یومِ پاکستان


ہم پاکستانی ہر قومی تہوار پر اپنی جذباتیت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ ہم ہر دن کو اس جوش و خروش سے مناتے ہیں کہ اس کی اصل روح کہیں دفن ہو کر رہ جاتی ہے۔

ایک معلم ہونے کے ناتے، میں نے نہ صرف کم وسائل رکھنے والے بچوں بلکہ خوشحال اور تعلیم یافتہ گھرانوں کے بچوں کا بھی بغور مشاہدہ کیا ہے۔ لیکن ایک سوال کا مکمل جواب کبھی نہ پا سکی: ہمارے بچے 23 مارچ، 6 ستمبر، اور 11 ستمبر جیسی تاریخوں کو اہم دنوں کے طور پر یاد رکھتے ہیں، مگر ان کا اصل تجسس صرف اتنا ہوتا ہے کہ آیا ان دنوں اسکول یا کالج بند ہوں گے یا نہیں۔ انہیں ان دنوں کی اصل اہمیت یا ان سے منسلک شخصیات کے بارے میں بہت کم آگاہی ہوتی ہے۔ جب انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ان قومی دنوں کی بنیاد کیا ہے، تو وہ انہیں بامعنی انداز میں کیسے منا سکتے ہیں؟

یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ والدین خود تو تعلیم یافتہ ہیں، مگر وہ اپنے بچوں کو قومی دنوں کی اہمیت کے بارے میں سکھانے کو ضروری نہیں سمجھتے۔ ایک بار میں نے سیکنڈری کلاس کے ان طلبہ سے، جو ایک تقریری مقابلے کی تیاری کر رہے تھے، سوال کیا کہ ہم 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے طور پر کیوں مناتے ہیں؟ ایک طالبعلم نے جھجکتے ہوئے جواب دیا، ”مجھے صحیح علم نہیں، لیکن شاید یہ دن پاکستان کی پہلی کامیاب جنگ کی یاد میں منایا جاتا ہے، اسی لیے اس دن فوجی پریڈ ہوتی ہے۔“ پریڈ کی موجودگی یقیناً اس خیال کو تقویت دے سکتی ہے، لیکن جب طلبہ سیکنڈری کلاس تک پہنچتے ہیں تو وہ پاکستان کی تحریکِ آزادی اور قیامِ پاکستان کے بارے میں کئی مضامین پڑھ چکے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگر انہیں قومی دنوں کی اصل حقیقت کا شعور نہیں، تو یہ ایک تشویش ناک پہلو ہے۔

یہ مسئلہ صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کا بھی آئینہ دار ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم نہ صرف بدعنوانی کو معمول بنا لیا ہے، بلکہ دوسروں کو بھی اس میں ملوث ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں اور اسے اپنی عقل مندی سے جواز بھی فراہم کرتے ہیں۔

ہم وہ افراد بن چکے ہیں جو صرف وہی بات سننا چاہتے ہیں جو ہمارے ذاتی مفاد میں ہو۔ ہم اپنے بچوں میں مادی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔ انہیں سکھاتے ہیں کہ دولت کیسے کمائی جائے اور زندگی میں آگے کیسے بڑھا جائے، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ صحیح اور غلط میں تمیز کیسے کی جائے، عدل اور نا انصافی میں فرق کیسے کیا جائے۔ درحقیقت، ہم خود ہی اخلاقی اور غیر اخلاقی راستوں کے درمیان لکیر مٹا چکے ہیں۔ ہمارے لیے انفرادی کامیابی ہی اصل معیار بن چکی ہے، جبکہ اجتماعی ترقی، قومی مفاد، اور سماجی بھلائی جیسے تصورات ہمارے شعور سے یکسر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔

یہ بے حسی صرف تعلیمی خلا نہیں، بلکہ ایک گہرے معاشرتی، تاریخی، اور نظریاتی تعلق کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم 23 مارچ کو یومِ پاکستان بڑے فخر سے مناتے ہیں، پرچم لہراتے ہیں، تقریبات کرتے ہیں، اور سوشل میڈیا پر حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہیں، مگر ہم شاذ و نادر ہی اس دن کی اصل روح پر غور کرتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب 1940 میں لاہور میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی۔ مگر بدقسمتی سے، آج ہم میں سے بیشتر کے لیے یہ دن محض چھٹی کا بہانہ بن چکا ہے، بجائے اس کے کہ ہم خود سے سوال کریں کہ پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا اور ہم اس وژن پر کہاں تک عمل پیرا ہیں؟

ایک اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ قومی دن زیادہ تر دکھاوے کی نذر ہو چکے ہیں۔ ہر سال ٹی وی چینلز حب الوطنی کے گیت، اشتہارات اور رسمی تقریریں نشر کرتے ہیں، مگر اصل مسائل اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ سچی حب الوطنی محض ایک دن جوش و خروش کے اظہار کا نام نہیں، بلکہ یہ ان اصولوں کو اپنانے کا تقاضا کرتی ہے جن پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی۔ یعنی اتحاد، تنظیم، اور قربانی۔ صرف جھنڈا لہرانے سے کچھ نہیں ہو گا، ہمیں خود سے یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم واقعی ان اصولوں پر عمل پیرا ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا تھا؟ کیا ہم انصاف، برابری اور سماجی ہم آہنگی کو اپنی روزمرہ زندگی میں ترجیح دے رہے ہیں؟

یومِ پاکستان کی اصل روح رسمی تقریبات تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے ہمارے روزمرہ کے اعمال کا حصہ بننا چاہیے۔ اگر ہم واقعی اس دن کی توقیر کرتے ہیں، تو ہمیں ایک مضبوط قوم کی تعمیر کا عہد کرنا ہو گا۔ ایسی قوم جو برداشت، ایمانداری اور محنت کو فروغ دے۔ یہ تبدیلی تبھی ممکن ہے جب ہم اپنے سماج میں مثبت کردار ادا کریں، سماجی بہبود کے کاموں میں حصہ لیں، اور دیانت دار قیادت کو سپورٹ کریں۔ پاکستان ایک دن میں نہیں بنا تھا، اور اس کی ترقی بھی مستقل مزاجی اور قومی شعور کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ہم 23 مارچ کو حقیقی معنوں میں منانا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس کے اصولوں کو صرف ایک دن کے لیے نہیں، بلکہ پوری زندگی کے لیے اپنانا ہو گا۔

اب ضروری ہے کہ ان اہم دنوں کو نہ صرف منایا جائے بلکہ ان کی اصل روح پر بھی کام کیا جائے۔ زندگی کے ہر شعبے کے فرد کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ زندہ قومیں اپنی تاریخ کو مسخ نہیں کرتیں، بلکہ اسے محفوظ کرتی ہیں۔

Facebook Comments HS