روز افزوں دہشت گردی: کئی چہرے چمکتے بجھ گئے ہیں


پاکستان کا ایک بڑا چیلنج بڑھتی ہوئی دہشت گردی ہے جس کا کئی دہائیوں سے ہمیں سامنا ہے۔ دہشت گردی کا تعلق ہماری داخلی سیاست اور علاقائی اور عالمی سطح سے جڑے معاملات دونوں سے ہے۔ اب افغانستان سے بھی دہشت گرد در اندازی کر رہے ہیں۔ افغانستان وہ کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے جو پاکستان چاہتا ہے۔ عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں پاکستان دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا۔ 2023 میں 517 حملے ہوئے جو 2024 میں 1099 ہو گئے۔ 2024 میں ٹی ٹی پی نے 482 حملے کیے جن میں 558 افراد جاں بحق ہوئے جو 2023 کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ ہیں۔ سیاسی قیادت بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ تھلگ ہے۔ اسے مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں پر ڈال دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ اور خود پارلیمنٹ کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ دہشت گردی کے حوالے سے بہت سے امور پر کمزوری دکھانے کے باعث آج ہم اس جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ 2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے 20 نکات پر بھی ہماری داخلی کمزوریاں مکمل عمل درآمد میں رکاوٹ بنیں۔ بلوچستان کی شورش کے متعلق دو متضاد آرا ہیں۔ 1۔ شورش کو بیرونی قوتوں کی آشیرباد حاصل ہے اور بلوچ نوجوانوں کو آزاد بلوچستان کا جھانسا دے کر استعمال کیا جا رہا ہے۔ 2۔ بلوچستان میں شورش ایک حقیقی سیاسی مسئلہ ہے۔ سیاسی محرومیوں، معاشی استحصال اور جبری گمشدگیوں نے شدت پسندوں کو سیاسی خودمختاری سے علیحدگی پسندی کی طرف دھکیلا ہے۔ حقیقت ان دونوں آراء کے درمیان ہے۔ بلوچستان کی پسماندگی سے انکار ممکن ہے اور نہ معاشی استحصال اور سیاسی محرومیوں میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

موجودہ حملے شدت پسندوں کی بڑھتی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ رجحان بلوچ شورش میں پچھلے چند برس کے دوران آیا ہے۔ مجید بریگیڈ ان میں نمایاں ہے جو 1970 کی دہائی میں قائم ہوا لیکن اس کی کارروائیوں میں شدت 2018 میں دیکھنے میں آئی، جب بی ایل اے کے کمانڈر اسلم اچھو نے اسے دوبارہ منظم کیا۔ اس کے بعد چینی قونصل خانہ، پاکستان سٹاک ایکسچینج، پی سی ہوٹل گوادر، چینی انجینیئر کی بس پر حملے جیسے واقعات میں اس بریگیڈ کے حملہ آوروں نے حصہ لیا۔ اسی طرح نوشکی میں فرنٹیئر کور پر حملے میں بھی بارود سے بھری گاڑی استعمال کی گئی۔ پہلے اس طرح کے حملے ٹی ٹی پی یا لشکر جھنگوی جیسے مذہبی شدت پسند کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کے ٹی ٹی پی سے بھی تعلق استوار ہوئے ہیں۔

بلوچستان کی حالیہ شورش 1959، 1948۔ 1958، 1977۔ 1973، 1969۔ 1963 سے زیادہ طویل ہے۔ ماضی میں شورش بلوچستان کے چند حصوں تک محدود اور اس میں قبائلیت کا عنصر نمایاں تھا، جبکہ موجودہ شدت پسندی بلوچستان کے تمام علاقوں اور پڑھے لکھے متوسط طبقوں میں سرایت کر چکی ہے۔ ماضی کی شورشیں سیاسی خودمختاری کے گرد گھومتی تھیں جبکہ حالیہ لہر علیحدگی پسندی کے رجحان کی طرف مائل ہے۔

ففتھ جنریشن وار کے تذکرے سن کر کان پک گئے تھے۔ ہمارے حکمران اس جنگ میں بار بار ناکام ثابت ہوئے۔ جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ میں کوئی حکومتی ترجمان تھا نہ محکمہ ریلوے کی کوئی ”ہیلپ لائن“ جس سے صحافی واقعے کی تازہ ترین معلومات اور لوگ مسافروں کے بارے میں تفصیلات جان سکتے۔ بس خاموشی میں عافیت سمجھی گئی۔

گم ہو چلے ہو تم تو بہت خود میں اے منیرؔ
دنیا کو کچھ تو اپنا پتہ دینا چاہیے

اس کے مقابلے میں اغواء کار ابلاغ کے جدید ترین ذرائع سے بین الاقوامی میڈیا اور بھارتی ٹی وی چینلوں سے رابطے میں رہے۔ ہمارا بیانیہ نہ ہونے سے بھارتی چینلوں پر بلوچ ”نمائندے“ ٹرین کے اغواء کو ریاستِ پاکستان کے مبینہ ”ظلم“ تعبیر کرتے رہے۔

دہشت گردی کا بنیادی مقصد لوگوں کو ڈرانا اور اپنے نام نہاد ”بیانیہ“ کی وسیع تشہیر ہوتی ہے۔ دہشت گرد ان دونوں مقاصدِ میں کامیاب رہے۔ پاکستان کا روایتی میڈیا گنگ رہا۔ انٹرنیٹ وال فلٹر بھی کسی کام نہ آیا۔ اس سوال کا جواب کون دے گا کہ جدید ترین آلات کے باوجود ریاست اس گھناونے منصوبے کی ٹوہ لگانے میں کیوں ناکام رہی۔ شرف اللہ کی گرفتاری اور امریکی حوالگی کے بعد دہشت گردی کی سنگین واردات کی توقع لازمی امر تھا مگر ادھر توجہ ہی نہیں دی گئی۔ اسی لیے دہشت گردی روز افزوں ہے۔

قریہ قریہ قصبہ قصبہ خون میں لت پت پڑا ہے آج کل

بلوچستان میں شورش دہائیوں کا قصہ ہے جس کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد 1948 میں ہوا، جب کچھ قبائلی سرداروں نے بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت کی مخالفت کی۔ اس کے بعد بلوچستان میں کئی شورشوں نے جنم لیا، جن میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) ، بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) اور بلوچ راجی آجوئی سنگر (BRAS) جیسی عسکری تنظیمیں سرِفہرست رہیں۔ حالیہ برسوں میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حملوں میں نمایاں مہارت دیکھی گئی۔ جنوری 2024 میں آپریشن بولان میں BLA کے مختلف ایلیٹ یونٹس کے 380 سے زائد جنگجو شامل تھے۔ انہوں نے 40 گھنٹوں تک مچھ شہر کا کنٹرول سنبھالے رکھا۔ یہ ایک مربوط کارروائی تھی جس میں حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 2022 کے کرسمس کے دن، تربت، کہان، گوادر اور کوئٹہ جیسے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ بھی اسی کی عکاس ہے، جس میں عسکریت پسندوں نے مسافروں کو یرغمال بنایا اور:

کئی چہرے چمکتے بجھ گئے ہیں

بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے دہشت گردوں اور عوام کے درمیان فرق ضروری ہے۔ بلوچ اکثریت امن کی خواہاں ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے ان کی شکایات حقیقی ہیں۔ دہشت گردوں نے انہی مسائل کو اپنے تخریبی منصوبوں کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ فورسز کی ناکامی ایک وجہ بی ایل اے کی علاقائی واقفیت ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز، جو زیادہ تر خیبر پختون خوا اور پنجاب سے آتی ہیں، زمینی راستوں سے واقفیت نہیں رکھتیں۔ اس سے باغیوں کو فورسز پر انٹیلی جنس کے لحاظ سے نہ صرف برتری حاصل ہے بلکہ وہ خود کش مشنوں کے لئے نوجوانوں کو بھرتی کرنے میں کامیاب ہیں۔ شورش زدہ علاقوں میں طاقت کا استعمال سیاسی حکمت عملی کا جزوی حصہ ہوتا ہے۔ اس سے پر تشدد کارروائیوں کو روکا جبکہ سیاسی حکمت عملی سے پرامن جدوجہد کو راستہ دیا جاتا ہے تاکہ مذاکرات سے مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ بلوچستان کو بلاتعطل ایک سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے، جو مسائل کے حل کا ذریعہ بنے۔

اس کے ساتھ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ایپکس کمیٹیوں اور نیکٹا جیسے ادارے کو فعال بنانے اور ان کمیٹیوں میں سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بلوچستان کو باقی صوبوں کے برابر لانے کے لیے تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو بہتر بنانا سرداروں، نوابوں، اور بیوروکریٹس کی جانب سے ناقابل تسخیر اختیارات کے بے دریغ اور بے جا استعمال کو ختم کرنا اور مقامی وسائل کی آمدنی اور منافع بشمول عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خرچ کرنا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے اور ملازمتوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دینا ہو گا۔ صوبے میں حق رائے دہی سے محروم طبقے کو قومی دھارے میں لانے کے لیے انتخابی نظام میں فوری اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ نوجوان اپنے مقامی معاملات کو چلانے اور انتظام کو فعال کرنے پر کردار ادا کرنے کے لیے راغب ہو سکیں۔

Facebook Comments HS