پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 8 )
ہمیشہ سے گھر میں بڑوں سے یہ سنا کہ دنیا میں امن ہونا چاہیے۔ گھر میں امی ابو کے دوست احباب جب آتے سیاسی اور ادبی بحثیں ہوتیں اور سب سے زیادہ زور اس بات پر ہوتا کہ انسان کی بقا امن میں ہے۔ ہمارے بچپن میں پاکستان میں مذہبی رواداری اور برداشت کی کمی نہیں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ تو لوگوں میں ویسی برداشت رہی اور مذہبی انتہا پسندی میں بھی اضافہ ہو گیا۔ میں 2004 میں Chevenning کی اسکالرشپ پر North Ireland گئی اور وہاں Peace and Conflict Resolution کا کورس کیا۔ جس کے لئے میں پاکستان سے واحد خاتون منتخب ہوئی تھی۔ وہاں ہندوستانی، بنگالی، نیپالی، سری لنکن مندوبین کے ساتھ یہ کورس مکمل کیا جو کورس کے آخر تک دوست بن چکے تھے اور جن سے آج بھی دوستی قائم ہے بچوں کو بچپن سے امن اور دوستی کی کہانیاں والدین اساتذہ یا پھر نانا نانی یا دادا دادی سنائیں تو بچوں کے کمسن دماغ میں بچپن سے برداشت پیدا ہو گی اور وہ جنگ کو مسئلے کا حل نہیں سمجھیں گے۔ بچوں کے نصاب میں انھیں امن بطور ایک مضمون پڑھانا چاہیے۔
اگر تعلیم ہی جہاد کی دی جائے گی تو بچہ امن کے گیت تو گا چکا۔ ہمارا دشمن ہندوستان نہیں بلک غربت، بھوک، بے روزگاری اور جہالت ہے۔ ہمیں اپنا دفاعی بجٹ بڑھانے کے بجائے اپنا تعلیمی بجٹ بڑھانا چاہیے۔ ہمارے ہاں لوگ بغیر علاج کے مر جاتے ہیں ہمیں صحت پہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات پہ نظر ثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان اور ہندوستان غریب ملک ہیں اور اپنی غربت اور اس سے پیدا شدہ مسائل سے لڑنے کے بجائے ہم اس پر خوش ہیں کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں ہماری عوام روٹی اور پینے کے صاف پانی کو ترس رہی ہے اور ہم غوری اور اس سے بھی دور مار مزائل بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
مذہب کے نام نہاد ٹھیکے داروں نے سب سے منافع بخش کاروبار مذہب کو بنا دیا ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت کھلے عام بیچی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کا بھلا چاہتے ہیں تو وہ خطے میں امن کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرے بچے امن کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ پرما نے 2015 میں دبئی میں Peace Table کا انعقاد کیا تھا۔ اس نے امن کی آشا کے لئے دیوالی پر مضمون لکھا تھا اور بڑی خوبی اور سادگی سے یہ بیان کیا تھا کہ مختلف زبان اور مذہب سے تعلق رکھنے والے بچے کیسے گھل مل کر رہتے ہیں اور ان کی دوستی میں زبان اور مذہب کبھی آڑے نہیں آیا۔
پرما اور فرجاد یہ بات اچھے سے سمجھتے ہیں کہ روشن مستقبل کے لئے امن ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک بہتر کل دینا چاہتے ہیں تو اس کی بنیاد ہمیں آج رکھنی ہو گی۔


