مولانا کوثر نیازی
ایک اعلیٰ پائے کے سیاست دان، عالم دین، خطیب و مقرر، شاعر، صحافی، ادیب اور دانشور تھے۔ فروری 1934 ء کو میانوالی کے مردم خیز علاقہ موسیٰ خیل میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقے کی پر اثر شخصیات تھیں۔ کوثر نیازی کا پیدائشی نام محمد حیات خاں تھا۔ مدرسہ کی ابتدائی تعلیم کے دوران ہی شعر و شاعری شروع کر دی تو اپنا قلمی نام کوثر نیازی رکھ لیا اور بعد ازاں اسی نام سے شہرت پائی۔
میانوالی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور آ گئے اور اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور صحافی کیا۔ ابتداء میں ہفت روزہ کوثر و تسنیم اور شہاب نام کے جرائد نکالے۔ کچھ ہی عرصے میں ان کی پہچان ایک نامور صحافی کی حیثیت سے ہو گئی۔ شروع میں جماعت اسلامی سے وابستہ ہوئے اور مولانا مودودی سے خصوصی تعلق رہا، بعد ازاں کچھ وجوہات کے باعث جماعت اسلامی سے مستعفی ہو گئے۔ انہی دنوں تاسیس پاکستان پیپلز پارٹی ہو رہی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دی تو رد نہ کر سکے۔ مولانا کوثر نیازی پہلے لاہور میں رہتے تھے، پھر جب وفاقی وزیر مذہبی و اقلیتی امور بنے تو انہوں نے اسلام آباد میں اپنا ایک نیا گھر بنوا لیا۔ بھٹو کے عہد حکومت میں 1973 ء سے 5 جولائی 1977 تک وزیر مذہبی و اقلیتی امور رہے۔ جب ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا تو کوثر نیازی آخری وقت تک بھٹو کے ساتھ رہے۔
بھٹو کی وفات کے بعد بے نظیر بھٹو نے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئرمین بنا دیا۔ اس کے بعد انہوں نے سیاست کی نسبت تحریر و تقریر اور دانشوری کی جانب زیادہ توجہ دی۔
وہ ایک اعلیٰ پائے کے ادیب اور شاعر بھی تھے۔ انہوں نے کم و بیش 30 سے زائد نثر اور شاعری کی کتابیں لکھیں جن میں شاعری کے تین مجموعے اور نثر کی چوبیس پچیس کتابیں شامل ہیں۔ ان کی دو کتابیں، جنہیں میں نے دیکھا، پہلی کتاب ملکی اور غیر ملکی مسلم شخصیات کے تعارف اور کارہائے نمایاں سے متعلقہ ہے۔ اس میں انہوں نے شاہ فیصل اور کئی مشہور مسلم شخصیات کا تذکرہ بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ دوسری کتاب اور لائن کٹ گئی، بھٹو اور ضیاء الحق کے سیاسی اور ہنگامہ خیز مذاکرات کے متعلق ہے۔
مولانا کوثر نیازی قرآن و حدیث اور علم دین سے بھی بہت شغف رکھتے تھے۔ پی ٹی وی پر انہوں نے سورہ فاتحہ کے ترجمہ و تفسیر کے مطالعہ پر کئی دروس دیے جو ان کے اسلامی تبحر علمی کا بہت اعلیٰ نمونہ ہیں۔ مولانا کوثر نیازی ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ پی ٹی وی سے نشر ہونے والے نعتیہ اور دوسرے مشاعروں میں ان کی شرکت لازمی تھی۔ انہوں نے حب نبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم میں غوطہ زن ہو کر کئی نعتیں رسول مقبول ﷺ بھی لکھیں۔
18 مارچ 1994 میں دماغی شریان پھٹنے کے باعث اسلام آباد میں انتقال کر گئے مولانا کوثر نیازی کے چند اشعار،
شب معراج ان کی عظمت کی جھلک دیکھ کر
کب سے جبریل کی خواہش ہے کہ بشر ہو جائے
لے سانس بھی آہستہ یہ دربار نبی ہے
خطرہ ہے بہت سخت یہاں بے ادبی کا
کوثر مجھے اس جرم سے انکار نہیں
شیدا ہوں دل و جان سے میں اولاد علی کا


مولانا کوثر نیازی مرحوم کی قبر اسلام آباد ایچ ایٹ کے قبرستان میں ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں ایک سے بڑھ کر ایک اپنے دور کے نابغہ روزگار نام مدفون ہیں۔ جوش ملیح آبادی ہوں یا قدرت اللہ شہاب۔
مولانا کی قبر مجھے ہمیشہ اپنی طرف اس شعر کی محبت اور عقیدت میں کھینچتی ہے جو انکی لوح مرقد پر کنداں ہے۔
–
کوثر ہے دل میں ایک ہی اعزاز کی ہوس
کہدیں وہ (ﷺ) حشر میں، یہ ہمارا غلام ہے
جی ہاں ،
مولانا کوثر نیازی ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیت تھے۔حب احمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سینے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔رب کریم ان کے درجات بلند کرے۔امین۔اگر ان کی قبر مبارک کی تصویر دکھا دین تو نوازش ہوگی۔
واسلام علیکم