داخلہ مہم: خواب سے حقیقت تک کا سفر


اوتھل، جو کہ لسبیلہ کا ضلعی ہیڈکوارٹر اور ایک بڑا شہر ہے، ڈیڑھ سے دو لاکھ تک آبادی ہوگی، حیران کن بات یہ ہے کہ یہاں ہزاروں طالبات کے لیے صرف ایک ہی گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول موجود ہے۔ اس اسکول میں 1500 سے زائد طالبات تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جبکہ آس پاس کے کئی بیلہ کی گدور یونین کونسل سے لے کر اوتھل تک اور سونمیانی وندر سے لے کر اوتھل تک اس طرح لاکھڑا، لیاری و کنڈملیر سے لے کر اوتھل اور کنراج وساند لے کر اوتھل تک درمیان میں کوئی دوسرا گرلز ہائی اسکول موجود نہیں، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان علاقوں کی بہت سی بچیاں مڈل کے بعد مزید تعلیم حاصل نہیں کر پاتیں کیونکہ انہیں آگے پڑھنے کے لیے دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے، جو اکثر والدین کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جو کہ منتخب نمائندوں کی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے۔ عرصہ دراز سے منتخب حکمران تعلیم کے فروغ کے وعدے تو کرتے ہیں، مگر عملی اقدامات کی شدید کمی نظر آتی ہے۔ اگر اوتھل جیسے بڑے شہر میں، جہاں دو لاکھ سے زیادہ کی آبادی ہے، لڑکیوں کے لیے صرف ایک گرلز ہائی اسکول ہے تو باقی لسبیلہ میں تعلیمی ضروریات کس قدر نظر انداز ہوگی اس کا اندازہ خود کیجئے گا، یہ تعلیمی ترقی کے دعووں کی قلعی کھول دیتا ہے۔ یہ وہ ایک بات تھی جو میں نے داخلہ مہم کی تقریب میں بطور گیسٹ اسپیکر کے بحیثیت ”پڑھے گا لسبیلہ و بڑھے گا لسبیلہ“ مہم وانگ آرگنائز شریک کار اپنے خطاب میں کہی۔

تعلیم کے فروغ کے لیے ہر سال حکومت کی جانب سے داخلہ مہم چلائی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جا سکے۔ اس مہم کے دوران مختلف سیمینارز، آگاہی ریلیاں اور تقریبات منعقد کی جاری ہیں، جن میں والدین کو تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور انہیں قائل کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کروائیں۔

اس سال بھی محکمہ ایجوکیشن لسبیلہ اور ایجوکیشن سپورٹ پروگرام (یونیسف) کے اشتراک سے اسکول داخلہ مہم کی ایک تقریب کا انعقاد گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول اوتھل میں کیا گیا، جس میں سرکاری افسران، اساتذہ، طلبہ اور والدین نے شرکت کی۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ میڈم حمیرا بلوچ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل A 25 کے تحت تعلیم ہر بچے اور بچی کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ وہ ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہے لڑکیوں کی تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک پڑھی لکھی عورت پورے خاندان اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں لڑکیوں کی تعلیم کو وہ ترجیح نہیں دی جاتی جو دینی چاہیے۔ حمیرا بلوچ نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دیں اور انہیں بھی اتنے ہی مواقع فراہم کریں جتنے بیٹوں کو دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم لڑکیوں کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں حکومت، اساتذہ اور والدین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اپنی تقریر کے آخر میں، میڈم حمیرا بلوچ نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے بھرپور محنت کریں اور ان کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اپنی تجاویز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ مستقبل میں لڑکیوں کے لیے مزید تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں

پروگرام کے آرگنائز اور ایجوکیشن سپورٹ پر گرام یونیسیف کے ڈسٹرکٹ پروگرام افسر قادر بخش کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دیگر اضلاع کی طرف یونیسف ایجوکیشن سپورٹ پروگرام کے تحت لسبیلہ کو بھی تعلیم کی بہتری کے لیے مدد فراہم کر رہی ہے جس میں اسکولوں کی مرمت، ایل پی سینٹر کا قیام، اساتذہ کی ٹریننگ، والدین کمیٹیوں کا قیام، ایجوکیشن کونسلوں کے ممبران کی کیپسٹی بلڈنگ اور اسکولوں میں ضروری سامان کی فراہمی شامل ہے انہوں نے بتایا کہ ضلع لسبیلہ میں اس سال داخلہ مہم کا تارگٹ تین ہزار سات سو پچیس متعین ہے جس کو پورا کرنے کے لیے محکمہ تعلیم لسبیلہ کی بھرپور مدد کی جائے گی۔

قادر بخش کا مزید بتانا تھا کہ داخلہ مہم کے دوران ہر تحصیل میں متعلقہ تعلیمی افسران، اساتذہ اور سکول سربراہان بھرپور کردار ادا کریں گے۔ اس مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکولوں میں داخل کروانا اور والدین میں تعلیمی شعور بیدار کرنا ہے۔ داخلہ مہم کی کامیابی کے لیے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، مساجد کے ذریعے وسیع پیمانے پر شعور اجاگر کیا جائے گا۔ عوام کو تعلیم کی اہمیت سے روشناس کرانے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز پر خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے، کامیاب طلبہ کی متاثر کن کہانیاں سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں نمایاں کی جائیں گی تاکہ دیگر والدین اور بچوں کو ترغیب ملے۔ اس کے علاوہ، نمایاں شخصیات، مذہبی رہنما، فلاحی تنظیمیں اور عوامی نمائندے بھی اس مہم کا حصہ ہوں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس نیک مقصد میں شامل ہو سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہر تحصیل اور اسکول کی سطح پر داخلہ مہم کے تحت مختلف سیمینارز اور آگاہی واکس کا انعقاد کیا جائے جا رہا ہے جہاں ماہرین تعلیم، اساتذہ اور والدین کو تعلیم کے فوائد پر روشنی ڈالنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، اسکول کونسلز اور والدین کی خصوصی میٹنگز منعقد کی جائیں گی تاکہ بچوں کے اسکول میں داخلے کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول اسمبلی میں طلبہ کو ترغیبی تقاریر کے ذریعے نئے بچوں کے داخلے کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے گا کلاس انچارج اور چائلڈ کلب کے ممبران کو بھی داخلہ مہم میں شامل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کے داخلے کو ممکن بنایا جا سکے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لسبیلہ محمد انور جمالی نے اسکول داخلہ مہم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ تعلیم اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور یونیسف کے تعاون سے داخلہ مہم کا مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو اسکول میں داخل کرانا ہے تاکہ وہ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر بچیوں کو تعلیم دلوائیں کیونکہ ایک پڑھی لکھی ماں ہی ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ داخلہ مہم کامیابی سے جاری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ہمیں تعلیمی نظام میں موجود چیلنجز پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کی قلت اور ٹرانسپورٹ کے مسائل طلبہ کی تعلیم میں رکاوٹ ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں جس میں ایجوکیشن سپورٹ پروگرام یونسیف بھرپور معاونت کر رہا ہے اس کے لیے انہوں نے ڈسٹرکٹ پروگرام افسر قادر بخش کو زبردست خراج تحسین پیش کیا،

انہوں نے مزید کہا کہ لسبیلہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری و غیر سرکاری ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، لیکن ہمیں والدین، اساتذہ اور سماجی شخصیات کی بھی مدد درکار ہے تاکہ ہم ایک بہتر تعلیمی ماحول فراہم کر سکیں۔ آخر میں انہوں نے والدین، اساتذہ اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں اور زیادہ سے زیادہ بچوں کے داخلے کو یقینی بنائیں تاکہ لسبیلہ کا ہر بچہ تعلیم حاصل کر کے ملک کا کارآمد شہری بن سکے۔

تقریب سے دیگر مقررین جن میں ڈسٹرکٹ افسر ایجوکیشن (میل) لسبیلہ حاجی نوید احمد ہاشمی، ڈی ڈی او ای اوتھل اطہر قریشی پرنسپل ایلیمنٹری کالج اوتھل خالد ظفر وائس پرنسپل پولی ٹیکنیکل کالج اعجاز، انچارج ماڈل اسکول اوتھل شہزاد حمید ربانی، ESP یونیسیف لسبیلہ کے DPM قادر بخش، وانگ کے خلیل احمد رونجھو CPD/ پائیٹ کے کوارڈنیٹر منیر احمد بلوچ ہینڈز کے افسر وجاہت بلوچ OCDI ڈسٹرکٹ کوارڈنیٹر راشد بٹ WFP کے رمضان شیکب جاموٹ و دیگر نے بھی خطاب کیا سیمینار میں بچوں نے نعت شریف ملی نغمات اور ٹیبلو پیش کیے اور تعلیم کے موضوع پر تقاریر بھی کیں۔ بعد ازاں داخلہ مہم کے حوالے سے ایک ریلی نکالی گئی ریلی کے شرکاء اور بچوں نے بینر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیم کے حوالے مختلف قسم کے نعرے درج تھے اور ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر لسبیلہ محمد انور جمالی نے سکول کے احاطہ میں پودا لگا کر شجر کاری مہم کا بھی آغاز کیا

تقریب کے اختتام پر، ڈپٹی کمشنر لسبیلہ میڈم حمیرا بلوچ اور دیگر معزز مہمانوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں شیلڈز اور نقد انعامات تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ، مہمانانِ گرامی کو بھی اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں تاکہ ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکے۔

داخلہ مہم کی کامیابی کے نتیجے میں اگرچہ سینکڑوں نئے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا جائے گا، مگر اس کے ساتھ ہی کئی سنگین مسائل بھی سامنے آرہے ہیں۔ لسبیلہ کے بیشتر اسکولوں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں، جس کی وجہ سے نئے داخل ہونے والے بچوں کے لیے مناسب کلاس رومز موجود نہیں۔ کئی اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے پینے کے پانی، بجلی، بیت الخلا اور فرنیچر کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کی مثال میں نے اس سال کے شروع میں بیلہ کراس کے قریب درار گوٹھ کے ایک پرائمری اسکول کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی تھی جس میں تین سو کے قریب بچے زیر تعلیم تھے اور ان کے ہاں صرف ایک کمرہ قابل استعمال حالت میں تھا،

داخلہ مہم کے بعد بھی اگر بڑی تعداد میں بچے اسکول چھوڑ دیتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا نظام کہیں نہ کہیں ناکام ہو رہا ہے۔ ڈراپ آؤٹ کی سب سے بڑی وجوہات یہ ہیں : بنیادی سہولیات کی کمی، ٹرانسپورٹ کا فقدان، معاشی مشکلات اور تعلیمی معیار کی کمی۔ جب اسکول میں بچوں کے بیٹھنے تک کی جگہ نہ ہو، تو تعلیم کیسے ممکن ہوگی؟ زیادہ فاصلے اور سفری مشکلات کی وجہ سے خاص طور پر لڑکیاں تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پرائمری سے مڈل اور مڈل سے ہائی و کالج لیول تک ڈراپ آؤٹ کی شرح کافی حد تک بڑھ جاتی ہے

اساتذہ کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بعض اسکولوں میں ایک ہی استاد کو کئی کلاسیں سنبھالنی پڑتی ہیں، جس سے تدریس کے معیار پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ایسے میں جب داخلہ مہم کے نتیجے میں مزید بچے اسکول آتے ہیں تو اساتذہ پر مزید بوجھ بڑھ جاتا ہے اور وہ ہر طالب علم کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ بہت سے اسکولوں میں خاص طور پر سائنس، ریاضی اور انگریزی جیسے مضامین کے اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ایسی صورتحال میں بچے معیاری تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں، اور تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حالیہ دنوں عارضی اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے مگر بغیر ٹریننگ کے ان کی مہارتوں پر سوالیہ نشان برقرار ہے اور اس کے علاوہ بہادر خان وومین یونیورسٹی کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تعیناتی ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے وہ بھی حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔

لسبیلہ کے دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جن بچیوں کے گھروں کے قریب اسکول نہیں، انہیں روزانہ کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑتا ہے، جو والدین کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ اس خوف کی وجہ سے کئی لڑکیوں کو مڈل کے بعد مزید تعلیم کے لیے اسکول بھیجنے سے روکا جاتا ہے۔ دوران سفر وثیارو وزیرہ پوائنٹ سے لے کر اوتھل تک سینکڑوں طلبہ بسوں و ویگنوں کی چھتوں پر سفر کر کے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کے ساتھ ٹرانسپورٹرز کے سخت رویوں کا سامنا کرتے ہیں اوتھل کے واحد گرلز ہائی اسکول میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ طالبات ہیں، اور دور دراز کے علاقوں کی بچیوں کے لیے ہائی اسکول تک پہنچنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ حکومت اگر واقعی خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنا ہو گا۔

تعلیم کے فروغ کے لیے صرف داخلہ مہم کافی نہیں، بلکہ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔ مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ بہت سے اسکولوں میں بنیادی ضروریات ہی موجود نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی کمی، بیت الخلا کی عدم دستیابی، بجلی اور فرنیچر کی قلت، اور کھیل کے میدانوں کی عدم موجودگی جیسے مسائل طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان سہولیات کے بغیر تعلیمی ماحول متاثر ہوتا ہے اور نتیجتاً طلبہ کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے، جو بالآخر ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

داخلہ مہم کا اصل فائدہ تب ہو گا جب حکومت ان مسائل پر توجہ دے۔ لاکھڑا، اہواہ، کنراج، کنڈ ملیر میں لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول اور اوتھل میں مزید گرلز ہائی اسکولز قائم کیے جائیں۔ اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ہر طالب علم کو معیاری تعلیم دی جا سکے۔ ٹرانسپورٹ سروس مہیا کی جائے تاکہ دور دراز کے علاقوں سے بھی بچے آسانی سے اسکول جا سکیں۔ اسکولوں میں بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی، بیت الخلا، اور فرنیچر کو یقینی بنایا جائے۔ غریب طلبہ کے لیے مالی معاونت کے پروگرام متعارف کرائے جائیں تاکہ وہ تعلیم جاری رکھ سکیں۔

داخلہ مہم ایک مثبت قدم ہے، مگر جب تک تعلیمی نظام میں موجود بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، یہ مہم محض رسمی کارروائی ہی رہے گی۔ اسکولوں میں مناسب سہولیات، اساتذہ کی فراہمی، اور سفری مسائل کا حل ہی تعلیم کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت واقعی تعلیمی انقلاب چاہتی ہے تو صرف داخلہ مہم چلانے کے بجائے اسکولوں کی حالت زار پر بھی توجہ دے تاکہ ہر بچہ نہ صرف اسکول میں داخل ہو بلکہ اپنی تعلیم مکمل بھی کر سکے۔ اور پڑھے گا لسبیلہ و بڑھے گا لسبیلہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

Facebook Comments HS