بارڈر تھنکنگ اور سبالٹرن نالج: نان ویسٹرن علمی و فکری نظریہ


زیر نظر مضمون بنیادی طور پر میرے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (IBA) کے مرکزی آڈیٹوریم میں دیے گئے ایک لیکچر کی تحریری شکل ہے۔

بارڈر تھنکنگ (Border Thinking) ایک ایسا علمی و فکری نظریہ ہے جسے ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے ماہر بین الاقوامی تعلقات، سیاسیات، علم علامات، ادبی نظریات و تعلیمات، ڈائریکٹر سینٹر فار گلوبل اسٹڈیز اینڈ ہیومینیٹیز، ڈیوک یونیورسٹی کیرولینا، امریکہ کے پروفیسر والٹر ڈی مگنولو نے اپنی کتاب ”Local Histories، Global Design: Coloniality، Subaltern Knowledge and Border Thinking پیش کیا ہے۔ یہ ایک اہم ترین کتاب ہے جو پوسٹ کالونیل تھیوری، نوآبادیاتی تاریخ، سبالٹرن اسٹڈیز، مقامی تاریخ اور عالمی سیاست میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے اہم ہے۔ اگرچہ کتاب نظریاتی طور پر ذرا پیچیدہ اور مشکل ہے لیکن یہ ہمیں عالمی علمیاتی نظام (Epistemology) کو نئے سرے سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔ مذکورہ کتاب بنیادی طور پر چار موضوعات کے گرد گھومتی ہیں۔

بارڈرتھنکنگ :Border Thinking
سبالٹرن نالج :Subaltern Knowledge
کالونیلٹی :Coloniality
مقامی تاریخ: Local History
تا ہم زیر نظر تحریر میں بارڈر تھنکنگ اور سبالٹرن نالج پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔

بارڈر تھنکنگ دنیا کو سمجھنے کا ایک ڈی کالونیل نقطہ نظر ہے جو طاقت کے ڈھانچوں کے ”بارڈرز“ پر رہنے والے افراد کے نقطہ نظر اور تجربات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ غالب بیانیوں کو چیلنج کرتا ہے اور علم کے متبادل طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔

بارڈر تھنکنگ ایک ایسا فکری طریقہ ہے جو علم پر یورپی کالونیل اثرات اور یورپی علمی تسلط کو چیلنج کرتا ہے اور ویسٹرن علم کے مقابلے میں نان ویسٹرن علم، ثقافت اور تاریخ کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بارڈر تھنکنگ کا تصور کالونیل ازم کے اثرات اور علم کے مغربی/ یورپی غلبے کے خلاف ایک ردعمل کے طور پر ابھرا ہے۔

بارڈر تھنکنگ میں دنیا کے نان ویسٹرن خطوں، حصوں کی تاریخ، علم اور ثقافت کو اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ مغربی نوآبادیاتی نظام اور سامراجیت نے اپنے مفادات کے تحت دنیا کے بیشتر حصوں کی ثقافتوں، تاریخ اور علم کو مسترد یا نظرانداز کیا ہے اس لیے بارڈر تھنکنگ اس غالب یورو سینٹرک علمی نظام کے خلاف ایک مزاحمت کرتی ہے۔ بارڈر تھنکنگ نہ صرف علم کی مغربی یورپی مرکزیت کے خلاف مختلف ثقافتوں اور Epistemology کی موجودگی کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اس تصور میں نان ویسٹرن ورلڈ /گلوبل ساؤتھ/کالونائزڈ ممالک کی علمی، فکری اور فلسفیانہ روایتوں کو بھی اہمیت دیتا ہے اور نان ویسٹرن دانش کو مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بارڈر تھنکنگ کا تصور ویسٹرن Epistemology پر شدید تنقید کرتا ہے کیونکہ مغربی علمی نظام/ یورو سینٹر ازم نے نان ویسٹرن علم کو ہمیشہ کم تر سمجھا ہے اور نان ویسٹرن فکری تشکیلات اور ساخت کو ہمیشہ اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بارڈر تھنکنگ یورو سینٹرک بیانیے کو چیلنج کرتی ہے اور نان ویسٹرن علم کو قابلِ تسلیم اور معتبر قرار دیتی ہے۔ نو آبادیات کے اثرات دنیا کی مختلف ثقافتوں پر پڑے اور ان ثقافتوں کو مغربی معیار کے مطابق پرکھا گیا اس لیے بارڈر تھنکنگ ایک ایسی فکری مزاحمت کے طور پر سامنے آئی ہے جو ان اثرات کے خاتمے کی کوشش کرتی ہے۔ Colonial Matrix of Power کے نظریے میں مگنولو بتاتے ہیں کہ کالونیل ازم صرف جغرافیائی تسلط نہیں بلکہ علمیاتی تسلط (Epistemic Hegemony) کا بھی نتیجہ تھی۔

کیونکہ مغربی طاقتوں نے اپنے نظریات کو دنیا کے دیگر حصوں پر مسلط کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں کے مقامی علم اور دانش کو مسترد کر دیا تھا۔

بارڈر تھنکنگ بنیادی طور پر سبالٹرن نالج کی حمایت کرتی ہے جو کہ عام طور پر یورو سینٹرک علمی نظام میں جگہ نہیں پاتا۔ سبالٹرن کی اصطلاح سب سے پہلے اٹلی کے مارکسسٹ فلسفی اور نظریہ داں انتونیو گرامچی نے 1930 میں وضع کی تھی۔ گرامچی نے اس اصطلاح کو اپنی مشہور زمانہ کتاب (Prison Notebooks) میں استعمال کیا تھا۔ گرامچی کے مطابق سبالٹرن ان گروپوں یا طبقات کو کہا جاتا ہے جو سماجی، معاشی، یا سیاسی طور پر غالب قوتوں کے زیرِ اثر ہوتے ہیں اور ان کی آوازیں اکثر سماجی یا سیاسی سطح پر نظرانداز کی جاتی ہیں۔

سبالٹرن کی اصطلاح گرامچی کے نظریات میں مذہبی، نسلی، اور طبقاتی سطحوں پر طاقت کی تقسیم کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ جس میں مخصوص گروہ یا طبقات سماجی یا سیاسی میدان میں اپنے مفادات اور حقوق کو مناسب طریقے سے پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ گرامچی نے سبالٹرن کی اصطلاح کو اس ثقافتی تسلط کی شناخت کرنے کے لیے پیش کیا جو مخصوص افراد اور سماجی گروپوں کو سماجی اداروں سے خارج کر دیتی ہے تاکہ ان کی آوازوں کو نوآبادیاتی سیاست میں رد کیا جا سکے۔

گرامچی کی فکر سے متاثر ہو کر بنگال سے تعلق رکھنے والے انڈین تاریخ دان رنجیت گوہا (Ranjit Guha) نے 1970 کی دہائی میں انگلینڈ میں سبالٹرن اسٹڈیز گروپ کی بنیاد رکھی۔ جس کا مقصد کالونائزڈ برٹش انڈیا کی تاریخ میں پسماندہ گروپوں کی آوازوں کو مرکزی حیثیت دینا تھا۔ انہوں نے سبالٹرن گروپس جیسے کسانوں اور مزدوروں کی تاریخ کا روایتی تاریخ سے الگ طور پر تجزیہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ گوہا کا ماننا تھا کہ تاریخ کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں مغلوب گروپوں کی آوازوں کو تسلیم کیا جائے۔

1988 میں کلکتہ، بنگال (انڈیا) سے تعلق رکھنے والی معروف ادبی نظریہ دان، فیمنسٹ نقاد، پوسٹ کالونیل اسکالر اور یونیورسٹی آف کولمبیا، امریکہ کی پروفیسر گائتری چکرورتی سپیوک
(Gayatri Chakravorty Spivak)
نے گرامچی کی اس اصطلاح کو پوسٹ کالونیل تھیوری کے طور پر اپنے مشہور زمانہ مضمون
Can the Subaltern Speak?
میں اپنایا اور استعمار زدہ افراد اور گروپوں کی نمائندگی کے لیے اس کا استعمال کیا۔ سپیوک کا شمار عالمی سطح پر پوسٹ کالونیل تھیوری اور فیمینسٹ اسٹڈیز کی اہم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔

پوسٹ کالونیل اسٹڈیز میں ”سبالٹرن“ وہ کالونیل انسان ہے جو ایک امپیریل کالونی میں سیاسی، سماجی، معاشی اور جغرافیائی طور پر طاقت کی درجہ بندی کے لحاظ سے *خارج شدہ* ہوتا ہے۔

سبالٹرن نالج عوامی، مقامی یا مارجنلائزڈ گروپوں سے آتا ہے اور اس میں ان کی تاریخ، تجربات اور فکری روایتوں کو بھرپور اہمیت دی جاتی ہے۔

مگنولو کا تصور سبالٹرنائزیشن (Subalternization) اس نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے بے نقاب کرتا ہے جس کے ذریعے مغربی طاقتیں اپنے علم اور ثقافت کو عالمی سطح پر مسلط کر کے نان ویسٹرن، نوآبادیاتی یا پسماندہ کمیونٹیز کو سماجی اور علمیاتی طور پر کمتر اور غیر معتبر بنا دیتی ہیں۔ مگنولو اس عمل کو محض ایک سماجی یا سیاسی واقعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے جان بوجھ کر کی جانے والی ایک علمیاتی سازش سمجھتے ہیں جو غالب مغربی علمیاتی نظام کے ذریعے ان محکوم گروپوں کے علم، ثقافت، تاریخ اور تجربات کو سلب کرتا ہے ان کو مسخ کرتا ہے اور ان کی حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے۔

سبالٹرنائزیشن میں بنیادی طور پر یہ عمل شامل ہے کہ سبالٹرن کے علم کو غیر مستند قرار دے دیا جاتا ہے اور اسے مرکزی علم کے دھارے سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ یہ مغربی علم کو عالمی سطح پر مسلط کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کا مقصد نہ صرف ان کمیونٹیز کو علم کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے رکھنے سے روکنا ہے بلکہ یہ ان کی خود مختاری اور فکری آزادی کو بھی کچل دینا ہے۔ مغربی طاقتیں جان بوجھ کر ان مقامی علموں اور تجربات کو مسترد کرتی ہیں تاکہ اپنے غلبے کو مستحکم رکھا جا سکے اور ان کے تسلط کو مزید دوام ملے۔

مگنولو نے اس عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ایک گہری نوآبادیاتی چالاکی قرار دیا ہے جو آج بھی جدید دنیا میں زندہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مغربی علم کے غلبے کو چیلنج کرنا صرف ایک فکری ضرورت نہیں بلکہ ایک ضرورتِ حیات بھی ہے۔ وہ ڈی کولونیل تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا مقصد سبالٹرن نالج سسٹم کو تسلیم کرنا اور ان کی قدر کرنا ہے تاکہ ایک ایسا علمیاتی نظام تشکیل دیا جا سکے جو حقیقی معنوں میں متنوع، جامع اور غیر متعصب ہو۔

مگنولو کا سبالٹرنائزیشن کے بارے میں تصور دراصل ایک بے نقاب کرنے والا آلہ ہے جس کے ذریعے ہم ان طاقت کے ڈھانچوں کو سمجھ سکتے ہیں اور ختم کر سکتے ہیں جو مغربی سامراجی علم کے ذریعے نان ویسٹرن اور مقامی علم کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ ایک طاقتور اور جارحانہ تنقید ہے جس میں نہ صرف نوآبادیاتی ماضی کی موجودگی کو چیلنج کیا جا رہا ہے بلکہ اس کے تسلسل کو بھی بے نقاب کیا جا رہا ہے جو آج کے عالمی علمیاتی ڈھانچے میں موجود ہے۔

مگنولو کے مطابق گلوبل ساؤتھ کے پاس ایک متبادل علمی نظام ہے جو مغربی فکری دائرہ سے باہر ہے۔

بارڈر تھنکنگ مغربی مرکزیت کو چیلنج کرتی ہے اور دنیا کے مختلف حصوں کے علم کو برابری کی بنیاد پر اہمیت دیتی ہے۔

بارڈر تھنکنگ مغربی تصورات کی عالمگیریت کو تسلیم نہیں کرتی اور مختلف علوم کے مابین مساوات کی حمایت کرتی ہے۔

بارڈر تھنکنگ مختلف ایشیائی، افریقی، لاطینی امریکی ثقافتوں، زبانوں اور روایتوں کے علم کا احترام کرتی ہے۔

یہ یورپی تہذیب کے معیار سے باہر کی دنیا کی فکری حقیقتوں کو تسلیم کرتی ہے۔

بارڈر تھنکنگ مختلف علوم خاص طور پر سوشل سائنسز کے مطالعے کے حوالے سے ایک نیا فکری ماڈل فراہم کرتی ہے جس سے دنیا کی مختلف ثقافتوں اور سماجوں کے متبادل خیالات کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہیں۔

عام طور پر یورپی زبانوں کے علاوہ عربی، فارسی، افریقی اور دیگر غیر یورپی زبانوں میں پیدا ہونے والے علم کو بارڈر تھنکنگ تسلیم کرتی ہے جنہیں یورپی علمیاتی فریم ورک میں نظرانداز کیا جا چکا ہے۔ جیسے نائجیریا کے چینوا اچیبے (Chinua Achebe) ، کینیا کے نگوگی وا تھیونگو (Ngugi wa Thiong ’o) ، کولمبیا کے گیبرئیل گارسیا مارکیز، انڈیا کے ہومی بھابھا، فلسطین کے ایڈورڈ سعید ، اور پاکستان کی سارہ سلہری نے مغربی کالونیلزم اور اس کے ثقافتی اثرات کو چیلنج کیا اور اپنی مقامی ثقافتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ جیسے پوسٹ کالونیل ( غیر یورپی) مصنفین نے یورپین کالونیلزم اور اس کے ثقافتی اثرات کو چیلنج کیا اور اپنی مقامی ثقافتوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

ان مصنفین کے ادب میں بارڈر تھنکنگ کا عنصر پایا جاتا ہے جو مغربی بیانیوں کے خلاف ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بارڈر تھنکنگ ایک فکری انقلاب کی نمائندگی کرتی ہے جو مغربی طاقتوں کے نظریاتی غلبے کو چیلنج کرتی ہے اور عالمی سطح پر فکری مساوات کا مطالبہ کرتی ہے۔

بارڈر تھنکنگ کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں کے علم کو مرکزی دھارے میں لایا جا سکتا ہے۔

بارڈر تھنکنگ ہمیں بتاتی ہے کہ ایک ایسی فکری دنیا کی تشکیل کی جا سکتی ہے جو یورپی مغربی علمی و فکری تسلط سے آزاد ہو جہاں مختلف ثقافتوں، تہذیبوں اور مختلف علمی و فکری نظاموں کا احترام کیا جا سکے۔ بارڈر تھنکنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم اور طاقت کی تشکیل ہمیشہ یک طرفہ نہیں ہوتی۔ اس کے ذریعے نہ صرف نان ویسٹرن قوموں کو اپنے ثقافتی اور فکری ورثے کی اہمیت کا پتا چلتا ہے بلکہ یہ بھی کہ کس طرح ان روایات کو موجودہ عالمی مسائل میں فعال طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بارڈر تھنکنگ عالمی سطح پر ایک مساوی علمی ماحول کی ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے جس میں مختلف قومیں اپنی فکری آزادی کے ساتھ اپنی آواز بلند کر سکیں۔

یہ فکری انقلاب عالمی سسٹمز کو چیلنج کرتا ہے اور موجودہ سماجی، معاشی اور ثقافتی ساختوں کے خلاف ایک نیا فریم ورک پیش کرتا ہے جو کہ ایک زیادہ جامع، شفاف اور متنوع عالمی سماج کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

Facebook Comments HS