رازداری پر سمجھوتا


رازداری ایک قابل تحسین عمل ہے۔ اس سے کسی بھی انسان کے کردار کا پتا چلتا ہے۔ رازداری سے نہ صرف سے انسان اور اس کی بات کا تقدس قائم رہتا ہے بلکہ فساد فی الارض اور معاشرتی فساد اور بگاڑ سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ اس عمل کی اہمیت انتہائی زیادہ اور ناگزیر ہے۔ اس عمل کی اہمیت قومی اور انفرادی ترقی میں پنہاں ہے۔ اگر قوموں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل رازداری کے ساتھ اپنی منزل کی طرف گامزن رہیں اور اپنی منزل کو باآسانی پا لیا۔ دوسری طرف وہ اقوام بھی تاریخ میں ملتی ہیں جنہوں نے رازداری کے اصولوں کو پامال کیا اور وہ ترقی تو دور کی بات وہ باقیوں کے لیے نشان عبرت بن گئی۔ رازداری ایک طاقت ہے اور اس کا استعمال ایک فن ہے۔

آج سوشل میڈیا کے دور میں رازداری کو قائم رکھنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ سوشل میڈیا کی آکسیجن ہی لوگوں کی رازداری ہے۔ اگر آپ سوشل میڈیا کو اپنی رازداری دینے سے انکاری ہیں تو سوشل میڈیا کے یوزر تو دور کی بات آپ تو ایپ انسٹال تک نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے آپ کو رازداری کے اصولوں کی قربانی دینی پڑے گی بلکہ پوری رازداری ہی دینی پڑے گی۔

سماجی اور نفسیاتی ہتھیاروں میں سے رازداری سب سے اہم ہتھیار ہے اور سوشل میڈیا واحد میدان ہے جہاں پر ہمیں اپنی طاقت، ہتھیار ڈال کر ثابت کرنا ہوتی ہے۔ یہاں سے ایک بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ سوشل میڈیا جس کو جمہوریت اور جمہوری روایات کا سرخیل مانا جاتا ہے وہ خود کتنا جمہوری ہے۔

حضرت عمر فاروق سے ایک قول منسوب ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اپنے دوست کو خالص ترین محبت دے دو مگر اسے اپنا راز مت دو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کل آپ کا دشمن بن جائے اور پھر آپ کو اسی نازک جگہ پر ضرب لگائے جو جگہ آپ نے خود اسے بتائی تھی لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہو گی اور آپ کے پاس سوائے پچھتاوے کے اور حل یا علاج بھی نہیں ہو گا۔ لیکن آج کے معاشرے میں رازداری کی بنیاد پر محبت اور دوستی پروان چڑھتی ہے۔ جب تک آپ خود کو پرائیویٹ رکھیں گے، لوگ آپ پر بھروسا نہیں کریں گے بلکہ آپ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

آج ہم اپنے اردگرد نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں جو بھی فساد اور بگاڑ نظر آتا ہے وہ زیادہ تر رازداری کے نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہم پہلے پہل کسی کے قریب ہونے کے لیے یا کسی کو قریب کرنے کے لیے ان پر اپنے راز آشکار کرتے ہیں تاکہ ان کا بھروسا جیت سکیں۔

ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اپنی رازداری کیوں مفت میں نیلام کرتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر میرے نزدیک سب سے اہم وجہ ہماری نا اہلیت ہے۔ ہمارے اندر اتنی بھی اہلیت اور قابلیت نہیں کہ ہم کسی کو اپنے قریب کر سکیں۔ یہ اہلیت اور قابلیت ذہنی، جسمانی یا پھر تخیلاتی ہو سکتی ہے مگر ان میں سے کوئی ایک بھی ہمارے پاس نہیں ہوتی اس لیے ہمیں اپنی طاقت کا سودا کرنا پڑتا ہے۔

Facebook Comments HS