حرکت کا سائنسی تصور۔ حصہ ہشتم


1907 میں خصوصی نسبیت کا نظریہ پیش کرنے کے دو سال بعد آئن سٹائن نے نسبیت کے اصول کو عمومی (جنرل ریلیٹوٹی) بنانے کی ٹھانی۔ عمومی نسبیت کی منطقی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ نیوٹن کی میکانیات اور خصوصی نسبیت، صرف ایسے فریمز آف ریفرنس ہی میں کارگر ہیں جو ساکن ہوں یا ایک دوسرے کے لحاظ سے یونیفارم موشن میں ہوں یعنی گلیلین ہوں۔ جبکہ ایسی کوئی منطقی وجہ نہیں ہے کہ فزکس کے قوانین صرف مخصوص فریمز میں ہی کارگر ہوں۔

یہ خامی نیوٹن نے بھی محسوس کی تھی مگر وہ اس کا ازالہ نہیں کر سکا کیونکہ تب تک میکسویل کی فیلڈ تھیوری اور روشنی کی مستقل رفتار کے تجربات نہیں ہو سکے تھے۔ آئن سٹائن کے مطابق ماخ وہ پہلا شخص ہے جس نے اس خامی کو پوری طرح سے محسوس کیا اور میکانیات کے لئے نئی بنیادوں کی بات کی۔ 1883 میں ماخ نے کوشش کہ وہ نیوٹن کے مطلق زمان و مکاں کے کینیمیٹک تصور کو ایک ڈائنامیکل تھیوری میں تبدیل کر سکے۔ ماخ کے مطابق روٹیشن (گھومنا) اور ایکسلریشن (اسراع) ، مطلق نہیں بلکہ نسبی مقداریں ہیں۔

ماخ کے مطابق، نیوٹن کی بالٹی میں پانی گھومنے والی مثال میں پانی کسی مطلق مکان کے لحاظ سے نہیں بلکہ خلا میں موجود دور دراز کے ستاروں کی نسبت حرکت میں ہے۔ ماخ کا اصول کہتا ہے کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ایک طبعی قانون موجود ہے جو دور دراز کے ستاروں کی حرکت کو لوکل انرشیل فریم سے جوڑتا ہے۔ بہرحال، ماخ خود اپنے نظریات کو ایک درست طور پر جانچ پڑتال کے قابل فزیکل تھیوری کی شکل میں بیان کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ آئن سٹائن نے 1913 میں ایک خط میں ماخ کو لکھا کہ عمومی نسبیت کا نظریہ، پرانی میکانیات کے لئے نئی بنیاد فراہم کرتا ہے جو ماخ کے مفروضے کے قریب ترین ہے۔

اس سے پہلے مضامین میں بتایا جا چکا ہے کہ نیوٹن اور کولمب وغیرہ نے میکانیات اور برقیات کو مختلف ذرات کے مابین پائی جانے والی قوتوں (فورسز) کی مدد سے واضح کیا تھا۔ لیکن یہ سوال ہمیشہ موجود تھا کہ دو اجسام کے درمیان قوتوں کا یہ تبادلہ ہوتا کیسے ہے؟ نیوٹن کی میکانیات کے مطابق، ایک جسم میں ہونے والی تبدیلی کا اثر دوسرے اجسام تک فوری طور پر یا آن واحد میں منتقل ہوتا ہے۔ یعنی اگر سورج غائب ہو جائے تو زمین فوراً اپنے مدار سے نکل جائے گی یا کسی ذرے کے برقی بار میں اچانک تبدیلی کریں تو اس سے دور موجود برقی ذرات میں بھی یہ اثر یک دم پہنچے گا۔

لیکن پھر فیراڈے نے بتایا کہ قوت کا اثر ایک جگہ سے دوسری جگہ ’لائنز آف فورس‘ کے ذریعے پہنچتا ہے جنہیں بعد میں فورس فیلڈ کا نام دیا گیا۔ ایک ساکن برقی ذرے کے اردگرد برقی میدان (الیکٹرک فیلڈ) جبکہ ایک متحرک برقی ذرے یا برقی بہاؤ کے گرد مقناطیسی میدان (میگنیٹک فیلڈ) پیدا ہوتا ہے۔ میکسویل نے بتایا کہ روشنی برقناطیسی میدان (الیکٹرو میگنیٹک فیلڈ) ہے۔ روشنی ایک سے دوسری جگہ ایک محدود رفتار میں سفر کرتی ہے۔

خلا میں اس کی رفتار ہر طرف مستقل رہتی ہے جو مائکلسن مورلے کے تجربات میں مشاہدہ کر کے ثابت کیا گیا۔ روشنی کی مستقل محدود رفتار کی وجہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ برقی و مقناطیسی قوتوں کا اثر ایک سے دوسری جگہ فوری طور پر یا آن واحد میں نہیں پہنچتا۔ سورج سے روشنی کو زمین تک آنے میں آٹھ منٹ بیس سیکنڈ کا وقت لگتا ہے۔ اس لیے سورج غائب ہونے کی اطلاع زمین تک آٹھ منٹ بیس سیکنڈ بعد پہنچے گی اور تب تک زمین اپنا مدار نہیں چھوڑے گی۔

ایسے ہی جب ہم کوئی چیز زمین پر گراتے ہیں تو اس کی ایک عام توجیہہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ زمین چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ نیوٹن نے کشش ثقل کی قوت (گریوٹیشنل فورس) کے ذریعے اس کی وضاحت کی۔ میکسویل کی پیروی میں فیلڈ تھیوری کے مطابق زمین کے گرد بھی کشش ثقل کے ایک میدان (گریویٹیشنل فیلڈ) کی مدد سے بھی اس کی توجیہہ کر سکتے ہیں۔ زمین اپنے گرد یہ فیلڈ پیدا کرتی ہے اور چیزیں اس فیلڈ کی زد میں آ کر نیچے گرتی ہیں۔

برقی و مقناطیسی فیلڈ کی طرح، گریویٹیشنل فیلڈ بھی اپنے ماخذ (جیسے زمین) سے براہ راست پیدا ہوتا ہے اور پھر دور جانے پر اس کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ زمین سے ہزاروں میل اوپر اس کی مقدار بہت کم ہوگی۔ لیکن برقی و مقناطیسی میدانوں کے برعکس، گریویٹیشنل فیلڈ کے تحت، خلا میں تمام چیزوں میں ایک جتنا ہی ایکسلریشن پیدا ہوتا ہے چاہے وہ چیزیں کسی بھی مادے سے بنی ہوں یا ان کی طبیعی کیفیت کیسی بھی ہو۔

یہ مشاہدہ گلیلیو کے دور سے چلا آ رہا تھا۔ آپ نے اٹلی میں پیسا کے ٹاور والی کہانی سنی ہوگی، وہ بھی دراصل اسی مشاہدے کے بارے ہے۔ مختلف کمیتوں (ماسز) والے اجسام کو ایک ساتھ نیچے گرنے دیا جائے تو ہوا یا دیگر مخالف قوتوں کی عدم موجودگی میں سب اجسام ایک ہی رفتار سے نیچے گرتے ہیں یعنی سب میں ایک ہی مقدار میں ایکسلریشن پیدا ہوتا ہے۔ کسی جسم کا گریویٹیشنل ماس اور انرشیل ماس برابر ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، کسی جسم کی ایک ہی صفت مختلف حالات میں کبھی وزن کہلاتی ہے کبھی جمود (انرشیا) ۔ اسے بعض اوقات اصول مماثلت (ایکویلنس پرنسپل) بھی کہتے ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے اس اصول کا عمومی نسبیت سے گہرا رشتہ ہے۔

فرض کریں کہ آپ خلا میں ایسی جگہ پر ہیں جہاں دور دور تک کوئی دوسرا جسم موجود نہیں، یعنی ہم اسے ایک گلیلین فریم آف ریفرنس کے طور پر فرض کر سکتے ہیں۔ گلیلین فریم میں چیزیں نیوٹن کے پہلے قانون کی پابندی کرتی ہیں۔ اب یہ فرض کریں کہ اس جگہ ایک کمرہ نما ڈبے میں ایک شخص موجود ہے جس کے پاس مختلف پیمائشی آلات ہیں۔ یہاں زمین یا دوسرے جسم کا گریویٹیشنل فیلڈ موجود نہیں ہے۔ اس ڈبے کو باہر سے رسی باندھ کر اوپر کی طرف ایک مستقل قوت لگائیں۔

اگر آپ ڈبے سے باہر گلیلین فریم میں کھڑے ہیں تو آپ کو ڈبے میں یونیفارم ایکسلریشن پیدا ہوتا نظر آئے گا جسے ڈبے کے اندر فرش پر کھڑا شخص (فرض کریں وہ فرش سے بندھا ہو) اپنے پیروں پر لگنے والی قوت کی شکل میں محسوس کرے گا۔ یہ بالکل ایسا ہی اثر ہو گا جیسا ہم زمین پر کھڑے محسوس کرتے ہیں۔ یعنی کہ زمین کے مرکز کی جانب لگنے والی کشش ثقل کی قوت کے ردعمل میں فرش مسلسل ہم پر اوپر کی جانب ایک قوت لگاتا ہے۔

اگر یہ شخص دو مختلف چیزیں، چابیاں اور کتاب وغیرہ ہاتھ سے چھوڑے تو دونوں چونکہ ڈبے یا اس شخص سے الگ ڈبے میں معلق ہیں اس لیے وہ اپنی جگہ رکی رہیں گی مگر چونکہ ڈبہ اور وہ شخص (فرش پر پاؤں رکھنے کی وجہ سے ) اوپر کی طرف مسلسل ایک قوت کے اثر میں ہے، اس لئے وہ دونوں چیزیں اس شخص کو ایک ساتھ نیچے فرش کی جانب گرتی دکھائی دیں گی۔ ان دو مشاہدات سے ڈبے کے اندر والا شخص یہ نتیجہ نکالے گا کہ وہ (زمین کی سطح جیسے ) ایک مستقل گریویٹیشنل فیلڈ میں ہے اور ڈبہ اپنی جگہ رکا ہوا ہے۔

جبکہ باہر والا شخص کہے گا کہ ڈبے میں ایکسلریشن ہے۔ اس سے یہ توجیہہ کی جا سکتی ہے کہ دو فریمز آف ریفرنس جو ایک دوسرے کے لحاظ سے ایکسلریشن میں ہوں، ان میں بھی قوانین میکانیات ایک جیسے رہتے ہیں، جو کہ نسبیت کا عمومی اصول ہے۔ یاد رہے کہ ہم یہاں عمومی نسبیت کا اصول اس لیے لگا رہے ہیں کیونکہ ڈبے کے اندر شخص نے یہ ’تجربہ‘ کیا ہے کہ تمام چیزیں ایک ہی ایکسلریشن سے گرتی ہیں جہاں سے اس نے یہ استنباط کیا کہ وہ گریویٹیشنل فیلڈ میں ہے جبکہ باہر والا کہے گا کہ وہ ایکسلریشن میں ہے۔ لہذٰا، ایکولینس اصول کی تجرباتی وضاحت، عمومی نسبیت کے اصول سے ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، عمومی نسبیت کی تلاش ہمیں منطقی طور پر گریویٹیشنل فیلڈ کے ایک اہم قانون یعنی ایکویلنس اصول تک لے جاتی ہے۔

عمومی نسبیت کا ایک اور منطقی نتیجہ دیکھیے۔ آپ نے فٹ بال کو ٹھوکر لگا کر اسے ہوا میں اڑتے دیکھا ہو گا۔ زمین پر کھڑے ایک شخص کے لئے فٹ بال کا رستہ سیدھی لکیر میں اوپر جانے کے بجائے ایک خاص شکل یعنی پیرا بولا بناتا ہوا جاتا ہے جس میں یہ کچھ اوپر جانے کے بعد زمین کے ہموار ہوتے ہوئے کچھ فاصلے پر واپس زمین پر گر جاتا ہے کیونکہ گریویٹیشنل فیلڈ اس پر نیچے کی طرف قوت لگاتا ہے۔ یعنی گریویٹیشنل فیلڈ میں، دیگر فورسز کی عدم موجودگی میں، چیزیں ٹیڑھی لکیر پر چلتی ہیں۔

یونہی ایک گلیلین فریم میں کوئی چیز بغیر قوت کے عمل کے سیدھی لکیر میں مستقل رفتار سے چلتی ہے۔ انرشیل فریم میں ایک شاہد کو نظر آنے والی سیدھی لکیر، ایک نان انرشیل فریم والے شاہد کو ٹیڑھی نظر آئے گی۔ نان انرشیل فریم میں لکیر ٹیڑھی اس لیے نظر آتی ہے کیونکہ اس فریم میں ایکسلریشن پیدا ہو رہا ہوتا ہے۔ اب مندرجہ بالا دونوں مثالوں پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ نان انرشیل فریم میں ایکسلریشن کے باعث وہی اثر ہوتا ہے جو گریویٹیشنل فیلڈ میں ہوتا ہے۔ یہی اثر روشنی پر بھی ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی، جو گلیلین فریم میں سیدھی لکیر میں مستقل رفتار سے چلتی نظر آتی ہے، وہ گریویٹیشنل فیلڈ میں ٹیڑھی لکیر پر چلتی نظر آئے گی۔ یاد رہے ٹیڑھی لکیر میں چلنے کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کی رفتار بدل رہی ہے۔

آئن سٹائن کے ناقدین نے اس بنیاد پر یہ دعوے کیے کہ خصوصی نسبیت کے اصول درست نہیں ہیں کیونکہ نان انرشیل فریم میں روشنی کی رفتار مستقل نہیں رہتی اور سیدھی لکیر پر نہیں چلتی۔ حالانکہ یہ ایک مغالطہ ہے۔ ہم زیادہ سے زیادہ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ خصوصی نسبیت کے اصول، عمومی نسبیت کا ایک ذیلی نتیجہ ہیں، یعنی گریویٹیشنل فیلڈ کی عدم موجودگی یا جہاں اس فیلڈ کی مقدار بہت کم ہو جیسا کہ ہماری روزمرہ زندگی میں ہے، وہاں خصوصی نسبیت کے اصول ہی درست ہوتے ہیں۔

بالکل جیسے میکسویل کی برقی حرکیات کی مساواتوں کے آ جانے سے برقی قوت کے اصول غلط نہیں ہو جاتے، بلکہ جہاں برقی قوت کی مقدار وقت میں مستقل رہے وہاں میکسول کی مساواتیں، برقیات ہی کی مساواتوں میں بدل جاتی ہیں۔ ہم نے گزشتہ اقتباسات میں دیکھا کہ کیسے عمومی نسبیت کا اصول منطقی طور پر ہمیں گریویٹیشنل فیلڈ کی کچھ خصوصیات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، عمومی نسبیت کا نظریہ زمان و مکاں کے تصورات میں بھی مزید بہتری لانے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ گریویٹیشنل فیلڈ کے کچھ حقائق کی وضاحت ہو سکے۔ اس کو سمجھنے لئے ایک اور تجربہ کرتے ہیں۔

ایک بار پھر کسی ایک ایسی جگہ کا تصور کریں کہ جس میں انرشیل فریم کی نسبت کوئی گریویٹیشنل فیلڈ موجود نہ ہو۔ چونکہ یہ انرشیل فریم ہے اس لئے یہاں خصوصی نسبیت کے اصول کارگر ہیں۔ اب فرض کریں کہ اسی جگہ آپ ایک ایسی گول ڈسک کے کنارے پر بیٹھے ہیں جو اپنے مرکز کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس ڈسک کا ہر ذرہ مرکز کے گرد گھومتا ہے لیکن مرکز خود ایک جگہ متعین رہتا ہے۔ ایک دوسرا شخص جو اس گھومتی ڈسک سے باہر (انرشیل فریم میں ) کھڑا ہو، وہ کہے گا کہ آپ پر ایک مرکز گریز (سینٹری فیوگل) قوت لگ رہی ہے جو آپ کے جمود کی وجہ سے ہے۔

یہ قوت مرکز پر صفر ہوگی اور باقی جگہوں پر اسکی مقدار مرکز سے فاصلے پر منحصر ہوگی۔ عمومی نسبیت کا اصول استعمال کر کے آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ اپنے فریم یعنی ڈسک کے لحاظ سے ساکن ہیں، جبکہ باہر کھڑا شخص گھوم رہا ہے۔ لہذا گھومتی ڈسک پر بیٹھا شخص خود پر لگنے والی مرکز گریز قوت کو گریویٹیشنل فیلڈ کا اثر قرار دے سکتا ہے۔ یہ گریویٹیشنل فیلڈ، نیوٹن کے نظریہ کشش ثقل سے مختلف ہو گا۔ کیونکہ نیوٹن کے نظریے میں گریویٹیشنل فیلڈ ہر مقام پر مستقل رہتا ہے (سطح زمین پر یونیفارم فیلڈ ہے ) لیکن ہماری اس مثال میں مرکز پر فیلڈ کی مقدار صفر ہے اور باقی جگہوں پر فیلڈ کی مقدار مرکز سے فاصلے پر منحصر ہے (یہ نان یونیفارم فیلڈ ہے ) ۔

اسی طرح اب دیکھتے ہیں کہ عمومی نسبیت میں زمان و مکاں کی پیمائش بھی نسبی ہوتی ہے۔ اس گھومتی ڈسک کے باہر کھڑا شخص (جو انرشیل فریم میں ہے ) خصوصی نسبیت کو استعمال میں لا کر کہے گا کہ گھومتی ڈسک کے مرکز اور اس کے کنارے پر رکھی دو ایک جیسی گھڑیاں ایک جیسا وقت نہیں بتائیں گی کیونکہ مرکز پر رکھی گھڑی حالت سکون میں ہے جبکہ کنارے پر رکھی گھڑی گھوم رہی ہے۔ لیکن ڈسک کے فریم میں بیٹھے شخص کے لئے چونکہ دونوں گھڑیاں حالت سکون میں ہیں اس لئے ایک جیسا وقت بتائیں گی۔

اس سے معلوم ہوا کہ گریویٹیشنل فیلڈ میں گھڑیوں کی رفتار اس فیلڈ میں اس کے مقام (پوزیشن) پر منحصر ہے۔ لہذا، ایسی صورتحال میں وقت کی درست تعریف کرنا ممکن نہیں ہے۔ ایسا ہی کچھ مکان کی پیمائش کے بارے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ڈسک کے محیط پر کچھ بے لچک پیمانے رکھ کر محیط کی پیمائش کی جائے تو ڈسک سے باہر انرشیل فریم میں کھڑا شخص خصوصی نسبیت کے باعث دیکھے گا کہ حرکت کی سمت میں لمبائیاں سکڑ جائیں گی، یعنی ڈسک کے محیط کی سمت پیمانہ کی لمبائی کم جبکہ رداس کی جانب مستقل ہوگی (کیونکہ رداس کی جانب حرکت نہیں ہو رہی) ۔

اس شخص کے لئے ڈسک کے محیط اور رداس کی لمبائیوں میں فرق کی وجہ سے دونوں کی کسری قیمت ایک پائی کے برابر نہیں بلکہ کچھ زیادہ آئے گی۔ لیکن جو شخص گھومتی ڈسک پر بیٹھا ہے اور لہذا اس کے اپنے فریم میں ڈسک کا محیط اور رداس حالت سکون میں ہیں تو اس کے لئے پیمانہ کی لمبائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ ان کی کسری قیمت نکالے گا تو وہ عین ایک پائی کے برابر ہی نکلے گی۔ یعنی دو مختلف حالتوں میں شاہدین کے لئے دائرے کی خصوصیات مختلف ہیں جو کہ اقلیدسی علم ہندسہ (جیومیٹری) کے ایک مسلمہ کی نفی ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ گھومتی ڈسک پر یا گریویٹیشنل فیلڈ (یا کم از کم نان یونیفارم فیلڈ) میں اقلیدسی علم ہندسہ کے مسلمات درست نہیں رہتے۔ مندرجہ بالا تجربے سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ زمان و مکاں کے وہ تصورات جو اقلیدسی علم ہندسہ سے متعین ہوتے ہیں، وہ عمومی نسبیت میں درست نہیں رہتے۔ اس سے قبل کہ اس مسئلے کا حل پیش کیا جائے، ہمیں اقلیدس و غیر اقلیدسی علم ہندسہ کا فرق جان لینا چاہیے۔ (جاری ہے )