قوم پرستی سے غداری تک
دنیا کی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں مصوروں، سکالروں، فلاسفروں، شاعروں، فن کاروں اور سائنس دانوں کو بھیانک سزائیں دی گئیں۔ ان لوگوں کو سزائیں اس لئے دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ معاشرے کے ان مسائل کی نشان دہی کرتے ہیں جن کا حل ان کے ذہن میں سماج کی ترقی کے لئے ناگزیر ہوتا ہے اور یہی نشان دہی ہمیشہ معاشرے کے مراعات یافتہ لوگوں کے مفادات کے لئے خطرے کا سبب ہوتی ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہتے کہ عام آدمی ان پوشیدہ مسائل اور حقیقتوں کا ادراک حاصل کرے۔
بقول ایک مشہور مصور ونسنٹ وان گو (Vincent Van Gogh) پینٹنگز کی کہانی مصور کی روح سے نکلتی ہے۔ شاعر، لکھاری، فن کار، مصور اور دوسرے تخلیق کار اپنے احساسات کے غلام ہوتے ہیں۔ وہ جو محسوس کرتے ہیں اور جو سوچتے ہیں، اس کو وہ اپنے اشعار، افسانوں، مضامین اور تصاویر کی وساطت سے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان تخلیق کاروں کے لئے کسی کے کہنے پر اشعار، افسانے، مضامین لکھنا، مجسمے اور تصاویر بنانا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوتا ہے اور جینوئن فن کار، شاعر اور مصور تو اس کام کے لئے قطعی تیار نہیں ہوتا۔ ہاں بعض لوگ ایسا کرتے ہیں لیکن ان کو معاشرہ اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اکثر تخلیق کار اپنے احساسات اور سوچ اپنی شاہ کار تخلیقات کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
کامران خان ضلع مالاکنڈ کا ایک ابھرتا ہوا جواں سال مصور اور مجسمہ ساز ہے۔ اس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کے تمام افراد فنون لطیفہ جیسے لطیف فن سے وابستہ ہیں۔ ان میں شاعر، فن کار، ادیب اور مصور شامل ہیں۔
بہ قول پبلو پیکاسو ”فن روح سے روزمرہ زندگی کی خاک اور گرد دھو دیتا ہے۔“ اس گرد کو صاف کرنے میں تخلیق کار کسی کی نہیں سنتا۔ اس سلسلے میں میرے کامران خان کے ساتھ ٹیلی فون پر طویل گفت گو ہوئی جس کا تذکرہ یہاں ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا و سلام کے بعد میں نے کامران سے کہا کہ فن کار کو ڈکٹیشن دینا اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہے اور ہر فن کار کو یہ بات سب سے بُری لگتی ہے لیکن پھر بھی میں پختون معاشرے کے ایک ایسے ایشو کی پینٹنگ بنانے کی درخواست کرتا ہوں جس نے تمام پختون معاشرے کو غیر فعال بنا دیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ مسئلہ تو واقعی بہت سنگین ہے لیکن میں اُس وقت یہ کر سکتا جب میں خود اس کے لئے اپنا ذہن بنا لوں اور اس نے ابھی تک وہ تصویر نہیں بنائی ہے کیوں کہ کامران خان کو اب تک اس مسئلے نے اندر سے آواز نہیں دی ہے۔
اگر کامران خان کے تمام پینٹنگز کا غور سے جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آئے گا کہ وہ پختون خوا اور پختون قوم کی ترقی اور خوش حالی چاہتا ہے اور اس قوم کی ترقی اور اس کے وسائل پر ناجائز قبضہ کے خلاف لڑنے والوں کو نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ ان کی تصاویر اور مجسمے بہت کم زور معاشی حالات کے باوجود اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے بناتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس نے بڑا نام کمایا ہے۔ بہت اعزازات سمیٹے ہیں اور ایک خاص مکتب فکر اور سیاسی سوچ رکھنے والوں نے اس کی خوب پذیرائی کی ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کے دو وزرائے اعظم کو گولی یا پھانسی کے ذریعے قتل کیا گیا ہے اور بعض کے ساتھ رعایت کر کے جلاوطن یا پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ اس طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کو پارلیمان اور اس کے ممبران کی تذلیل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا یہ رویہ ایک خاص سیاسی پارٹی تک محدود نہیں ہے۔ جو ڈکٹیشن لینے سے انکار کرتا ہے، اس کے سافٹ وئیر کو اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ آج کل سابق وزیر اعظم عمران خان کی باری ہے۔ بادی النظر میں ان کو تو عدالتوں کے فیصلوں کے تحت جیل میں رکھا گیا ہے لیکن حقیقت میں یہ پارلیمنٹ اور عوام کی رائے کی حیثیت قبول کرنے سے انکار ہے۔
کامران خان نے اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے عمران خان کی تصویر بنائی ہے۔ اس پینٹنگ میں پاکستانی سیاست کی اس حقیقت کو بہت تکنیکی اور پیشہ ورانہ طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے بلکہ میں یہ کہنے میں حق بہ جا نب ہوں کہ یہ تصویر پاکستان کہ 75 سالہ سیاسی تاریخ کا نچوڑ ہے۔ اس پینٹنگ کے منظرعام پر آنے سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوا۔ بہت کم لوگوں نے اس پینٹنگ کو سراہا اور کامران خان کو داد دی۔ کسی نے بھی اس کے اندر پوشیدہ مقصد اور تکنیکی پہلو پر بات نہیں کی۔
اکثر لوگ جس میں بڑے بڑے سیاسی رہنما، شاعر، ادیب، سیاسی کارکن اور دانش ور شامل ہیں، پینٹنگ کو چھوڑ کر مصور کے پیچھے لگ گئے۔ ان سب کا اعتراض یہ ہے کہ کامران نے ایک ایسے بندے کی پینٹنگ بنائی ہے جو ماضی قریب میں اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار رہ چکا ہے لیکن اس اعتراض کی گونج ان لوگوں کے آنگن میں واپس آ کر زور زور سے چلا رہی ہے کہ آج تو عمران خان کے علاوہ سب آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ یعنی اعتراض کرنے والوں نے خود پر سوالات کھڑے کیے ہیں۔ عمران خان پر جعلی مقبولیت کا الزام لگاتے ہوئے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ریاستی سرپرستی میں دھاندلی کے باوجود پی ٹی آئی جیت گئی تھی۔ میرا بھی پی ٹی آئی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے جو پینٹنگ بتا رہی ہے اور تمام دنیا بہ شمول پاکستانی میڈیا یہ حقیقت تسلیم کرتی ہے۔
ہر فن کار کی سوچ اور فن بھی ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے۔ ابتداء میں ہر مصور، مجسمہ ساز، شاعر، ادیب، افسانہ نگار اور لکھاری اپنی پیشہ ورانہ سمت کا تعین نہیں کر سکتا۔ کامران خان کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔ اس نے علاقے کے مسائل کے بہ جائے ان لوگوں کے مجسمے اور تصاویر بنانے شروع کیے جن کا ان کی نظر میں ان مسائل کو حل کرنے میں کردار تھا۔
مثلاً اس نے پشتو زبان کے مشہور شاعر اور ایکٹویسٹ گیلہ مند وزیر کے شہید ہونے کی منظرکشی ایک پینٹنگ کے ذریعے کی ہے۔ یہ کامران خان کا ایک مثالی شاہ کار ہے لیکن یہ شاہ کار محدود لوگوں کو اپیل کرتا ہے۔ اگر وہ اُس مسئلے کی ایک پینٹنگ بناتا جس کے لئے باچا خان، عبدالصمد خان، ولی خان، گیلہ مند وزیر، علی وزیر، محسن داوڑ اور منظور پشتین جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے علاقے کے وسائل پر علاقے کے لوگوں کے اختیار کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ اس طرح کی پینٹنگ وزیرستان اور قبائلی اضلاع سے معدنیات اور دوسرے قیمتی دھاتوں کو ٹرکوں میں لے جانے اور یہاں کے لوگوں کی غربت اور بدامنی ساری دنیا کو متوجہ کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پشتون معاشرے میں لاتعداد سماجی مسائل ہیں، جن کو پینٹنگ کے ذریعے اجاگر کیا جاسکتا ہے۔
ونسنٹ وان گو کہتا ہے کہ میں اپنے آپ کو اس وقت زندہ محسوس کرتا ہوں جب میں پینٹنگ کر رہا ہوتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پینٹنگ کے بغیر ایک پینٹر اور مصور زندہ نہیں رہ سکتا۔ لوگوں کے اعتراضات پر ردعمل دکھاتے ہوئے اپنے نام کے ساتھ سابقہ انزور گر (مصور) کا لفظ لکھنا فن کارانہ اقدار کے خلاف ہے۔ یہ لوگوں اور علاقے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے محروم کرنا ہے۔ مصور، شاعر اور فنکار پبلک پراپرٹی ہوتی ہے۔ ان کے فن اور سوچ پر بات کرنے کا سب کو حق ہے۔
فن کار، دوسرے فن کاروں کے لئے بہت احترام رکھتا ہے کیوں کہ وہ خود سمجھتا ہے کہ فن کار کتنا عظیم ہوتا ہے۔ انتہائی معذرت کے ساتھ کامران خان نے لوگوں کے اعتراضات کے جواب میں ایک وضاحتی بیان میں ”ڈم اور خیراتی“ کے بارے میں اچھے الفاظ کا انتخاب نہیں کیا ہے۔ ڈم ہمارے پختون معاشرے کا سب سے بڑا فن کار ہے اور اس طرح خیراتی بھی مجبوری سے خیراتی بن جا تا ہے۔
آخر میں میری ایک عاجزانہ درخواست ہے :
د دے چمن تصویر پہ اور جوڑ کڑہ
د سر گلاب رنگ پکے تور جوڑ کڑہ
مطلب: ”اپنے وطن کے مسائل تصاویر کے ذریعے اجاگر کرو۔“
مسائل اور ایشوز کے بجائے اگر شخصیات کی پینٹنگ اور تصاویر پر زیادہ توجہ دی جائے تو شام کے وقت آپ کی قوم پرستی کے گیت ضرور گائے جائیں گے لیکن اگلی صبح آپ کی غداری کا اعلان کیا جائے گا۔


