مریم نواز کی حکومت کا ایک سال۔ پارٹ 2


مریم نواز ”تخت لہور“ پر فائز ہوئیں تو ”سیاسی پنڈت“ خاتون ہونے کے ناتے ان کے ناکام وزیر اعلیٰ ہونے کے بارے میں پیشگوئیاں کرنے لگے لیکن مریم نواز نے سیاسی پنڈتوں کی تمام پیشگوئیوں کو غلط ثابت کر دکھایا گو کہ انہوں نے یہ سب کچھ دن رات کی محنت سے کر دکھایا جس کی ایک کامیاب وزیر اعلیٰ سے توقع کی جا سکتی تھی پنجاب میں دودھ اور شہد کی نہریں تو نہیں بہہ رہیں لیکن ہر کوئی محسوس کر رہا ہے عوامی فلاح و بہبود کے لئے بہت کچھ ہو رہا ہے بہر حال بڑی حد تک ان کی کامیابیوں کا کریڈٹ ان کے والد نواز شریف کو جاتا ہے جن کا چار دہائیوں سے زائد سیاسی تجربہ قدم قدم پر ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران مریم نواز نے صوبے میں ان شعبوں پر سب سے توجہ دی جو بدلتے حالات اور سیاست کی بے رحم لہروں کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد نوجوان ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ نوجوانوں کی اکثریت کا جھکاؤ کس لیڈر کی طرف ہے؟

حالانکہ نواز شریف اور شہباز شریف نے نوجوان طبقہ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے لائق اور ذہین طلبہ طالبات میں لیپ ٹاپ اور وظائف دینے اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے باوجود نوجوان طبقہ میں مسلم لیگ (ن) کا غیر مقبول ہونا مسلم لیگی قیادت کے سامنے ایک بڑا سوال ہے لیکن مریم نواز نے اپنی سب سے زیادہ توجہ نوجوان طبقہ کی طرف دی ہے وہ ان تعلیمی اداروں کی تقریبات میں گئی ہیں جہاں مڈل کلاس کے طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں وہ تقریبات کے اختتام پر جس طرح سیکیورٹی کو بالائے طاق رکھ کر طالبات میں گھل مل جاتی ہیں اس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں طالبات ان کے ساتھ سلفیاں بنوانے میں جس قدر اشتیاق کا مظاہرہ کرتی ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نوجوان خواتین کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں مسلم لیگ (ن) کی ذیلی تنظیمیں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، یوتھ ونگ اور ویمن ونگ ناکارہ ہو گئی ہیں جب کہ ان کی مد مقابل سیاسی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام کے نام قابل ذکر ہیں اپنی ساری توجہ نوجوان خون پر دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی ذیلی تنظیموں کے بیشتر عہدیدار بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں لیکن وہ بدستور اپنے عہدوں سے چمٹے ہوئے ہیں ان کا نوجوان نسل سے کوئی رابطہ نہیں۔ مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کے پاور بیس میں نوجوان نسل سے اپنے تعلق کو بڑھانے پر خصوی توجہ دینی چاہیے بصورت دیگر اقدامات غیر موثر ثابت ہوں گے۔

مریم نواز کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے پر وزارت اطلاعات و ثقافت نے حکومتی کارکردگی کے حوالے سے 60 صفحات پر مشتمل ضخیم سپلیمنٹ شائع کیا تو اپوزیشن نے واویلا شروع کر دیا کہ سپلیمنٹ شائع کر کے قومی خزانے کا ضیاع کیا گیا ہے اور یہ قومی خزانے پر ”سیاسی عیاشی“ ہے لیکن اپوزیشن حکومت کی کارکردگی کی بجائے سپلیمنٹ کی اشاعت کو اپنا ہدف بنا رہی ہے جب کہ اسے اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے لئے سرکاری اشتہارات کس قدر ضروری ہوتے ہیں اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہی اس صنعت سے وابستہ کارکنوں کے واجبات کی ادائیگی ہوتی ہے۔ مریم نواز کی حکومت کے ایک سال کو ”قیادت جو امید بنے“ کا عنوان دیا گیا ہے 90 پلس شاندار عوامی منصوبے۔ ایک عزم ”خوشحال پنجاب“ اب دیکھنا یہ ہے کہ مریم نواز کی ایک سال کی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں میں کس حد تک صداقت پائی جاتی ہے حکومت پنجاب کم آمدنی والے اور مستحق خاندانوں کے لئے کے لئے ماہ رمضان المبارک میں 30 لاکھ مستحق خاندانوں کو 10 ہزار روپے فی خاندان ریلیف پیکیج دے رہی ہے پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے پنجاب سوشل اکنامک رجسٹری کے ذریعے کم آمدنی والے اور مستحق خاندانوں کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے پہلی بار پنجاب میں ”نگہبان رمضان پیکج“ کا اے ٹی ایم کارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے اب مستحق عوام کو لائنوں میں کھڑا نہیں ہونا پڑے گا بلکہ انہیں گھر بیٹھے 10 ہزار روپے ملیں گے حکومت سے ملنے والی گرانٹ میں ”مڈل مین“ کے کردار کے خاتمہ سے کرپشن کی حوصلہ شکنی ہو گی پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ”مریم کی دستک“ کے نام سے ایک موبائل ایپ / پلیٹ فارم تیار کیا ہے دستک ڈور سٹیپ ڈیلیوری ایپ اور ویب پورٹل شہریوں کو حکومت کے منظور شدہ نمائندوں کے ذریعے ان کے اپنے شیڈول کے مطابق 70 سے زائد مختلف عوامی و کاروبای خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرے گا۔ جہاں تک میری معلومات ہیں لوگ ڈاؤن لوڈ کر کے اس ایب سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حکومت پنجاب نے اس ایپ کے ذریعے نئے ڈومیسائل، برتھ، ڈیتھ، میرج، طلاق سرٹیفیکیٹ سے لے کر کرایہ دار کی رجسٹریشن کی خدمات شامل کی ہیں لیکن اس ایپ کی کامیابی کے لئے مسلسل اور موثر مانیٹرنگ کی ضرورت ہے سرکاری محکموں میں جائز کام پر رشوت وصول کرنے کا دھندا سالہا سال سے جاری ہے بد عنوان سرکاری ملازمین اس نئی سہولت کو ناکام بنانے کی کوشش کریں گے۔

تین دہائیوں کے بعد لاہور میں نیشنل ہارس اینڈ کیٹل شو کا انعقاد ایک بڑی ثقافتی سرگرمی ہے جس میں پہلی بار 70 بین الاقوامی ٹیمیں شو کا حصہ بنی ہیں مریم نواز کے ویژن کے مطابق ٹرانسپورٹ کے شعبہ میں انقلابی اصلاحات کی جا رہی ہیں سر دست ماس ٹرانزٹ سسٹم کو لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے اگلے چار سالوں میں ٹرانسپورٹ میں حکومتی اصلاحات صوبے کے دیگر شہروں میں نافذ کی جائیں گی پنجاب میں طلبا و طالبات میں پہلی بار بلا سود بائیکس کی فراہمی شروع کی گئی ہے 5 ہزار روپے ماہانہ قسط پر 20 ہزار طلبہ کو بائیکس فراہم کی جائیں گی جن میں سے ایک ہزار الیکٹرک بائیکس ہوں گی ایک لاکھ 90 ہزار طلبہ نے اس سکیم کے تحت رجسٹریشن کرائی ہے جن میں سے 72 ہزار نے اپلائی کیا ہے یہ بات قابل ذکر ہے 19 ہزار سے زائد طلبہ کا بائیکس کے لئے قرض منظور ہو چکا ہے پنجاب کے 5 بڑے شہروں لاہور، ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد بہاولپور میں الیکٹرک بسیں چلائی جا رہی ہیں پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر الیکٹرک ٹرانسپورٹ ہمارے تیل کے درآمدی بل میں کمی کا باعث بنے گی۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS