انسانی حقوق اور سعودی عرب
آج کی داستاں ہے اس معاشرے کی جو انسانی فطرت کے قوانین اور انسانی روایات کوسوں دور نظر آتا ہے ایک ایسا سماج جہاں زندگی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی اور جہاں خوف کے بادل ہر پل منڈلانے نظر آتے ہیں۔ جی یہ کہانی ہے عرب سماج کی جس کے متعلق نبی آخرالزمان نے اپنے آخری خطبے میں بھی فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت نہیں لیکن اس کے باوجود عرب معاشرے پر کوئی فرق نہیں پڑا اور وہ آج بھی اپنے آپ کو دنیا کے سب معاشروں سے افضل جانتے ہیں اور ایک خاص قسم کے انسانی غرور میں مبتلا ہیں۔
آج کے جدید دور میں بھی ہمیں عرب معاشرے میں جمہوری روایات کے مقابلے میں بادشاہت اور پدر شاہی نظام کی مضبوط جڑیں نظر آتی ہیں حضور کے آخری خطبہ جس میں غلامی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا لیکن بدقسمتی سے آج ایک مرتبہ پھر ہمیں عرب معاشرے میں غلامی عروج پر نظر آتی ہے۔ آج اقوام متحدہ کا عالمی منشور برائے انسانی حقوق کی پامالی ہمیں عرب سماج میں عروج پر نظر آتی ہے۔ نہ ہی لیبر رائٹس کا عملدرآمد نظر آتا ہے۔ عرب کی معیشت کا انحصار تیل کے وافر ذخائر اور Religious Tourism پر ہے۔
اسی وجہ سے پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کی ایک بہت بڑی تعداد لوگوں کی ایک روشن مستقبل کے خواب لیے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن وہاں انسانی حقوق کی پامالی ریاست کی ایما پر کی جاتی ہے جس کی شنوائی بھی کہیں ممکن نہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بالکل غلط نہیں ہو گا کہ مزدوروں اور ہنر مند افراد کا استحصال قانون کے دائرے میں رہ کے کیا جاتا ہے یا اس طرح کہا جائے کہ استحصال کو مکمل طور پر ایک قانونی حیثیت حاصل ہے۔
میرا سعودی عرب کا سفر 4 جولائی سے شروع ہوا اور اس دوران میرا قیام ریاض، جدہ، مکہ اور مدینہ میں رہا۔ اس سفر کے دوران بہت سے تجربات میرے مشاہدے میں رہے اور ان میں سب سے دردناک اور کرب ناک مشاہدہ وہاں موجود پاکستانیوں کی حالت زار تھی اور اگر ان کے جذبات اور تجربات کو اگر ایک شعر کے اندر سمیٹا جائے تو وہ جذبات کا اظہار کچھ اس طرح ہو گا
کون کہتا ہے موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
سمندر میں بھی چین نہ آیا تو کہاں جاؤں گا
میں تو فانی ہوں ہواؤں میں بکھر جاؤں گا
سعودی عرب میں مقیم ایک عام ہنر مند مزدور تین قسم کی استحصالی قوتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے جن میں کفیل، سعودی حکومت اور پاکستان کے ٹریول ایجنٹس شامل ہیں۔ اہل عرب بھی عربی زبان پر عبور کو کسی بھی شخص کے تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کا معیار سمجھتے ہیں۔ سعودی ریاست نے انتہائی سخت قوانین کا نافذ کیے ہوئے ہیں جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہیں۔ اور دوسرا میڈیا کو بھی مکمل طور پر بادشاہت کے تابع کیا ہوا ہے۔ انسانی تاریخ میں دنیا میں ہر جگہ انسانی حقوق کی پامالی دیکھنے کو ملتی ہے لیکن شمالی کوریا کے بعد یہ اعزاز بھی سعودی عرب کو حاصل ہے کہ انہوں نے عوام کے ذہنوں کو مذہب کے بعد بادشاہت اور سرمایہ کے بل بوتے پر خوف کو as a tool استعمال کر کے قائم کیے ہوئے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل ہندوستانی فلم The Goat Lifeبنی جو سعودی حالات اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ اب حالات کا دھارا اس طرف جا رہا ہے جب گیدڑ کی موت آتی ہے وہ شہر کا رخ کرتا ہے عین اسی طرح خشوگی کی موت کے بعد سعودی حکومت کے مختلف جابرانہ اقدامات کے خلاف دنیا کے مختلف حصوں سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں اور قریب مرگ سعودی بادشاہت روشن خیالی کا سہارا لے کے بچت کا سامان پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایم بی ایس کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کی جانب گامزن ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ ہزاروں سال کے غیر جمہوری رویوں اور معاشرے میں ایک جمہوری عمل کا سورج طلوع ہو گا۔
کسی بھی معاشرے کے ماحول میں اس کے موسمیاتی تبدیلیوں کا بہت گہرا اثر ہوتا ہے جیسا کہ سعودی عرب ایک گرم اور سخت موسم کا حامل ملک ہے جس کا اثر وہاں رہنے والوں پر بھی بہت گہرا ہے۔ اہل عرب موسمی حالات کی طرح ان کی ذہنی سطح بھی خشک سالی کا شکار ہے اور دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ جس سماج میں جو چیز وافر ہوگی اس کی قدر بھی اتنی ہی ناپید ہوگی اور اس بات ثبوت یہ ہے کہ عرب میں تیل کا وافر ہونا ہے اور اس کی قدر اتنی ہی کم ہے چھوٹے بچے گاڑیاں اس طرز پہ چلا رہے ہوتے ہیں جیسے ہمارے ہاں بچے کھلونا گاڑیاں چلانے ہیں۔ ایک روز میں نے اپنے فلیٹ کے باہر ایک ایسا ہی کارنامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا جب رہائشی پلازے کی پارکنگ میں کھڑے کچھ افراد جو مشابتا ایشیائی تھے ایک بڑی گاڑی میں 13 سے 14 سال کے لڑکوں نے ان پہ گاڑی چڑھا دی جس سے ایک شخص کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔
میں پہلے دن جیسے ہی ریاض کے ہوائی اڈے سے باہر نکلا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں کیسی دیوہیکل پنجرے میں داخل ہو چکا ہوں عموماً جب انسان کسی عمارت سے باہر نکلتا ہے تو اسے ایک آزاد فضا کا احساس ہوتا ہے لیکن ریاض میں بالکل اس کے برعکس تھا۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ میرے اس سفر کی داستان میں بہت زیادہ منفی پہلو عیاں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف میرے مشاہدات پر مبنی ہے میری آنکھوں دیکھا حال ہے اور آنکھ جو دیکھتی ہے وہی بیان کرتی ہے اور اس تحریر میں کسی قسم کی جانبداری کا شائبہ نہیں ہے یہ صرف حقیقت پر مبنی ایک تحریر ہے۔
سعودی عرب میں ایک ہی مثبت چیز دیکھنے کو نظر آئی وہ یہ تھی کہ انسانی حقوق کی پامالی میں اول درجے پر ہی کیوں نہ ہو لیکن خواتین کے حقوق میں بھی اول درجے پر ہے اور وہ بھی اس ضمن میں آپ کو جہاں بھی مرد وزن اکٹھے نظر آتے ہیں تو آپ کبھی بھی یہ تعین نہیں کر پائیں گے کہ ان میں خاتون خانہ کون ہے اور مرد خانہ آبادی کون سا ہے کیونکہ مرد سفید جگھے میں اور عورت کالے جگھے میں نظر آتی ہے۔
پاکستان واپسی سے پہلے میں نے حجاز کا سفر کیا۔ دوران سفر حجاز میرا دماغ مختلف خیالات کے حصار میں رہا۔ طائف سے گزرتے ہوئے اک ہی خیال ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ وہ کیا سماں ہو گا جب طائف والوں نے پیغمبر پر پتھر برسائے تھے اور جبرائیل کے کہنے پر محمد عربی نے کسی قسم کی انتقامی کارروائی سے انکار کر دیا اور یہ طائف والوں کی خوش قسمتی تھی کہ محمد عربی کی دعا ان کے حق میں قبول ہوئی
الہی فضل کر کہسار طائف کے مکینوں پر
الہی پھول برسا پتھروں والی زمینوں پر
جب مکہ میں داخل ہوا تو اک عجیب سی فضا کا احساس ہوا جس طرح کسی بے وفا لوگوں کے دیس میں داخل ہو گیا ہوں اور مسلسل یہ سوچنے پہ مجبور ہو گیا کہ کیا میں سرزمین مکہ میں قیام بھی کر پاؤں گا یا نہیں کیونکہ مجھ بندہ ناچیز کی کیا حیثیت جس مٹی نے پیغمبروں سے وفا نہ کی تو مجھ جیسے حقیر انسان کی کیا اوقات میں تو رحمت سید لولاک کے قدموں کی خاک کے برابر بھی نہیں۔ پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا مکہ کی سرزمین پہ ایک دن سے زیادہ وقت نہیں گزار پایا اور پھر بلاوا آ گیا اس در سے جو حقیقت ہے اور حقیقت ہی رہے گی جس حقیقت کو پانے کے لیے تمام عمر انسان سجود میں گزار دیتا ہے
حقیقت نظر آئی مدینے میں نظر آئی، سرکار کے در چوکھٹ پہ نظر آئی۔ اور مدینہ کی گلیاں صدائیں لگا رہیں تھیں اگر حضور نہ ہوتے نہ تم ہوتے نہ ہم ہوتے نہ جام جم ہوتا نہ رنج و غم ہوتا نہ نفس و دم ہوتا یقینا کچھ بھی نہ ہوتا۔ جب روضہ رسول پہ نظر پڑی تو اک سوال لب پہ گردش کرنے لگا کہ وہ کیا چیز تھی جس نے معتمد عربی کو مکہ کی تنگ و تاریک گلیوں سے اٹھایا اور آج بھی صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کے مداحوں میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں عاشقان رسول در مصطفٰی پہ دیوانوں کی طرح پڑے ہوئے نظر آتے ہیں وہ کیا سوچ و فکر تھی جس نے پوری دنیا پر راج کیا اور آج بھی راج کر رہی ہے اور آخر در مصطفٰی سے میرے سوالوں کے جواب مل ہی گئے وہ جواب مدینہ کی ریاست تھی، وہ جواب غلامی کے خلاف اعلان جنگ تھا، وہ جواب تھا ظلم جبر اور جہالت کے خلاف جہاد تھا۔
مدینہ سے نکلنے کا من نہیں کر رہا تھا پھر اک صدا سنائی دی جس سے ہمت اور واپسی کا سفر شروع کیا۔
غم سے گھبرا کے قیامت کا طلبگار نہ بن
اتنا مایوس کرم اے دل بیمار نہ بن
خواہش دید ہے تو تاب نظر پیدا کر
ورنہ بہتر ہے یہی طالب دیدار نہ بن
میرے ساقی کی نگاہ مجھ پہ بھی پڑ جائے گی
نا امیدی میری راہ کی دیوار نہ بن
میرا درماں ہے نہ کعبے نہ بت خانے میں
رند ہوں مجھے پڑا رہنے دو میخانے میں
مجھ کو سمجھی ہے نہ سمجھے گی مجازی دنیا
ہے حقیقت ہی حقیقت میرے افسانے میں
ان کے کہنے پہ اسے توڑ دوں کیونکر آخر
علم جن کو نہیں کیا ہے میرے پیمانے میں
میں چاہتا ہوں اک نیا اہتمام ہو
یسین کی شراب ہو طہ کا جام ہو
ٹوٹے سحر دلوں میں آنکھوں میں شام ہو
ہر رند کے لبوں پہ محمد کا نام ہو

