کیا اوریا مقبول جان کی شخصیت ہماری مجموعی بیوروکریسی کی آئینہ دار ہے؟


ٹی، سی، ایم پر ایک سوال کے جواب میں ایک صاحب فرما رہے تھے کہ ”اگر آپ نے ہمارے بیوروکریٹک سسٹم کی ذہنی سطح کا جائزہ لینا ہے تو اوریا مقبول جان کو دیکھ لیں، اگر اس سطح کا بندہ سیکٹری کے لیول تک پہنچ سکتا ہے تو سوچیں ذرا کہ ہماری بیوروکریسی کا ذہنی معیار کیا ہو گا؟ سارے نظام کا یہی حال ہے اور یہ اپنی سطح کے لوگوں کو ہی اوپر لے کر آتے ہیں۔“

مجموعی طور پر تو شاید ایسا کہنا درست نہ ہو، کسی بھی سسٹم کے متعلق سویپنگ اسٹیٹمنٹ دینا یا بلیک اینڈ وائٹ قسم کی یک رخی سی رائے قائم کر لینا کوئی دانشمندانہ رویہ نہیں ہوتا، ایسا کرنے سے مختلف اسبابی پہلو جو کسی بھی نظام میں بگاڑ کا موجب بنتے ہیں وہ چھپے رہ جاتے ہیں۔

اچھے اور برے ہر جگہ پر ہوتے ہیں ہاں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ اکثریت اقلیت پر اثر انداز ہوتی ہے جس کا خمیازہ پورے سسٹم کو بھگتنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے وطن عزیز کی بنیاد میں ہی شروع دن سے خاصے ”افس اینڈ بٹس“ ہیں وہی دھیرے دھیرے مجموعہ تضادات کے ایک انسائیکلوپیڈیا میں ڈھل چکے ہیں، جس کی آج سیدھی نہیں اس کی کل بھلا کیسے سیدھی ہو سکتی ہے؟

حادثے یک دم تھوڑا ہوتے ہیں ہر حادثے کے پیچھے ایک طویل تاریخ ہوتی ہے جو بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے، سبق سیکھنے والے تو اپنی سمت درست کر ہی لیتے ہیں جو نہیں سیکھتے تو تاریخ کا دھارا انہیں بوائلنگ پوائنٹ تک لے جاتا ہے اور پھر اس کے اثرات سارے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

ہمارا پورا معاشرتی ڈھانچہ ہی تتر بتر ہو چکا ہے، کوئی بھی سماجی اکائی اپنے حصے کی ایک کامل آؤٹ پٹ دینے کی اہلیت نہیں رکھتی، ہر کوئی اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے دوسروں کی ڈومین میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے، مجموعی نتیجہ آپ کے سامنے ہے، کالج، یونیورسٹی، اسکولز، ہسپتال، کرکٹ، نجی و قومی اداروں میں ایسی اکثریت کا راج ہے جو اپنی پروفیشنل ڈگری یا اہلیت سے انصاف کرنے کی بجائے تبلیغ و تلقین یا وعظ و نصیحت میں لگے رہتے ہیں۔

اب یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ یہاں جو بکتا ہے وہی سب بیچ رہے ہیں، معیشت سے بڑی حقیقت بھلا اور کیا ہو سکتی ہے، بانجھ اور کند سماج میں تخلیقی رویے کہاں پنپتے ہیں اس طرح کے معاشروں میں مذہب اور روحانیت کا دھندا خوب چلتا ہے، اسی لیے تو یہاں تخلیق کار ناپید ہیں جبکہ مبلغین کی کثرت ہے۔

تخلیق کار ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، برین ڈرین کا پہیہ بڑی تیزی سے گھوم رہا ہے، اناؤں کے بیچ حقیقی ٹیلنٹ پس رہا ہے، ہماری آنکھ پوری طرح شاید اس وقت کھلے جب یہ دھرتی باصلاحیت نوجوانوں سے محروم ہو چکی ہوگی۔

انجینئر محمد علی مرزا کو دیکھ لیں جنہوں نے خود کو اپنی فیلڈ تک محدود رکھنے اور اسی فیلڈ میں رہتے ہوئے کچھ نیا یا منفرد کرنے کی بجائے اپنا انجینئرنگ ٹینیوئر مکمل کرتے ہی مذہبی رہنمائی کا میدان چن لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہاں سائنس سے متعلقین کی کس قدر کمی ہے بلکہ بحران ہے، وجہ بالکل صاف ہے کہ یہاں پذیرائی کا کوئی اور ذریعہ ہی نہیں ہے۔

اسی طرح سے لوگ مختلف دھندے کرنے کے بعد عمر کے آخری حصے میں نیک سنڈروم کا شکار ہو جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے ”میاں نصیحت“ کا رضاکارانہ کردار ادا کرنے لگتے ہیں۔

اسٹوڈنٹس، ڈیجیٹل سب سکریپشن یا فالورز کی اس قدر بھیڑ بھلا مذہب کے علاوہ اور کہاں مل سکتی ہے، واہ واہ کی صورت میں تقلیدیائی تائید و حمایت کا نشہ بھلا کہیں اور کہاں میسر ہو سکتا ہے؟

جو مزا سوالات کے آگے عقیدتی بند باندھنے اور جوابات کا ڈھیر لگانے میں ہے وہ کہیں اور کہاں مل سکتا ہے؟ سوالوں کے ساتھ بھی بڑا ظلم ہوا ہے زمانے کے حساب سے جیسے ہی ان کا حجم بڑھنے لگتا ہے تو خداوندان سماج ان پر تقدیس کا پہرہ بٹھانے میں ذرا سی تاخیر بھی نہیں کرتے۔ جہاں سوال راندہ درگاہ ہوتا ہے وہاں سے عقلی رویے رخصت ہو جاتے ہیں، عقیدت کے سائے تلے تخلیق کا پودا مرجھا جاتا ہے۔

یہ بھی کوئی معقول جواز نہیں بنتا کہ میں دوسروں سے بہتر مذہب کی خدمت کرنا چاہتا ہوں اس لیے اس راہ کو چنا، سب اسی ذہنیت سے تو اپنے چناؤ پر موقف اختیار کرتے ہیں لیکن ابہام اور تاویلات کے سوا کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔

بھیا! اوریائی، زیدحامدائی، نسیم حجازی، شہابی، تلقین بابائی ذہنیت ہمارے سماج کے بنتر میں شامل ہو چکی ہے، سنگل آؤٹ کرنے کا تکلف کیسا؟ ویسے بھی یہ ملک تو رازوں میں سے ایک راز ہے پریشانی کاہے کی ہے؟

Facebook Comments HS