برصغیر پاک و ہند میں ہفتہ روزہ اور ماہوار صحافت کا ارتقا اور ترجمان القرآن
متحدہ ہندوستان میں ہفتہ وار اور ماہانہ میگزین صحافت کا آغاز 19 ویں صدی کے اوائل سے شروع ہوا جو سیاسی بیداری، ادبی ترقی، اور سماجی اصلاحات کی ضروریات پر مبنی تھا۔ اس زمانے میں پرنٹ میڈیا نے انگریزی، اردو، بنگالی اور ہندی زبانوں میں ہفتہ وار اور ماہوار اشاعتوں کے ذریعے رائے عامہ کی تشکیل اور قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ متحدہ ہندوستان کے ابتدائی میگزینوں میں سے ایک معروف رسالے کا آغاز جیمز آگسٹس ہیکی نے 1780 میں دی بنگال گزٹ کے نام سے کیا۔
19 ویں صدی کے وسط میں دی انڈین مرر، دی ہندو پیٹریاٹ، دی امریتا بازار پتریکا کے علاوہ سر سید احمد خان کی ادارت میں تہذیب الاخلاق اور علی گڑھ گزٹ جیسی اشاعتیں سامنے آئیں جو برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف ہندوستانی حقوق کی وکالت کرتی تھیں۔ 20 ویں صدی میں ماہنامہ اور ہفتہ وار میگزین صحافت نہ صرف کافی عروج پر نظر آتی ہے بلکہ ان رسائل و جرائد نے مسلم حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ برطانوی سامراج سے برصغیر پاک و ہند کی آزادی کے لیے ذہن سازی اور فضاء ساز گار بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے جن میں مولانا ابوالکلام آزاد کا الہلال، مولانا محمد علی جوہر کا انگریزی زبان میں کلکتہ سے شائع ہونے والا کامریڈ اور اردو جریدہ ہمدرد، مولانا ظفر علی خان کا زمیندار خصوصی اہمیت رکھتے ہیں جنہوں نے قبل ازیں تحریک خلافت اور بعد ازاں تحریک پاکستان میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے گراں قدر صحافتی خدمات انجام دیں۔
اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ماہنامہ ترجمان القرآن ہے جس کا شمار پاکستان کے سب سے با اثر، کثیر الاشاعت اور پرانے اسلامی رسالوں میں ہوتا ہے، جس کا اجراء معروف اسلامی اسکالر اور مفکر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے 1932 میں حیدرآباد دکن سے کیا تھا۔ ترجمان القرآن کے اجراء سے پہلے سید مودودی نہ صرف اپنی عمر کے ابتدائی دنوں میں ہفت روزہ تاج اور جمعیت العلماء ہند کے ترجمان رسالے الجمیعہ کی ادارت سے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز کرچکے تھے بلکہ الجہاد فی الاسلام جیسی شہرہ آفاق تصنیف کے ذریعے اپنا وجود متحدہ ہندوستان کے علمی اور ادبی حلقوں میں بھی منوا چکے تھے۔
لاہور سے شائع ہونے والے اس رسالے نے مذہبی گفتگو کی تشکیل، اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے اور عصری مسائل کو اسلامی نقطہ نظر سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس تاریخ ساز رسالے کے ذریعے سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے 40 کی دہائی میں اس تحریک کا آغاز کیا جو آج اسلام کے احیاء اور بیداری کی لہر کی عالمی تحریک کا روپ دھار چکی ہے۔
واضح رہے کہ ترجمان القرآن کئی دہائیوں کے دوران اسلامی صحافت کا سنگ بنیاد بنا رہا جو جدید دور میں اسلامی اصولوں کے اطلاق کے بارے میں قابل قدر بصیرت پیش کرتا ہے۔ ترجمان القرآن کا ہر شمارہ متنوع موضوعات کا احاطہ کرتا ہے جس میں قرآنی آیات کا گہرائی سے تجزیہ اور تفسیر، نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال پر بحث، اسلامی فقہ کی روشنی میں عصری قانونی مسائل کا شریعت کی روشنی میں جائزہ، سماجی و سیاسی تبصرہ کے عنوان کے تحت موجودہ عالمی اور قومی معاملات پر اسلامی نقطہ نظر، اسلامی اخلاقیات کی روشنی میں اسلامی تعلیمات کے مطابق ذاتی ترقی اور کردار سازی کے بارے میں مشورہ، اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ اور مسلم اسکالرز کے تعاون کو تلاش کرنے والے مضامین کو شامل اشاعت کیا جاتا ہے ۔
ترجمان القرآن نے جنوبی ایشیا حتیٰ کہ ساری دنیا میں اردو خواں طبقے کی اسلامی فکر کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔ اس نے فکری مباحث، اسلامی احیاء اور سیاسی گفتگو کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا ہے، اس کا ایک منفرد اور خاص طرہ امتیاز عامتہ المسلمین میں مولانا مودودی کے اسلامی ریاست کے وژن کی تفہیم اور ترویج کو فروغ دینا ہے۔ یہ رسالہ علماء، طلباء اور عام قارئین کی نسلوں کو اسلامی اصولوں اور عصری معاشرے میں ان کے عملی اطلاق کے بارے میں آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
ترجمان القرآن کی اشاعت کا سلسلہ 93 سال سے جاری ہے، برصغیر پاک و ہند کی صحافتی تاریخ میں شاید ہی کوئی رسالہ اتنے تواتر اور طویل عرصے سے شائع ہوتا رہا ہو گا۔ ترجمان القرآن کی ایک اور خاص بات اس کا پرنٹنگ کے شعبے میں وقت کے ساتھ ہونے والی جدت کا ساتھ دینا ہے جس پر اس نے کبھی بھی کوئی کمپرومائز نہیں کیا ہے۔ اب جب سے صحافت میں ڈیجیٹل میڈیا کا انقلاب آیا ہے تب سے ترجمان القرآن نے اس جدید صحافتی تبدیلی کا بھی کشادہ دلی سے خیرمقدم کرتے ہوئے پرنٹ کے ساتھ ساتھ اپنی ڈیجیٹل اشاعت کا آغاز کیا ہے۔
اس نے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی رسائی کو بڑھایا ہے، جس سے علم کے اس کے وسیع ذخیرے کو عالمی سامعین تک رسائی حاصل ہوئی ہے۔ اسکالرز، طلباء اور متنوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے قارئین اس کے مواد سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ترجمان القرآن فکری اور مذہبی روشن خیالی کے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اسلامی اداروں، یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کے ساتھ بھی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
مستقبل کے چیلنجز سے عہدہ براء ہونے کے لیے ترجمان القرآن نوجوان نسلوں تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا، ای پبلیکیشنز اور آن لائن مباحثوں کا فائدہ اٹھا کر اپنی ڈیجیٹل موجودگی کو مزید فروغ دے رہا ہے۔ بدلتی ہوئی دنیا میں مستند اسلامی اسکالرشپ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے ساتھ یہ تاریخی رسالہ مستقبل کے اسکالرز اور اسلامی فکر پر عمل کرنے والوں کے لیے ایک رہنما قوت کے طور پر کام کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ ابھرتے ہوئے عالمی چیلنجوں، اخلاقی مخمصوں اور سماجی و سیاسی تبدیلیوں کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے حل کرتے ہوئے، یہ فکری اور روحانی ترقی کے لیے ایک اہم وسیلہ بننے کی راہ پر کامیابی سے گامزن ہے۔
حرف آخر یہ کہ ماہنامہ ترجمان القرآن اسلامی اسکالرشپ اور فکری گفتگو کی پائیدار مطابقت کا ثبوت ہے۔ مذہبی تفہیم، اخلاقی اقدار اور سماجی و سیاسی تناظر کی تشکیل میں اس کا کردار آج بھی نمایاں تر ہے۔ ترجمان القرآن نے ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مستقبل کی نسلوں کے لیے روشن خیالی اور رہنمائی کی اپنی میراث کو مولانا مودودی کی رحلت کے بعد 80 کی دہائی میں مولانا نعیم صدیقی، 90 کی دہائی میں معروف اسلامی سکالر خرم جاہ مراد اور پچھلی دو دہائیوں سے ممتاز ماہر تعلیم اور اقتصادیات پروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد کی زیر ادارت ٹھیک اسی انداز اور ڈگر پر برقرار رکھا ہوا ہے جس کی بنیاد آج سے 93 سال قبل متحدہ ہندوستان کے اس وقت کے حالات کے تناظر میں رکھی گئی تھی۔
امید ہے کہ یہ عظیم رسالہ جس طرح 20 ویں صدی عیسوی کے دوران دنیا بھر کے مسلمانوں کی بالعموم اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی علمی، فکری اور روحانی پیاس بجھانے میں پیش پیش رہا ہے یہ اپنے اس عظیم مشن اور سفر کو اس ( 21 ویں ) صدی میں بھی اسی جوش و جذبے اور پیشہ ورانہ معیار اور مہارت سے جاری رکھے گا۔


