پلیز اس سوال کا جواب “ہاں” یا “نہ” میں ہی دیں۔ تو بحث کو آگے بڑہانے کے لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اس سوال کا جواب ایک صاف شفاف اور غیر مشروط “ہاں” میں ہے۔ یعنی قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے۔

پنجاب یونیورسٹی لاہور چونکہ 135 سال پرانی ایک سرکاری یونیورسٹی ہے اس لئے یہ امید تو کی جا سکتی ہے کہ اس ادارے کے کوئی قاعدے اور قوانین (بائی لاز) وغیرہ ہوں گے جن کے تحت یونیورسٹی کے روزمرہ کے تدریسی اور انتظامی معاملات چلتے ہوں گے۔ اگر ایسا ہے تو یونیورسٹی کے طالب علموں، اساتدہ یا باقی سٹاف کی تمام تر سرگرمیاں یونیورسٹی کے قوانین کے تحت پرکھی جا سکتی ہے کہ وہ جائز ہیں یا ناجائز۔

اب فرض کریں کہ ایک دن اسلامی جمعیت طلبہ دیکھتی ہے کہ یونیورسٹی کی چاردیواری کے اندر کوئی سرگرمی ہو رہی ہے۔ یہ سرگرمی کلاس میں، لان میں، ہال میں، بس میں یا کہیں بھی وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ اس سرگرمی میں ایک دو یا سیکڑوں طلبا بھی شریک ہو سکتے ہیں۔ یہ کوئی دو طلبا کا آپس گپ شپ کرنا یا سیکڑوں طلبا کا ایک تعلیمی سیمینار یا تفریحی یا ثقافتی سرگرمی میں شامل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ جو بھی ہے فرض کیا کہ جمعیت کے خیال میں یہ سرگرمی یونیورسٹی کے قانون کے مطابق غلط ہے لیکن یونیورسٹی کے اندر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔

ایسے میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پاس دو راستے ہیں۔

ایک راستہ یہ کہ وہ اس معاملے کی شکایت یونیورسٹی انتظامیہ کو کرے۔ اور اپنا مقدمہ لڑے۔ فیصلہ یونیورسٹی انتظامیہ پر منحصر ہو گا۔ کیونکہ یونیورسٹی چلانا بہرحال طلبہ تنظیم کا نہیں بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کام ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک کا قاعدہ اور قانون یہی ہوتا ہے۔ قانونی راستہ یہی ہو گا اور کوئی بھی امن پسند تنظیم اسی راستے کو اپنائے گی۔

دوسرا راستہ یہ ہو گا کہ اسلامی جمعیت طلبہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔ ڈنڈے کے زور سے اس سرگرمی کو روکے۔ اس سرگرمی میں حصہ لینے والوں کو وہیں سزا دے۔ یہ قانون ہاتھ میں لینا کہلائے گا اور اس سے اللہ کی زمین پر فساد پھیلے گا۔ اسلامی جمعیت طلبہ عام طور پر یہی راستہ اختیار کرتی ہے۔ جو کہ قانونا جرم ہے کیونکہ قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے۔ چاہے یہ عمل جمعیت ہی کا کیوں نہ ہو۔

اگر صرف اس بات پر بحث کو نتیجہ خیز ہونے دیا جائے کہ قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے کہ نہیں اور جمعیت کے باقی سارے کاموں کو اسی پیمانے پر پرکھیں تو حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اگر قانون ہاتھ میں لینے کو جرم تصور کر لے جیسے کہ ساری دنیا میں ہے تو ایک بہت بڑا معاملہ حل ہو جائے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ باقی معاملات پر بحث جاری رکھی جا سکتی ہے۔

اگر لوگ جان کی امان پائیں گے تو کوئی سوچ گا کہ یونیورسٹی کا تعلیمی معیار فکرمندی کی حد تک کمزور ہے۔ ہم نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اساتذہ اور سٹاف کی بھرتیوں میں میرٹ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جمعیت کے علاوہ کوئی اور طلبہ تنظیم کام کرتی نظر نہیں آتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سوچنے کی جب باری آئے گی تو یونیورسٹی، معیاری تعلیم دینے کا، اپنا  فرض نبھا رہی ہو گی۔
Apr 1, 2017 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 219 posts and counting.See all posts by salim-malik