محفوظ شہید کینال، تھی خوش فرید تے شاد ول


مملکت خداداد ریاست بہاول پور میں موجود عظیم صحرا، صحرائے چولستان (خواجہ فرید کی روہی) 18130 مربع کلو میٹر پہ پھیلا ہوا ہے۔ آج تک اس کا تقریباً 6,655,360 ایکڑ زرخیز رقبہ آبی وسائل کی کمی کی وجہ سے بنجر پڑا ہوا ہے۔ ماضی قریب میں مملکت خداداد، ریاست بہاول پور کو برصغیر پاک و ہند کی امیر ترین ریاست ہونے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی کی ریاست دوست منصوبہ جات میں سے سب سے اہم ستلج ویلی منصوبہ ہے جس کے تحت 1920 ء میں تین ہیڈ ورکس ’چھ بڑی نہریں اور کئی ایک چھوٹی نہروں کا جال پھیلا دیا گیا۔ اس منصوبے کی مدد سے لاکھوں ایکڑ رقبہ سیراب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ ہیڈ سلیمانکی سے نہر صادقیہ اور فورڈ واہ نکالی گئیں جو ریاست کے مشرقی حصے کو سیراب کرتی تھیں۔ ہیڈ اسلام سے بہاولپور کینال اور قائم پور کینال نکالی گئی جو ریاست کے وسطی حصہ کو سیراب کرتی تھی جبکہ پنجند سے عباسیہ کینال اور پنجند کینال نکالی گئیں جو ریاست بہاولپور کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں کو سیراب کرتا تھا۔ ستلج ویلی پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد نہ صرف ریاست بہاول پور کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ اس ریاست کے ریگستانی حصوں کو آباد کرنے کے لئے شمالی اور مشرقی پنجاب سے کاشت کاروں کو مراعات اور مالکانہ حقوق دینے کے وعدے پر مدعو کیا گیا۔

1904 ء میں شائع ہونے والے بہاول پور گزیٹیئر کے مطابق محکمہ تعمیرات عامہ و انہار 1867 ء میں میجر منچن نے قائم کیے، اس وقت پوری ریاست میں نہروں کی کل تعداد 36 اور راجباہوں کی تعداد 24870 تھی جب کہ نہروں کی کل لمبائی 1600 کلو میٹر سے زیادہ تھی۔ 1960 ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کے استعمال کا ایک معاہدہ سندھ طاس کے نام پر طے پایا جس کے تحت پاکستان نے تین مشرقی دریاؤں ’راوی‘ بیاس اور ستلج کے زرعی پانی سے دستبرداری اختیار کرلی جبکہ مغربی دریاؤں کا پانی پاکستان کو دیا گیا۔ سندھ طاس معاہدہ کی شق 4 ( 1 ) کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ مشرقی دریاؤں کا پانی زرعی مقاصد کے لئے اب پاکستان کو نہیں ملے گا اس لئے دریاؤں سے نکلنے والی نہروں کے لئے متبادل نظام کے طور پر 6 نئی رابطہ نہریں تعمیر کی جائیں گی۔ تریموں اسلام لنک کینال دراصل واحد رابطہ نہر تھی جس سے ہیڈ اسلام سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کیا جانا تھا۔ انٹرنیشنل بنک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ بنک کی 18 اپریل 1960 ء کی ایک رپورٹ کے صفحہ نمبر 4 کے مطابق تریموں اسلام لنک کینال کی مجوزہ گنجائش 11000 کیوسک ہو گی جو دریائے جہلم /چناب کا پانی تریموں کے مقام سے لے کر دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر ڈالتی، اس کینال کی کل مجوزہ لمبائی 106 میل تھی۔ اس لنک کینال پر 5 ریگولیٹریز اور 65 پل بننے تھے۔ اس رپورٹ میں موجود نقشے پر بھی اس لنک کینال کا محل وقوع با آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ ستم یہ کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو اس متبادل آبی ذرائع کی تعمیر کے لئے چھتیس ارب روپے دیے گئے لیکن وائے افسوس کہ اس رقم سے سندھ طاس معاہدہ کی مجوزہ بقیہ تمام متبادل اور رابطہ نہریں تو تعمیر ہو چکی ہیں لیکن صرف وہ نہر تعمیر نہیں کی گئی جس کے ذریعے دریائے ستلج میں پانی ڈالا جا تا اور ہیڈ اسلام سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صحرائے چولستان کو بھی سیراب کیا جانا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل II کے تحت یہ متبادل لنک تعمیر کرنے کے لئے مقررہ مدت 31 مارچ 1967 ء تھی لیکن 58 سال گزرنے کے بعد بھی یہ لنک کینال (تریموں اسلام لنک) تعمیر نہیں ہو سکی۔ مجھے سیاست سے اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی کسی بچے کو کڑوی دوائی پینے سے ہوتی ہے لیکن موجودہ حکومت کی کارکردگی دیکھتے ہوئے میں بلا مبالغہ تعریف کرنے پر مجبور ہو گیا ہوں گو تریموں اسلام لنک کینال تو تعمیر نہ ہو سکی لیکن گزشتہ نصف صدی کے دوران، خواجہ فرید کی پیاسی روہی پہ اگر کسی نے توجہ دی ہے تو وہ موجودہ حکومت ہے، جس نے سلیمانکی بیراج سے نکلنے والی محفوظ شہید کینال، جسے چولستان کینال بھی کہا جا رہا ہے، کی تعمیر کا بیڑہ اٹھایا ہے۔

گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) پروگرام کا آغاز جولائی 2023 ء میں ہوا۔ اس پروگرام کا اہم مقصد، کاشت کاری کے قابل زمین کو بڑھانے، زمین کے استعمال کو بہتر بنانے، پانی کے نقصان کو کم سے کم کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔ پانی کی فراہمی سے متعلق مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت پاکستان نے سال 2030 ء تک تیز رفتار بنیادوں پر چھ اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر کی طرف توجہ دینی شروع کی۔ اس پروگرام کے تحت محفوظ شہید کینال، گریٹر چولستان میں 12 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گی۔ رینی کینال، فیز ٹو نارا ریجن میں 0.4 ملین ایکڑ اراضی کو اور گریٹر تھل کینال تھل دوآب خطے میں 1.5 ملین ایکڑ زمین کو سیراب کرے گی۔ جی پی آئی کے ایک اہم منصوبے کے طور پر، حکومت پنجاب نے بہاولنگر اور بہاولپور اضلاع کے درمیان 0.7 ملین ایکڑ بنجر اراضی لیز پر دی، جس پر 0.185 ملین افراد آباد ہیں، جو خانہ بدوش چرواہے ہیں اور پانی کی تلاش میں ایک ٹوبے سے دوسرے ٹوبے تک مارے مارے پھرتے ہیں۔ شنید ہے کہ اگلے مرحلے میں فورٹ عباس سے مروٹ اور فورٹ عباس سے ڈھنڈوالا تک بالترتیب 120 اور 132 کلومیٹر کینال بنائی جائیں گی جو اسی کینال کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے گا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے لیے مختص 225.34 ارب روپے اس منصوبے کے لئے مختص کیے گئے ہیں۔ اس علاقے میں پانی فراہم کرنے کے لیے 524 کلومیٹر ڈسٹری بیوٹرز اور چھوٹی چھوٹی نہریں تعمیر ہوں گی۔ اس منصوبے پر 21 بلین روپے کی لاگت آئے گی۔ جس کی تکمیل پر زرعی وسائل اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ جیسے ہی اس منصوبے کو منظر عام پر لایا گیا تو سیاسی مداری بھی اپنی دکان چمکانے کے لئے آگے بڑھے اور اعتراض شروع کر دیا کہ پنجاب، سندھ کے حصے کا پانی استعمال کرے گا۔ دیکھا جائے تو محفوظ شہید کینال صرف پنجاب کے حصے کا پانی استعمال کرے گی، جون سے اکتوبر تک اس کینال میں دریائے ستلج کا اضافی سیلابی پانی چھوڑا جائے گا، جبکہ باقی دو ماہ پنجاب کے حصہ سے پانی لیا جائے گا، محفوظ شہید کینال میں پانی کی مقدار 4120 کیوسک ہوگی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی آبی ذریعہ انسان کو زرعی مقاصد کے ساتھ ساتھ انسانوں اور جانوروں کے لئے آبی وسائل مہیا کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے، گریٹر چولستان کا سب سے بڑا المیہ پینے کا صاف پانی بھی ہے کیونکہ زیرِ زمین پانی کھارا ہونے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہے۔ 176 کلومیٹر کی وسیع سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ بہنے والی اس نہر کی بدولت یہاں بسنے والے دو لاکھ سے زیادہ باشندے اور چرواہے بھی سکھ کا سانس لیں گے اور مملکت خداداد ریاست بہا ول پور کے لئے تعمیر و ترقی کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

Facebook Comments HS