اے جوانانِ عجم


پوٹھوہار کی ریکارڈڈ تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو نوآبادیاتی آقاؤں کو اپنے عسکری مقاصد کی خاطر اس خطے پہ بُری نظرِ (اور قدم) رکھنے کی وجہ یہی نظر آئے گی کہ یہاں کے باشندے تحرک پسند تھے / ہیں

تبھی ولائتی سرکار نے بصرہ، فلانڈر، برما اور رنگون کے فرنگی محاذوں پہ پوٹھوہاری دیسی گندم اور گھی سے پلے نوجوان سپاہئیوں کو ”لام“ کی بھینٹ چڑھایا۔ اُن کی ہری فصلیں، بوڑھے والدین اور جوان بیوائیں دھاتی تمغوں اور انگریزی سیلوٹوں کی نذر ہو گئے۔ برادر عزیز محمود اعوان نے پنجابی فوجیوں کے اس تحرک کی اہم وجہ علاقے کے کاشتکار اور نچلے طبقے میں عُسرت اور غربت قرار دیا۔ فوجی بھرتی کے ساتھ جڑی سرکاری عنایات اور زمینوں اور مربعوں کے انعامات بھی شامل ہیں مگر ساتھ ہی لوک رہتل میں انسانی تاریخ کے غمزدہ باب بھی محفوظ ہیں۔ پرائی جنگ کی خاطر وسیع پیمانے پہ برپا کی گئی انسانی مہاجرت اور دو جنگوں میں سالٹ رینج اور پوٹھوہار کے جوانوں کی ہزاروں اموات پہ مقامی نوحے اور ہجر کے سنیہڑے بھی تاریخ کا حصہ ہیں

؀کھب کھس گئے کاواں دے
بس کرجرمنا بچے کُس گئے ماواں دے

؀بُوٹا پکیا امبیاں دا
ٹر گیا لام تے چناں ڈاڈھا راج فرنگیاں دا

؀نیندر اکھیاں دی سُک گئی اے
گڈی تیری چن ڈھولا جا بصرے رُک گئی اے

تاریخ کے طالب علموں کے لئے Death march towards Mesopotamia کا مطالعہ بہت ضروری ہے!

یہاں اس تاریخ کو بیان کرنے کا مقصد سالٹ رینج کے باشندوں کا میلانِ سفر اور حرکت طبع ہے جسے دنیا سے بلاواسطہ نبُرد آزمائی کا خصوصی جوہر بھی کہا جا سکتا ہے

صدیوں سے پنجاب ہر مذہب، نسل اور زبان کی یلغاروں کے نشانے پہ رہا لہذا اس کے باسی بھی کئی سو سال سے ایک گلوبل کمیونٹی کے طور پر پنپتے رہے

عمومی طور پہ یہاں کے دراز قامت باسی ذہن کے سادہ ارادے کے پکے اور نئی منزلوں کی کھوج کے دلدادہ ہیں۔
ایک جگہ سے دوسری، تیسری اور پھر ان گنت مسافرت و ہجرت پہ آمادہ! وجہ کوئی بھی رہی ہو!

اس ریجن میں مائیگریشن کی اوسط شرح ہمیشہ بلند رہی۔ اس علاقے میں بسنے والوں کا مزاج کاسمو پولیٹن ہے۔ اب اگر اس اصطلاح کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ پوٹھوہار کے مکیں مائیگریشن کے ذریعے جدید دور سے معاشی معانقے میں مصروف رہے اور یوں جدید علوم و ہنر تک بھی نسبتاً سہل رفتار اور سُرعت سے پہنچے۔

یہی جوانانِ عجم اس باب میں مذکور ہیں جنہوں نے مسافرت میں ہنر آزمائی کی

قیامِ پاکستان کے بعد دو نسلوں میں ریٹائرڈ ائر مارشل ملک نور خان، ملک فتح خان، جنرل حق نواز، افتخار حیدر ملک، شوکت علی شاہ، شہباز ملک، آفتاب اکبر ملک اور تنویر ملک جیسی مثالیں خطے کے ماتھے کا جھومر ہیں

پچھلے شذرے میں ملک نجف کا ذکر ہوا طبیعت کے نجیب، لاوہ کی چٹیل مگر زرخیز زیتُونی مٹی کی مانند مصمم اور اپنے اجداد سے ورثے میں ملی گھڑسواری اور ولولہ انگیز تشخص کے مالک اور بقول ہمارے مربی و مشفق ملک فتح خان، ”ایک ازلی کامی ( Workaholic)“

قدرت کا کرشمہ دیکھئیے کہ آفات ناگہانی سے نپٹنے کے لئے جن غیر مروجہ خصوصیات مردانہ و خسروانہ کی تنبیہ بزرگان دین و دنیا سے روایت ہیں۔ موصوف ان سے مالا مال ہیں!

سیلاب کے دوران بے گھروں اور بے کسوں کی تکلیفوں سے براہ راست نپٹنے کے تجربے نے ملک نجف میں سوزِ اندروں اور اندوہ کی آگہی اور توکل بھر دیا! نہ صرف ملک کے اندر دشت و صحرا ناپتے ہیں بلکہ رد آفات کے تعاقب میں بیرون ملک کی خاک چھان آتے ہیں۔ آج کل جاپان میں اربن فلڈ منیجمنٹ کی گتھیاں سلجھا رہے ہیں۔

فطرت سے محبت چونکہ وراثت کا حصہ رہی تبھی انہی کے برادر بزرگ مردِ کوہستانی ملک احمد خان نے شہر سے دور فطرت کے قُرب میں رہنے کا فیصلہ کیا اور نہ صرف ماحولیات کی بہتری کا بیڑا اٹھایا بلکہ اس ضمن میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق مقامی اسکولوں کے ٹیکنالوجی بیسڈ نصاب پہ بحث کا آغاز بھی کیا۔

ملک احمد خان بزنس کا قدرتی ملکہ رکھتے ہیں اور زرعی منصوبہ سازی کو جدید تکنیکی بنیادوں پہ فروغ دینے کے رسیا ہیں۔

کہتے ہیں جن کے پاؤں میں بھنور ہو اور دل کشادہ ہو انہیں فالوورز کی کمی نہیں۔ یہی شوقِ مسافرت انہیں زیتون اور سٹرس کی کاشت کے فروغ پہ اکساتا جنگل میں لے گیا اور وہ شہر کی آسانیاں تج کر جنگل کے ہو گئے /

یہ سارا قصہ ہم سب کے پیارے ڈاکٹر جاوید ملک کی بے پایاں تخلیقی اثر پذیری اور مثبت شخصی توانائی کے ذکر کے بنا ادھورا ہے۔

حضرت شاہ بلاول قلندر کی بستی سے باتھ سپا یونیورسٹی تک سفر و حضر میں علم سیکھتے اور سکھاتے ڈاکٹر جاوید مردِ تعلم و کلام ہیں، طبعا سراپا ہنر و نیاز ہیں!

دوستی کے وفور سے مالا مال، مدرس والد سے تدریس کا ذوق اور تحرک ورثے میں ملا۔ پنجاب کے اسکولوں میں تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں اساتذہ کے ردعمل اور ان کے دوررس امپیکٹ سے سفر شروع کیا جو عالمی ترقیاتی اداروں کی خطیر امداد سے ممکن ہوا تھا۔ اب تک ایک تربیت یافتہ پالیسی ساز کے طور پہ عوامی حکمت عملی برائے تعلیم اور سماجی بہتری کے لئے مخلصانہ جدوجہد کی۔

ملالہ فنڈ اور ڈیموکریسی انٹرنیشنل کے ملکی نگران ہوئے۔ وزیراعظم تعلیمی کمیشن کے نامزد رُکن اور پراجیکٹ گلوبل ایجوکیشن کے سربراہ ہیں۔

ان جملہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ایک وسیع المطالعہ لکھاری، اور یار باش نفیس میزبان ہیں۔

توجہ دیں تو جاوید ملک گُفتار اور رفتار دونوں میں یکساں رواں اور شادماں رہتے ہیں۔ موضوعات اور راستوں کا تنوع البتہ شرط ہے!

تلہ گنگ لٹریچر فیسٹیول کے بانی ممبر جنہیں بُخل اور حسد چھُو کر نہیں گُزرا۔ کاسمو پولیٹن مرد مسلمان!
پوٹھوہار/ سالٹ رینج رہتل کی یہ چند مثالیں اس خطے کی سماجی حرکیات کی عکاسی کرتی ہیں
اقبال کا یہ شعر پڑھیں تو گویا اس تحریر کا مقصد اور متن سمجھ میں آتا ہے
؀
چوں چراغ لالہ سوزم در خیابانِ شما
اے جوانان عجم، جانِ من و جانِ شما

Facebook Comments HS