تحریک لبیک کی حکومت کے بعد احمدیوں کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے؟
تحریک لبیک جس نے بغیر حکومت میں آئے پورے ملک پر مکمل طور پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جس کے آگے ریاست پاکستان کے مضبوط ترین ادارے جس میں شامل عدالتیں، سیکورٹی ادارے اور حکومت مکمل طور پر لیٹے ہوئے ہیں۔ پھر اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر تحریک لبیک کے ہاتھ میں ریاست پاکستان میں حکومت کرنے کی چابی ملے گی تو وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں۔
بے شک لبیک حکومت کی اولین اور آخری ترجیح تو یہی ہوگی کے وطن پاک سے احمدیوں کا صفایا کس طرح ممکن بنایا جائے جس کے لیے حکومت بننے کے فوری بعد اسمبلی کا پہلا ہنگامی طور پر اجلاس بلایا جائے گا جس میں تمام لبیکی ارکان اسمبلی کی شمولیت ہوگی، اس اجلاس کا آغاز لبیک یا رسول اللہ کے نعروں سے ہو گا جس کے بعد تمام لبیکی مولوی اپنی عقل و دانش کے حساب سے اپنی تجاویز پیش کریں گے جس سے وطن پاک سے جلد از جلد احمدی برادری کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
ان تجاویز میں ممکنہ طور پر سب سے پہلے یہ بات ہو سکتی ہے کہ ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں میں بورڈز آویزاں کر دیے جائیں جہاں لکھا ہو کہ یہاں قادیانیوں /احمدیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ اس عمل کی بدولت تمام بیمار احمدیوں کا علاج نا ہو سکے اور خاص طور پر احمدی حاملہ خواتین کو شدید نقصان پہنچایا جائے تاکہ مزید احمدیوں کی تعداد کو روکا جا سکے اور اگر غلطی سے احمدی بچے کی پیدائش ہو جائے تو اس کے ختنہ نہیں ہونے دیے جائیں کیونکہ اس عمل پر حق صرف مسلمانوں کا ہی ہے۔
کچھ ممبران کی طرف سے یہ ممکنہ تجویز پیش کی جا سکتی ہے کہ جو احمدی پرسکون انداز میں اپنی روز مرہ کی زندگی گزار رہے ہیں ان کا سکون ختم کر کے ان کی زندگی میں بے سکونی کا ماحول پیدا کیا جائے کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پرسکون زندگی گزارنے کا حق صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے۔ لہٰذا احمدیوں کی زندگی میں بے سکونی پھیلانے کے مختلف طریقے اختیار کیے جائیں۔ جیسا کہ احمدیوں کے گھروں کے باہر چلتے پھرتے گالیاں دی جائیں اور نعرے بازی کی جائے۔ احمدیوں کے بچوں کو سکول میں اساتذہ اور مسلمان بچوں کی مدد سے ان پر نعرے بازی اور بدتمیزی کر کے اتنا زیادہ ذہنی دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اسکول چھوڑ کر تعلیم سے محروم ہو جائیں اور ساری عمر اس ملک میں ڈرے اور سہمے رہ کر ایک زندہ لاش کی طرح اپنی زندگی گزاریں۔ انہیں مذہبی تہوار کی خوشیوں سے بھی دور رکھا جائے جیسا کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر جانوروں کی قربانی سے دور رکھا جائے تاکہ وہ دال روٹی کھا کر اپنی عید گزاریں کیونکہ اسلامی جمہوریہ میں عید کے روز گوشت کھانے کا حق صرف مسلمانوں کا ہی ہے۔ احمدیوں کے عیدالفطر کے موقع پر نئے کپڑے پہننے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ احمدی پھٹے پرانے کپڑے پہن کر اداسی کے ساتھ اس دن کو منائیں کیونکہ عید کے موقع پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صرف اور صرف مسلمانوں کو ہی خوش رہنے کا حق حاصل ہے۔
لہٰذا احمدیوں کو چاہیے کہ جلد از جلد اپنے مستقبل کے لئے بہتر فیصلہ کریں کیونکہ ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مولویوں کے ہر قسم کے اقدامات کے بیچ میں رکاوٹ نہیں بننا بلکہ وقت پڑنے پر مولویوں کا ساتھ بھی دینا ہے اس لیے آئندہ وقتوں میں ایسا بھی ممکن ہے کہ وطن پاک میں احمدیوں کے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دی جائے کیونکہ سانس لینے کا حق بھی صرف اور صرف مسلمانوں کا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔


