بلوچ اور ریاست
بلوچستان کے عوام اور ریاست پاکستان کے درمیان ہمیشہ سے ایک دوری رہی ہے۔ ہر دور میں دونوں فریق ایک دوسرے سے نالاں رہے ہیں۔ جہاں بلوچ عوام کو ریاست سے شکوے ہیں تو عین اسی طرح ریاست بھی بلوچوں کے کردار پر سوالات اٹھاتی رہی ہے۔ لیکن یہ مسئلہ یا تو مزید خراب ہوا ہے یا پھر کچھ وقت کے لیے سرخیوں سے ہٹ جاتا ہے لیکن اس کے پس پردہ ہونے والے معاملات کی شدت میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوئی ہے۔ یہ خلیج مزید وسعت پکڑ رہی ہے۔ اس دوران دونوں طرف بہت سے کردار سامنے آئے ہیں لیکن کسی قسم کی بہتری نہیں آئی ہے۔
اگر ریاست صرف بلوچ عوام پر ملبہ ڈال دے یا بلوچ عوام صرف ریاست کو ذمہ دار ٹھہرایا کریں تو اس سے بیانات کی حد تک تو کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقی طور پر کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں جبری گمشدگی، ریاست کا کمزور نظم و نسق، سہولیات کا فقدان، دہشت گردی، شدت پسند عناصر کا وجود، سیاسی ڈھانچے کی غیر فعالی کچھ عناصر میں سے ہیں جنہوں نے اس خطے کو عدم استحکام کا گڑھ بنا رکھا ہے۔ جس تسلسل کے ساتھ یہ عدم استحکام رہا ہے یہ بات سوچنا بھی فطری ہے کہ اس عدم استحکام میں کچھ عناصر کا مفاد ہے اور وہ اپنے مفاد کا بہتر دفاع جانتے ہیں۔
کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ اس مسئلے کو تسلیم کیا جائے۔ بلوچستان کے عوام کو اور ریاست کو اس مسئلے کا فریق تسلیم کیے بغیر کسی بھی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگر ریاست کے ایک بڑے حصے میں مسلسل خرابی موجود ہے تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ریاست اس سے بری الذمہ رہے۔ بالکل اسی طرح بلوچستان کے عوام کو بھی یہ تسلیم کرنا ہے ہمیں بھی اپنے رویے میں وہ تبدیلی ضرور لانا ہو گی جو کہ ہمیں امن اور ترقی کی راہ پر لا سکے۔
بدقسمتی سے بلوچستان کے عوام اس طرح کے اذیت ناک حالات سے دو چار رہے ہیں کہ ریاست میں ان کا اعتماد کم ہوتا رہا ہے اور اب بے اعتمادی اپنی آخری حدود کو پہنچ رہی ہے۔ کوئی بھی ریاست اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی ہے۔ اگر عوام ریاست سے بد ظن ہو جائیں تو اس کو کسی بھی طرح سے قابو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بے اعتمادی ایک گھن کی طرح ریاستی رٹ کو کھا رہی ہوتی ہے اور پھر اچانک سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ریاست پاکستان کو ہر وہ کام کرنا چاہیے جو کہ عوام کے اعتماد کو بحال کرے۔
بلوچستان کے عوام کی ریاست پر بے اعتمادی کی بڑی وجہ سیاسی نظم و نسق کا نہ ہونا ہے۔ جب تک عوامی سطح پر ایک بہتر سیاسی ڈھانچہ نہیں ہو گا تو عوام اور ریاست کے درمیان کسی بھی ہم آہنگی کی امید نہیں کی جا سکتی ہے۔ اگر بلوچستان میں ان لوگوں کو سیاست کرنے کی اجازت ہو جن کو وہاں کے عوام چاہتے ہیں جو کہ حقیقی طور پر عوام کے نمائندے ہوں تو ریاست اور عوام میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
جب حقیقی بلوچ سیاسی قائدین سیاست میں ہوں گے تو وہاں کا حکومتی نظام مضبوط ہو گا۔ بلوچستان کی ترقی کے کے لیے لوکل حکومت اور انتظامیہ کا وجود ناگزیر ہے۔ اس حکومت کو فنڈز کا اجراء ہونا چاہیے اور ان فنڈز کا درست استعمال ہونا چاہیے۔ بلوچ عوام کو مضبوط کریں اور ان کو جائز اختیار دیں۔ بلوچ کو ترقی دینے کے علاوہ بلوچستان کی ترقی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر بلوچ عوام محفوظ ہوں گے تو بلوچستان محفوظ ہو گا۔ یہ وہ راستہ ہے جو بلوچ عوام کو اس تاریکی سے نکال کر کسی روشنی اور امید کی راہ پر لا سکتا ہے۔
بلوچستان کے عوام کے جو بھی حقیقت مطالبات ہیں ریاست ان کو تسلیم کرے۔ بنیادی انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کو روکا جائے۔ قانون سے بالاتر ہر سرگرمی کو روکا جائے۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے، جائز اور درست پلیٹ فارم نہیں دیں گے تو عوام مجبور ہو کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں گے اور وہ راستہ عوام اور ریاست دونوں کے لیے زہر قاتل ہو گا۔ اگر ریاست خلا چھوڑے گی تو ریاست مخالف گروہ کو موقع ملے گا اور وہ اس عوامی غم و غصے اور جذبات کو غلط استعمال کریں گے اور ریاست کمزور ہو جائے گی۔ ریاست کبھی بھی عوام سے نہیں لڑ سکتی۔ اس لڑائی میں ریاست اور عوام دونوں ہار جاتے ہیں اور ریاست مخالف عناصر کامیاب ہو جائیں گے۔ ریاست اور عوام کو اس کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔


