کائنات کتنی وسیع ہے؟


قدیم زمانے میں یہ تصور کیا جاتا تھا کہ کل کائنات ایک کرہ کی شکل میں ہے جس کے مرکز میں زمین موجود ہے۔ اس کرہ میں چاند اور سورج کے ساتھ دوسرے سیارے بکھرے ہوئے ہیں۔ اس کی آخری حد کا تعین ستارے کرتے ہیں۔ یہ سب فلکی اجسام کھلی آنکھ سے بخوبی دیکھے جا سکتے تھے۔

ارسطو کے مطابق آسمان پر نظر آنے والے تمام اجسام ایک ایسے لافانی بحر بیکراں میں رواں دواں ہیں جس میں کوئی تغیر نہیں۔ اس کامل میڈیم کو انہوں نے ایتھر کا نام دیا۔ ایتھر میں ان اجسام کی حرکات کامل اور ابدی ہیں۔ ایتھر ایک ایسا عنصر ہے جو افلاک کے لیے مخصوص ہے۔ اس کے برعکس ارسطو کے مطابق زمین پر موجود اجسام کی ہیئت اور حرکت کی نوعیت مختلف ہے۔ یہاں تمام اجسام چار عناصر، زمین۔ پانی، آگ اور ہوا، سے مل کر بنے ہیں۔

ارسطو کے ان نظریات کو بطلیموس نے ایک جیو سینٹرک ماڈل کی شکل دی جس کے مطابق زمین کائنات کے مرکز میں ہے اور تمام سیارے، سورج، چاند اور ستارے اس کے گرد مدار میں گھوم رہے ہیں۔ تقریباً پندرہ سو سال تک اس تصویر میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

البتہ اس دور میں فلسفیانہ بحث جاری رہی کہ کیا کائنات لا محدود ہے یا اس کی کوئی حد ہونی چاہیے۔ اسی طرح کیا یہ کائنات ابد سے قائم ہے یا کسی مخصوص لمحے میں وجود میں آئی۔ یہ وہ وقت تھا جب سائنسی بنیادوں پر کائنات کی وسعت اور عمر کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات حاصل کرنے کے لیے کوئی ذرائع میسر نہیں تھے۔

سائنسی نقطہ نگاہ سے کائنات کے بارے میں سب سے اہم پیش رفت 1543 عیسوی میں ہوئی جب کوپرنیکس نے، جو پولینڈ کی ایک خانقاہ میں راہب تھے، سیاروں کی حرکت کا ایک ہیلیو سینٹرک ماڈل پیش کیا جس کے مطابق سورج مرکز میں ہے اور زمین سمیت تمام سیارے اس کے گرد گردش کر رہے ہیں۔ اس ماڈل نے زمین، اور اس طور انسان، کی اس کائنات میں مرکزیت کے دیرینہ تصور کو چیلنج کیا۔

قدیم دور سے رات کو آسمان پر سیاروں اور ستاروں کے علاوہ جس نظارے کا مشاہدہ کیا گیا وہ بکھری ہوئی ایک روشنی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آسمان پر ایک دودھیا راستہ موجود ہو۔ یہ سمجھنا مشکل تھا کہ اس روشنی کا سبب کیا ہے۔ صدیوں تک فلکیات کے ماہرین اور فلسفی اس روشنی کی نوعیت سمجھنے پر بحث کرتے رہے۔ فلک سے آنے والی اس روشنی کو Milky way کا نام دیا گیا۔

سب سے پہلے فلکیات دان جنہوں نے اس روشنی کی اصلیت کو سمجھا وہ گیلیلیو گیلیلی تھے۔ انہوں نے دوربین دریافت تو نہیں کی تھی لیکن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دوربین کو ایسے بہت سارے ستاروں اور سیاروں کا مشاہدہ کرنے کے لئے استعمال کیا جو آنکھ سے نظر نہیں آتے تھے۔ انہوں نے مشتری کے چاندوں کو دریافت کیا۔ دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے ان کی بڑی فلکیاتی دریافتوں نے کوپرنیکس کے تجویز کردہ ہیلیو سینٹرک نظام کو قبول کرنے کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ یہ دودھیا راستہ دراصل بہت سارے ستاروں سے مل کر بنا ہے۔ یہ ستارے ہم سے اتنی دور ہیں کہ ان کو آنکھ سے انفرادی طور پر دیکھنا ناممکن ہے اسی لیے وہ ہمیں دھندلے نظر آتے ہیں اور ملکی وے نما کہکشاں بناتے ہیں۔ سورج اور اس کے سیاروں کا نظام اس کہکشاں کے مرکز سے دور ایک غیر اہم مقام پر واقع ہے۔

انیسویں صدی کے اختتام پر یہ سوچ راسخ تھی کہ کائنات ابد سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی۔ اور یہ صرف ملکی وے کہکشاں پر مشتمل ستاروں پر مشتمل ہے جو ہمیشہ اسی طرح چمکتے رہیں گے۔ یہ کہکشاں اور اس طور پوری کائنات تین لاکھ نوری سالوں پر محیط ہے۔

یہاں بڑی تعداد سے بچنے کے لیے کائناتی فاصلے روایتی اکائیوں، میل یا کلومیٹر، کے لحاظ سے نہیں بلکہ نوری سالوں کے لحاظ سے بتائے گئے ہیں۔ ایک نوری سال کا فاصلہ وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرتی ہے۔ کلومیٹر کے لحاظ سے یہ تین لاکھ کو ایک سال میں سیکنڈوں کی تعداد سے ضرب دے کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طور ایک نوری سال کا فاصلہ تقریباً 9.5 ٹریلین کلومیٹر بنتا ہے۔

بیسویں صدی کی ابتدا میں کائنات کی عمر اور سائز کے بارے میں ہمارے تخمینے میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔

کائنات کے بارے میں طویل مدت سے قائم تصورات میں انقلابی تبدیلی کی طرف پہلا اہم قدم آئن سٹائن کی یہ دریافت تھی کہ زمان و مکاں کی نوعیت اس سے کہیں مختلف ہے جن پر ہم ہزاروں سالوں سے یقین کرتے آئے ہیں۔ جب آئن سٹائن نے 1915 میں اضافیت کا عمومی نظریہ وضع کیا تو اسپیس اور ٹائم کے بارے میں ہمارے دیرینہ تصورات میں ایک انقلابی تبدیلی آئی۔

نظریہ اضافیت کا سب سے چونکا دینے والا نتیجہ یہ تھا کہ کائنات جامد نہیں ہے، بلکہ پھیل رہی ہے۔ یہ نتیجہ اتنا حیران کن تھا کہ خود آئن سٹائن کے لیے بھی ناقابل یقین تھا۔ یہ سوچنا مشکل تھا پھیلتی ہوئی کائنات کے تصور سے ان کی بے چینی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے ایک مستحکم کائنات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی مساواتوں میں مصنوعی طور پر ایک اصطلاح شامل کی۔ یہ وہ چیز تھی جس پر وہ بعد میں پچھتائے اور اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔

پھیلتی ہوئی کائنات کا خیال اتنا ناقابل قبول کیوں تھا؟

اس لیے کہ ایک پھیلتی ہوئی کائنات کا مطلب یہ ہے کہ، ماضی میں ایک وقت، کائنات ایک نقطہ پر مرتکز رہی ہوگی۔

کائنات کے پھیلاؤ کی پیشین گوئی کرنے والے پہلے شخص، روسی سائنسدان الیگزینڈر فریڈمین (Alexader Friedman) تھے جنہوں نے 1922 میں، آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ فریڈمین زیادہ دن زندہ نہیں رہے اور 1925 میں اپنی پیشین گوئی کے سچ ثابت ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔

بیسویں صدی کی سب سے بڑی سائنسی دریافتوں میں سے ایک برطانوی ماہر فلکیات، ایڈون ہبل (Edwin Hubble) کا مشاہدہ تھا کہ کھربوں کہکشاؤں سے بھری ہوئی کائنات تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اس سادہ سے مشاہدے نے کائنات کے بارے میں ہمارے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ یہ تحقیق مشاہداتی کا سمولوجی کے نئے شعبے کی پیدائش کا باعث بنی۔

1929 میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں، ہبل نے مشاہدے کی بنیاد پر چوبیس کہکشاؤں کے فاصلے اور ان کی حرکت کی پیمائش سے وابستہ اعداد و شمار پیش کیے۔ ان کے مطابق دور ترین کہکشاں ہم سے 140 ملین نوری سالوں کے فاصلے پہ ہے۔ اس طور یہ اندازہ لگایا گیا کہ مشاہدہ کردہ کائنات کا قطر 280 ملین نوری سالوں سے زیادہ ہے۔ اس طرح ہبل کے مشاہدات کے نتیجے میں کائنات کی وسعت کا تخمینہ 3 لاکھ نوری سال سے بڑھ کر 280 ملین نوری سال تک پہنچ گیا۔

لیکن ہبل کی تحقیق کا سب سے زیادہ ڈرامائی نتیجہ یہ دریافت تھی کہ بہت دور پائی جانے والی کہکشائیں ہم سے دور ہوتی جا رہی ہیں، اور دور ہونے کی رفتار براہ راست ہم سے فاصلے کے متناسب ہے۔ اس طرح، ایک قریبی کہکشاں دور کی کہکشاں کے مقابلے میں ایک کم رفتار کے ساتھ ہم سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ ہبل نے یہ حیران کن نتیجہ ان چوبیس کہکشاؤں کے مشاہداتی اعداد و شمار کی بنیاد پر نکالا جن کے لیے فاصلے کے ساتھ ساتھ ان کی زمین سے دور ہونے والی رفتار بھی دستیاب تھی۔

جو بات سب سے اہم تھی، وہ یہ کہ ہم سے کہکشاں کے دور ہونے کی رفتار اور ہم سے اس کہکشاں کے فاصلے کا تناسب تمام کہکشاؤں کے لیے برابر تھا اور یہ نمبر 170 کلومیٹر فی سیکنڈ فی ملین نوری سال ہے، یعنی دو کہکشائیں جن کے درمیان ایک ملین نوری سال کا فاصلہ ہے، ایک دوسرے سے 170 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ رفتار اور فاصلے کے درمیان اس تناسب کو ہبل کونسٹینٹ کا نام دیا جاتا ہے۔ ہبل نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کائنات ایک مستقل رفتار سے پھیل رہی ہے۔

پھیلتی ہوئی کائنات کے تصور کو ایک سادہ سی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آئیے ہم اپنی کائنات کو گوندھے ہوئے میدے کی طرح تصور کرتے ہیں جس میں کہکشائیں اس طرح جڑی ہوئی ہیں جیسے میدے میں کشمش۔ جیسے جیسے میدہ پھیلتا ہے (جیسا کہ بیکنگ کے دوران) ، کشمش ایک دوسرے سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔

اس مثال میں ہم تین کشمش تصور کرتے ہیں جو میدے میں ابتدائی طور پر اس طرح موجود ہیں کہ پہلی اور دوسری کشمش کے درمیان فاصلہ 5 سینٹی میٹر ہے جبکہ دوسری اور تیسری کشمش کے درمیان فاصلہ 10 سینٹی میٹر ہے۔ فرض کریں کہ بیکنگ کے دوران میدہ پھیلتا ہے اور نتیجتاً پہلی اور دوسری کشمش کے درمیان فاصلہ 10 سینٹی میٹر اور دوسری اور تیسری کشمش کے درمیان فاصلہ 20 سینٹی میٹر ہو جائے گا۔ اگر یہ پھیلاؤ پانچ منٹ میں ہوتا ہے تو دوسری کشمش کے مطابق پہلی کشمش کی رفتار ایک سینٹی میٹر فی سیکنڈ جبکہ تیسری کشمش کی رفتار دو سینٹی میٹر فی سیکنڈ ہو گی۔

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ پھیلتی ہوئی کائنات میں کس طرح ایک قریبی کہکشاں دور کی کہکشاں کے مقابلے میں سست رفتار سے حرکت کرتی نظر آتی ہے۔

پھیلتی ہوئی کائنات کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ، اگر کائنات ایک مستقل رفتار سے پھیل رہی ہے، تو ماضی میں اس کا سائز حال کے مقابلے میں کمتر ہو گا۔ ماضی میں جتنا دور جائیں، کائنات کا سائز اتنا ہی چھوٹا ہو گا۔ تو پھر بہت دور ماضی میں ایک لمحہ ایسا بھی ہو گا، جب پوری کائنات ایک نقطے پر مرکوز ہو گی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے ایک مستقل پھولتے ہوئے غبارے کو دیکھ کر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ماضی میں کسی وقت غبارہ ایک نقطے پر مرکوز ہو گا۔

یہ لمحہ کائنات کا نقطہ آغاز ہونا چاہیے!

یہ ایک چونکا دینے والا نتیجہ تھا۔ کائنات جس کو ازلی تصور کیا جاتا تھا، اس کی ابتدا تو ایک نقطے سے ہوئی۔ ایک لمحہ تھا جب زمان و مکاں ایک نقطے پر مرکوز تھے۔ اس لمحے پر ایک بگ بینگ ہوا۔ یہ کائنات کی ابتدا تھی اور کائنات اس لمحے سے مسلسل پھیل رہی ہے۔

اس طور اس تحقیق کا سب سے زیادہ ڈرامائی نتیجہ یہ دریافت تھی کہ کائنات ہمیشہ سے قائم نہیں، بلکہ چند ارب سال پہلے اس کا آغاز ہوا تھا۔

ہبل کے قانون سے کائنات کی عمر کیسے معلوم کی جائے؟

اگر کائنات کے پھیلنے کی رفتار معلوم ہو تو یہ معلوم کرنا ممکن ہونا چاہیے کہ نقطہ آغاز کب ہو گا۔ ہبل نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں یہ اندازہ لگایا کہ کائنات کی عمر 2 بلین سال ہے۔ یہ 1929 کی بات ہے۔ ہبل کے دلائل تو بہت مضبوط تھے لیکن کائنات کی عمر کا یہ اندازہ صحیح محسوس نہیں ہوتا تھا کیونکہ ماہرین ارضیات نے اس وقت تک ایسی چٹانوں کی نشان دہی کی تھی جن کی عمر کا تخمینہ 3 بلین سال سے بھی زیادہ تھا۔ اس متضاد نتیجے کی توجیہہ یہ تھی کہ ہبل کے مشاہدے کے آلات فرسودہ ہیں اور کہکشاؤں کی حرکت کا جائزہ لینے کے لیے بہتر دوربینوں کی ضرورت ہے۔

1955 میں ماؤنٹ پولیمر پر نصب کردہ نئی ٹیلی سکوپ نے نئے افلاکی اجسام کی دریافت ممکن بنائی۔ اس ٹیلی سکوپ کی بدولت بہت دور تک اور بہت درستگی کے ساتھ کہکشاؤں اور ان میں موجود ستاروں تک کا فاصلہ اور ان کی حرکت کا مشاہدہ ممکن ہوا۔ نتیجتاً یہ معلوم ہوا کہ کائنات کا سائز تقریباً 4 بلین نوری سال ہے اور کائنات کی عمر 6 بلین سال ہے۔

پھر 1965 میں 12 ملین نوری سال کے فاصلے پر quasar نامی ایک فلکیاتی جسم کا مشاہدہ کیا گیا جو اس وقت تک دیکھے جانے والے اجسام میں سب سے زیادہ دوری پر تھا۔ اسی دوران نئے اور بہتر مشاہدات کی روشنی میں ہبل کونسٹینٹ کی نئے سرے سے تعین کرنے کی کوشش کی گئی جس کی بنیاد پر یہ تخمینہ لگایا گیا کہ کائنات کی عمر 15 اور 25 ملین سال کے درمیان ہونی چاہیے۔

مشاہداتی فلکیات کا ایک انتہائی اہم لمحہ وہ تھا جب 1990 میں ہبل ٹیلی سکوپ فضا میں بھیجی گئی۔ اس ٹیلی سکوپ کے مشاہدات کی روشنی میں انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہیں۔ جدید ترین نتائج کے مطابق کائنات کی عمر 13.7 بلین سال ہے اور مشاہداتی کائنات کا قطر 94 ملین نوری سال ہے۔

لیکن یہ سوال ابھی تک جوں کا توں ہے کہ کائنات اصل میں کتنی وسیع ہے۔
کیا کائنات 94 ملین نوری سال سے بڑی ہے؟
ایک اہم مسئلہ، جسے عام طور پر افق کا مسئلہ کہا جاتا ہے، اس کا حل اس گمبھیر سوال پر روشنی ڈالتا ہے۔

یہ مسئلہ مشاہدہ شدہ کائنات کی یکسانیت ہے۔ جب ہم کسی بھی سمت دیکھتے ہیں تو کائنات ایک جیسی نظر آتی ہے۔ بہت چھوٹے پیمانے پر، یکسانیت میں کمی ہو سکتی ہے جیسے کسی خاص رخ میں ستاروں کی تعداد کسی دوسرے رخ کے مقابلے میں زیادہ یا کم ہو سکتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر، یہ ہر طرف ایک جیسی نظر آتی ہے۔

اس بڑے پیمانے پر یکسانیت کا سب سے مضبوط ثبوت اس تابکاری کی پیمائش ہے جو کائنات کی پیدائش کے وقت موجود تھی۔ کائنات کی پیدائش کے وقت تو اس کا درجہ حرارت بہت زیادہ تھا لیکن کائنات کے پھیلاؤ کے نتیجے میں درجہ حرارت بہت کم ہو گیا۔ اس تابکاری کو cosmological microwave background radiation کا نام دیا جاتا ہے۔ بہت تفصیلی مشاہدات سے یہ بات ثابت ہے کہ اس تابکاری کا درجہ حرارت پوری مشاہدہ کردہ کائنات میں یکساں ہے۔ فلکیات دانوں کے نزدیک یہ مشاہدہ انتہائی حیران کن ہے اور بگ بینگ تھیوری پر سوال اٹھا دیتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ مشاہدہ عجیب کیوں ہے؟ یہ ایک مسئلہ کیوں ہے؟

مسئلہ کائناتی تابکاری کی اصل سے آتا ہے۔ بگ بینگ تھیوری کے مطابق کائنات کے پہلے 380,000 سالوں کے دوران، یہ تابکاری مثبت اور منفی چارج شدہ ذرات پر مشتمل مادے میں مقید تھی کیونکہ الیکٹران اور پروٹون جیسے ذرات تابکاری کے ساتھ بہت مضبوطی سے تعامل کرتے ہیں۔ جب کائنات کافی ٹھنڈی ہوئی تو یہ ذرات مل کر ایٹم بن گئے جو برقی طور پر غیر جانبدار تھے اور روشنی مادے کے ساتھ تقریباً کوئی تعامل کیے بغیر سیدھی لکیروں میں سفر کر سکتی تھی۔ اس وقت صورتحال ایسی ہے جب دور دراز ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی روشنی اربوں نوری سال کا سفر کر کے بغیر کسی خلل کے ہم تک پہنچ سکتی ہے۔ چونکہ موجودہ وقت میں کائنات کا درجہ حرارت یکساں نظر آتا ہے، اس لیے کائنات کا درجہ حرارت بگ بینگ کے 380,000 سال بعد بھی یکساں ہونا چاہیے تھا۔

لیکن چیزوں کو یکساں درجہ حرارت پر آ نے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بگ بینگ سے لے کر ان لمحات تک جب ایٹم بننے لگے، یہ کافی وقت تھا کہ کائنات اپنے طور پر یکساں درجہ حرارت پر آ جائے؟

ایک مثال اس نکتے کو واضح کر سکتی ہے۔

آئیے ہم چائے کے ایک گرم کپ پر غور کریں جس میں برف کا ایک ٹکڑا ڈال دیا جائے۔ شروع میں برف کا درجہ حرارت بہت کم ہو گا جب کہ اس کے ارد گرد چائے گرم ہو گی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، برف پگھلتی جائے گی اور برف کے قریب موجود چائے ٹھنڈی ہوتی جائے گی۔ مگر پگھلتی ہوئی برف سے زیادہ فاصلے پر موجود چائے بدستور گرم رہے گی۔ اس طور چائے کے کپ میں مختلف مقامات پر چائے کا درجہ حرارت مختلف ہو گا۔ کچھ حصے سرد ہوں گے اور کچھ حصے گرم۔ کچھ وقت کے بعد ، مثلاً 5 منٹ کے بعد ، پوری چائے ایک یکساں درجہ حرارت پر ہوگی۔ یہ درجہ حرارت چائے کے اصل درجہ حرارت سے تھوڑا کم ہو گا لیکن برف کے درجہ حرارت سے بہت زیادہ ہو گا۔

اس مثال میں دو اہم نکات ہیں۔

پہلا نکتہ یہ ہے کہ چائے اور برف دونوں کے لیے یکساں درجہ حرارت تک پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ یہ وقت اس بات پر منحصر ہے کہ چائے اور برف دونوں کے پانی کے مالیکیول کتنی تیزی سے سفر کرنے کے قابل ہیں۔ یکساں درجہ حرارت تک پہنچنے کے لیے درکار کم از کم وقت وہ وقت ہے جو برف کے مالیکیول کو برف کے ابتدائی مقام سے لے کر چائے کے کپ کے اندر سب سے دور دراز مقام یعنی کپ کی سطح تک سفر کرنے میں لگتا ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یکساں درجہ حرارت تک پہنچنے تک چائے کے کپ میں درجہ حرارت کی تقسیم یکساں نہیں ہو گی۔ چائے کے کچھ حصے دوسرے حصوں سے زیادہ ٹھنڈے ہوں گے۔

اس مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے، آئیے دیکھتے ہیں کہ یکساں کائناتی تابکاری عام بگ بینگ ماڈل کے لیے کیوں پریشانی کا باعث ہے۔

بگ بینگ ماڈل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ، ابتدائی کائنات کی توسیع روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتاری سے ہوئی۔ نتیجے کے طور پر، اس وقت موجود مادے اور تابکاری کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ توازن کی حالت میں آ سکے۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق مادہ اور توانائی روشنی سے تیز تر رفتار سے حرکت نہیں کر سکتے۔ لیکن اس قانون کا اطلاق کائنات کے پھیلاؤ پر نہیں ہوتا۔ اس طور یہ ناممکن لگتا ہے کہ اتنے مختصر وقت میں کائنات کے ان تمام حصوں میں درجہ حرارت یکساں ہو جہاں تک روشنی کی رفتار سے بھی پہنچنا ممکن نہ ہو۔

صورتحال چائے کے کپ کے اندر موجود برف جیسی ہے۔ اگر چائے کا کپ مالیکیولز کی رفتار سے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، تو چائے کا درجہ حرارت پورے کپ میں کبھی بھی ایک جیسا نہیں ہو گا۔ اس صورت میں برف کے مالیکیول کبھی بھی کپ کی سطح تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ اس طور برف کے آس پاس موجود چائے ہمیشہ دور کپ کی سطح کے نزدیک چائے سے زیادہ سرد رہے گی۔ اسی طرح، چونکہ ابتدائی کائنات کی توسیع روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتاری سے ہوئی۔ اس لیے کائنات کے دور پار حصوں کا درجہ حرارت ایک جیسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔

مگر یہ تو ان مشاہداتی نتائج سے متصادم ہیں جن کے مطابق پوری کائنات میں تابکاری کا درجہ حرارت یکساں ہے۔ اس طور درجہ حرارت کی یکسانیت کی وضاحت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی قسم کے چند اور مسائل ہیں جو بگ بینگ ماڈل سے اخذ کردہ نتائج سے ہم آہنگ نہیں۔

لیکن ایک توجیہہ نے ان تمام مسائل کو کافی تسلی بخش انداز میں حل کر دیا۔ اس مفروضے کے مطابق کائنات اپنے انتہائی ابتدائی لمحات، یعنی پہلے سیکنڈ کے اربویں کھربویں حصے میں، انتہائی تیز رفتاری سے توسیع پذیر ہوئی۔ اس توسیع کی رفتار ناقابل یقین حد تک تیز تھی۔ پھر اس توسیع کی رفتار آہستہ ہو گئی۔

کائنات کے ابتدائی لمحات میں اس انتہائی تیز رفتار توسیع کے مفروضے نے، جس کو cosmic inflation کا نام دیا گیا، کائنات کی یکسانیت اور دوسرے مسائل کو حل کیا۔

لیکن کیسے؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ ذرا ایک چھوٹے سے غبارے پر غور کریں جس پر بہت سے داغ ہیں۔ فرض کریں کہ یہ غبارہ پوری کائنات کی نمائندگی کرتا ہے۔ پھر یہ غبارہ اتنی تیزی سے پھیلے کہ ہر داغ کا سائز اس چھوٹے سے غبارے کے سائز سے بڑا ہو۔ اس طور اس بڑے غبارے کی سطح پر بڑے بڑے داغ ہوں گے لیکن ہر داغ خود بے داغ ہو گا۔ اسی طرح ابتدائی لمحات میں انتہائی تیز رفتاری سے پھیلتی کائنات میں موجود ناہمواریاں اس پھیلی ہوئی کائنات میں اتنے بہت سے ریجن میں اس طور موجود ہیں کہ ہر ریجن میں کوئی ناہمواری نہیں۔ اور ان میں سے ایک ریجن ہماری مشاہدہ کردہ کائنات ہے۔

اگر اس ماڈل کو صحیح مان لیا جائے تو ہماری مشاہدہ کردہ کائنات میں یکساں درجہ حرارت کی توجیہہ مل جاتی ہے لیکن اس صورت میں جو کائنات ہم دیکھنے کے قابل ہیں، کل کائنات کا ایک بہت معمولی حصہ ہے۔

تو یہ سوال کہ کل کائنات کا سائز کیا ہے، کاسمولوجی کی فیلڈ میں اتنی پیش رفت کے باوجود جواب طلب ہے۔
کیا کائنات محدود ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کا سائز کیا ہے؟
ہا پھر کیا کائنات لامحدود ہے؟
کیا ہم کبھی ہزاروں سالوں سے پوچھے گئے اس سوال کا حتمی جواب پا سکیں گے کہ کائنات کتنی وسیع ہے؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy