کیا ایک مذہبی اور لامذہبی انسان کی دوستی ممکن ہے؟


مجھ سے میرے ایک ہیومنسٹ دوست نے پوچھا ڈاکٹر سہیل! آج کل کے شدت پسندی ’بنیاد پرستی‘ تنگ نظری اور منتقم مزاجی کے دور میں کیا ایک مذہبی اور ایک لامذہبی ایک خدا کو ماننے والے اور ایک خدا کو نہ ماننے والے انسان کی دوستی ممکن ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ اور میں نے انہیں اپنی اور رفیع مصطفیٰ کی برسوں کی دوستی کی مثال پیش کی اور انہیں رفیع مصطفیٰ کی تازہ ترین کتاب ”پوشیدہ کائنات“ دکھائی جس کا انتساب انہوں نے بڑی محبت اور اپنائیت سے ڈاکٹر خالد سہیل کے نام کیا ہے اور دیباچے میں لکھا ہے،

’یہ کتاب میں نے اپنے عزیز دوست ڈاکٹر خالد سہیل کے لیے لکھی ہے مگر آپ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ خالد خود کو دہریہ اور ہیومنسٹ یا مسلک انسانیت کا پیروکار کہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں کیونکہ وہ ہر ایک سے پیار کرتے ہیں اور خود بھی ایک پیارے انسان ہیں۔ دانشور اور درویش صفت آدمی ہیں۔ مجھے ولی اور خود کو گنہگار کہتے ہیں اور میں بھی انتقاماً انہیں ولی اور خود کو گناہ گار کہتا ہوں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے نفسیات داں اور نفسیاتی معالج ہیں۔ اب تک اسی کتابیں اور سات سو سے زیادہ مضامین لکھ چکے ہیں جو ان کی فکری وسعت اور علمیت کا ثبوت ہے۔ ہمارے تعلقات میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تبلیغ نہیں کرتے۔ ‘

اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رفیع مصطفیٰ نے سائنس فلسفہ اور مذہب کے درمیان ادبی و نظریاتی پل تعمیر کیے ہیں اور انہوں نے انسانی شعور کے ارتقا کے تین ہزار برسوں کے سفر کی کہانی تین سو صفحات میں بیان کی ہے۔ اس کتاب میں جہاں سقراط افلاطون اور ارسطو کے نظریات ہیں وہیں نیوٹن آئن سٹائن اور ہاکنگ کے خیالات بھی ہیں، جہاں تاریک مادے اور پھیلتی کائنات کا ذکر ہے وہیں کائنات کی پیدائش اور موت کی کہانی بھی ہے، جہاں ہمہ از اوست اور ہمہ اوست کا فلسفہ ہے وہیں ڈیئزم اور ایتھیزم کا نظریہ بھی ہے۔
رفیع مصطفیٰ نے سائنسی اور فلسفیانہ نظریات اور مذہبی اعتقادات کا خلاصہ بڑی عمدگی اور خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے اور ان کے فرق کو اجاگر کیا ہے۔

رفیع مصطفیٰ اور میرے نظریات میں قدر مشترک یہ ہے کہ ہم دونوں قوانین فطرت کو مانتے ہیں اور قدر اختلاف یہ ہے کہ ان کا ایمان ہے کہ یہ کائنات خوبصورت ہے اور اس کا ایک خالق ہے جس نے کن فیکون کے معجزے سے پلک جھپکتے میں یہ کائنات بنا دی اور میرا خیال ہے کہ بقول جون ایلیا

حاصل کن ہے یہ جہان خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں

میرے ایک مذہبی شاعر دوست جون ایلیا سے زیادہ مرزا غالب کے ہم خیال ہیں اور یہ شعر پسند فرماتے ہیں

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

میرے لیے یہ دلچسپی کی بات تھی کہ رفیع مصطفیٰ نے نوجوانی میں جہاں مارکس اور لینن کو پڑھا اور کمیونزم کے نظریے کے دلدادہ ہوئے وہیں ابوالاعلیٰ مودودی غلام احمد پرویز اور غلام جیلانی برق کے خیالات سے بھی متاثر ہوئے رفیع مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ
خالد سہیل کا سفر اسلام سے دہریت کی طرف ہے اور
رفیع مصطفیٰ کا سفر دہریت سے اسلام کی طرف ہے
نظریاتی اختلاف کے باوجود ہماری دوستی کی بنیاد انسان دوستی ہے۔ ہماری منزل ایک ہے راستے جدا۔

ہم ایک دوسرے کی بات تحمل اور بردباری سے سنتے ہیں اور باہمی احترام سے مکالمہ کرتے ہیں۔ ہم دونوں پرامن معاشروں کا خواب دیکھتے ہیں۔

انہوں نے نہ تو کبھی مجھے مذہبی بنانے کی اور نہ ہی میں نے انہیں لامذہبی بنانے کی کوشش کی۔

رفیع مصطفیٰ اور میں اس بات پر متفق ہیں کہ کائنات قوانین فطرت سے چلتی ہے جو دعاؤں سے نہیں بدلتے۔ اپنے اس موقف کی حمایت میں میں ان کی کتاب سے ایک صفحہ آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ صفحہ نمبر تین سو اٹھائیس پر لکھتے ہیں

’ انیس سو ستانوے میں میں اور نگہت حج کے لیے جانے سے دو ہفتے پہلے ایک دوست کی بیگم کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے۔ میں انہیں بھابی تسنیم کہتا تھا۔ انہیں ہسپتال میں ایک سال ہو گیا تھا۔ کینسر کی مریضہ تھیں اور کافی عرصے سے بستر پر تھیں۔ میں نے سنا تھا کہ مکہ پہنچ کر جب پہلی مرتبہ خانہ کعبہ پر نظر پڑے اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے سوچا کہ میں بھابی تسنیم کی صحت کے لیے دعا مانگوں گا اور میں نے یہی کیا۔ حج سے واپس آنے کے بعد جب ہم اگلی بار ان کی عیادت کے لیے گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے ان کی صحت کے لیے کعبہ پر نظر پڑتے ہی ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی تھی۔ وہ یہ سن کر بہت خوش ہوئیں اور دعا کی کہ خدا میری دعا قبول کرے۔ چند دن کے بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

میں نے سوچا کہ کیا مجھے خدا سے شکایت ہونی چاہیے کہ اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔ پھر یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیا کہ اگر خدا دعاؤں کی بنیاد پر کائنات کو چلاتا تو دنیا میں اختلال افراتفری اور بد نظمی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر چلتا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو وہ بھی قوانین کے دائرے میں ہوتی ہے۔ اگر کینسر کو اپنے منطقی انجام پر پہنچنا ہے تو پہنچے گا خواہ کتنی ہی دعا کیوں نہ کی جائے ’

رفیع مصطفیٰ کا اپنی بھابی کے لیے نیک جذبات کا واقعہ پڑھتے ہوئے مجھے احمد فراز کے دو اشعار یاد آ گئے

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں
کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں
آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل
روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں

میں رفیع مصطفیٰ کا بڑا احترام کرتا ہوں کہ انگریزی اور اردو میں ناول لکھنے کے بعد بیاسی برس کی عمر میں ’جبکہ میرے کئی ادیب دوست ادبی مینوپاز کا شکار ہو گئے ہیں‘ انہوں نے ”پوشیدہ کائنات“ جیسی ضخیم کتاب لکھی جو سائنس فلسفہ اور مذہب کے سنجیدہ طالب علموں کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ یہ کتاب ہماری پراسرار کائنات کے راز ہم پر منکشف کرتی ہے اور دعوت فکر دیتی ہے۔ اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کا پیش لفظ پاکستان کے معزز دانشور اور معتبر سماجی رہنما پرویز ہودبھائی نے لکھا ہے۔ فرماتے ہیں

’ انسانی تخیل کو اس وسیع و عریض کائنات نے ہمیشہ سے للکارا ہے۔ ہم طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی اور اپنے موجودہ حال تک پہنچتے پہنچتے کن مراحل سے گزری؟ فلکی اجسام کو آسمان پر کون سی قوت اٹھائے رکھتی ہے؟ اس کا انجام کیا اور کیسے ہو گا؟ وغیرہ

جدید سائنس کائنات کی ایک فطری توضیح پیش کرتی ہے اور یہ کسی ماورائی قوت کی محتاج نہیں ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایک ایسی برتر طاقت پر یقین رکھتے ہیں جس نے کائنات کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اس کی رہنمائی بھی کی اور جس کا وجود حیات بعد از موت ہی ظاہر ہو گا۔ اگرچہ ابتدائے کائنات کا سائنسی نظریہ یعنی بگ بینگ تھیوری آج مضبوط بنیادوں پر استوار ہے لیکن اس سے آگے مزید ان گنت سوالات جنم لیتے ہیں مثلاٌ یہ کہ کائنات بنانے کے لیے کیا کسی خالق کی واقعی ضرورت ہے؟ اور اگر یہ مان بھی لیا جائے تو کیا ایک سے زیادہ تخلیق کاروں کی گنجائش ہو سکتی ہے؟ زمین پر زندگی کا ظہور ایک اور دلچسپ معمہ ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ سادہ نامیاتی سالمے SIMPLE ORGANIC MOLECULES
زندگی کی تعمیری اکائیاں ہیں اور ان کی تشکیل زمین کے ابتدائی ماحول میں ہوئی۔ لیکن انسانی زندگی اگر محض ان سالموں اور چند خلوی جانداروں سے ارتقا کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے تو پھر اس کی منزل کیا ہے اور جانداروں کا مقصد حیات کیا ہے؟ کیا ہم واقعی اشرف الخلوقات ہیں؟

ایک ایسے ماحول مین جہاں مذہب کے ٹھیکے دار ہر طرف پہرہ دے رہے ہیں ایسے بنیادی سولات بہت کم اٹھائے جاتے ہیں۔ لیکن رفیع مصطفیٰ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے سے نہیں گھبراتے ’میں رفیع مصطفیٰ کو اس بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کی جرات رندانہ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور ان سے ادبی و نظریاتی دوستی پر فخر کرتا ہوں جو آج کے تنگ نظر دور میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔

پرویز ہودبھائی کے دیباچے کے جملے لکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ جب ربع صدی پیشتر دو ہزار ایک میں میری کتاب FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM چھپی تھی تو میں نے بھی کتاب کا مسودہ رفیع مصطفیٰ اور اپنے مشترکہ دوست پرویز ہودبھائی کو بھیجا تھا اور انہوں نے کمال محبت اور اپنائیت سے چند جملے عنایت فرمائے تھے جو میری کتاب کے بیک کور پر آج بھی نوشتہ ہیں فرماتے ہیں

Your book is eminently readable, wonderfully simple, and remarkably persuasive. You set out on a journey from the known to the unknown and take the reader with you from formalistic religion and the myth of a personal God toward universal human values. Congratulations on an excellent book.
………………………

نوٹ : جو دوست میری کتاب FROM ISLAM TO SECULAR HUMANISM پڑھنا چاہتے ہیں وہ مجھے ای میل کر سکتے ہیں اور میں انہیں اس کتاب کی پی ڈی ایف کاپی بطور تحفہ بھیج سکتا ہوں میرا ای میل پتہ ہے

com۔welcome@drsohail

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

2 thoughts on “کیا ایک مذہبی اور لامذہبی انسان کی دوستی ممکن ہے؟

  • 18/03/2025 at 1:42 صبح
    Permalink

    ادبی مینو پاز !

  • 25/03/2025 at 2:25 صبح
    Permalink

    سلام علیکم ، آپ کا ای میل ایڈریس انوالڈ شو کر رہا ہے

Comments are closed.