جاپانی روزہ


ایک گھسا پِٹا لطیفہ ہے کہ جاپان میں ایک پاکستانی تجارت کے سلسلے میں مقیم تھا۔ اتفاق سے رمضان وہیں پر شروع ہوا۔ صبح جب مسلمان نے کافی نہیں پی تو ساتھیوں نے استفسار کیا۔ پاکستانی بولا کہ یہ ہمارا مقدس مہینہ ہے جس میں فجر سے مغرب تک کھانے پینے پر پابندی ہوتی ہے۔ جاپانیوں نے لنچ کے وقفے میں روزے کے بارے میں مزید معلومات شیئر کرنے کی خواہش کی۔ ہمارے شیر نے اُنہیں بتایا کہ کس طرح ہم سحری میں کھاتے ہیں اور سورج نکلنے سے پہلے ہی کھانے پینے کی پابندی شروع ہوجاتی ہے۔ اس دوران پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیا جاسکتا۔ اسی مہینے ذکر و اذکار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ شیطان پر پابندی لگ جاتی ہے جو ہمیں بُرائیوں کی طرف بلاتا ہے۔ اسی لئے ہم جھوٹ نہیں بولتے۔ دھوکہ بازی، خیانت، ذخیرہ اندوزی، نا انصافی، حرام خوری وغیرہ سے پرہیز کرتے ہیں۔

ایک جاپانی نے لمبا سانس لے کر کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں۔ صرف ایک ماہ کی پابندی کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک طرف ہم ہیں کہ سارا سال انہی پابندیوں میں گزر جاتا ہے۔

اس ماہِ مقدس میں ہی سہی، کاش ہم بھی معاملات میں بھی ان پابندیوں کی لاج رکھ سکیں۔ لیکن ہم پاکستانی مسلمان تو الگ طریقے ہی سے اس مقدس روزے کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہمارے لئے روزہ ایک بہت بڑا بہانہ بن جاتا ہے۔ کام نہ کرنے کا بہانا، جلدی چھٹی کا بہانہ، ہر وقت غصے میں رہنے کا بہانہ۔ یوں لگتا ہے ہر روزہ دار آگ پر رکھے توے پر بیٹھا ہوا ہے۔ اور پھر خصوصاً ہم پختونوں کو تو بس لڑائی کے کسی اور بہانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ لڑائی بھی ایسی ویسی نہیں۔ اخباروں کی شہ سرخیاں کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں۔

”گاڑی کی پارکنگ پر تنازعہ، تین افراد ہلاک“
”سڑک کے بیچ چارپائی ڈالنے پر پانچ افراد قتل“
”اذان کے اوقات پر گاؤں میں پھڈّا، دس افراد زخمی“
”سحری میں پراٹھا نہ بنانے پر بیوی کا ہاتھ توڑ دیا“
”بچوں کی لڑائی میں بڑوں کا گھمسان کا رن“

اور مسلمان بھی روزہ رکھتے ہوں گے۔ ہم پختونوں کا روزہ بھی پختون ولی کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایک عربی نے یہ حال دیکھ کر کہا کہ اسلام اُترا تو عرب پر تھا لیکن تُم تو اسلام قبول کر کے باؤلے ہو گئے ہو! اور واقعی ہمارے بس میں ہو تو رمضان شروع ہوتے ہی ہم غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ جانورں کا کھانا پینا بھی بند کر دیں۔ ”ان کی یہ مجال کہ میرے روزے میں کھائیں پئیں“ ۔

حدیثِ مبارکہ ہے کہ جس نے منافع خوری کی نیت سے ذخیرہ اندوزی کی، وہ روزِ قیامت شعلوں میں اُٹھے گا۔ اب تو ہمارا معمول بن چکا ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی نہ صرف عام استعمال کی اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں بلکہ ملازمین میں سُستی، کام چوری اور دیر سے آنا اور جلدی جانا معمول بن جاتا ہے۔ اور یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ کارپوریٹ سطح پر بھی اقتصاد کا سارا کام سُست ہو جاتا ہے۔ بینک اب پانچ بجے سہ پہر کی بجائے دو بجے بند ہوتے ہیں۔ دفاتر میں بھی یہی حال ہوتا ہے۔ کہیں کم از کم وقت میں اپنا زیادہ سے زیادہ کام نکلوانے کے چکر میں سائل آپس میں اُلجھ پڑتے ہیں تو کہیں قطار کی پابندی مُکّوں اور لاتوں میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

افطار سے ایک گھنٹہ قبل ٹریفک کی حالت غالب کے بقول ”اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے“ ۔ اب لازم کہ کہ ہر شخص افطار سے پہلے پہلے گھر پہنچ جائے۔ گویا رستے میں افطار کرنا پڑ جائے تو روزے کے ٹوٹنے کا ڈر ہو۔ میں جب ڈبگری گارڈنز میں کام کرتا تھا تو وہاں سے حیات آباد افطاری کے وقت ڈرائیونگ ایک عذاب بن جاتا تھا۔ میں اکثر گاڑی ایک طرف روک کر افطاری کا انتظار کرتا۔ دو کجھور اور دو گھونٹ پانی پی لیا اور پھر سنسان سڑک پر ”گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے“ اور پانچ دس منٹ بعد میں گھر پہنچ جاتا۔

میری خواہش ہے کہ کوئی خطیب جمعہ کے دن روزہ داروں کو بتائے کہ روزے کا مطلب معمول کے کام چھوڑنا نہیں۔ ٹریفک رواں دواں رکھنے کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے نہ کہ چھابڑیوں سے اپنا افطار جمع کرنا۔ دفاتر میں فائل کے پہیے نہیں رکنے چاہئیں۔ سکول و کالج میں اساتذہ کو اپنا لیکچر پورا دینا ہو گا اور طلبہ غیر حاضری کے لئے روزے کا بہانا بند کر دیں۔ روزہ رکھنا ہے تو نر بن۔ بھوکے پیاسے ہو کر بھی اپنا غصہ قابو میں رکھ، مالک کی تنخواہ حلال کر اور بد اخلاقی کو روزے کی نشانی نہ بنائیں۔

Facebook Comments HS