سندھ کی تاریخ و کھانے۔ ایک جامع جائزہ


سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور یہ خطہ ہمیشہ تہذیب، ثقافت، تجارت اور علم و دانش کا مرکز رہا ہے۔ دریائے سندھ کی زرخیز وادی میں بسنے والی قدیم تہذیبوں سے لے کر جدید پاکستان تک، سندھ کی تاریخ کئی ادوار پر مشتمل ہے۔

1۔ قدیم سندھ اور وادی سندھ کی تہذیب ( 3300۔ 1300 قبل مسیح) : سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک، وادی سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کا گہوارہ تھا۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسے تاریخی مقامات اسی دور کی یادگاریں ہیں، جہاں جدید طرز کے شہر، نکاسی آب کا نظام اور منظم سوسائٹی موجود تھی۔ لوگ زراعت، تجارت، دستکاری اور شہروں کی منصوبہ بندی میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ تہذیب اچانک زوال کا شکار ہو گئی، جس کی وجوہات ماحولیاتی تبدیلیاں اور آریائی اقوام کا حملہ سمجھی جاتی ہیں۔

2۔ آریائی دور اور ہندو مت ( 1500۔ 500 قبل مسیح)

آریاؤں نے سندھ میں داخل ہو کر یہاں کی ثقافت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس دور میں ویدک مذہب (ہندو مت کی ابتدائی شکل) اور سنسکرت زبان پروان چڑھی۔ سندھ کا ذکر قدیم رگ وید میں ”سندھو“ کے نام سے موجود ہے۔ زرعی اور معاشرتی نظام مزید ترقی یافتہ ہوا۔

3۔ فارسی، یونانی اور موریہ سلطنت ( 500 قبل مسیح۔ 300 عیسوی) : 519 قبل مسیح میں ایرانی حکمران دارا اول (Darius I) نے سندھ کو فتح کر کے ہخامنشی سلطنت کا حصہ بنایا۔ 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے سندھ پر حملہ کیا اور یہاں کئی شہر بسائے

سکندر کے جانے کے بعد موریہ سلطنت (چندر گپت موریہ) نے سندھ پر قبضہ کر لیا۔ موریہ دور میں بدھ مت کا فروغ ہوا اور سندھ ایک بڑا تعلیمی و تجارتی مرکز بنا۔

4۔ ساسانی، کشان اور رائے راجپوت دور ( 300۔ 711 عیسوی) : اس دور میں بدھ مت اور ہندو مت دونوں سندھ میں رائج رہے۔ سندھ تجارتی راستوں کا اہم مرکز تھا اور یہاں سے ریشم، مصالحے اور دیگر اشیاء یورپ اور چین تک جاتی تھیں۔ راجہ داہر سندھ کا آخری ہندو بادشاہ تھا، جسے 711 عیسوی میں مسلمانوں نے شکست دی۔

5۔ اسلامی فتح اور عرب دور ( 711۔ 1000 عیسوی)

711 عیسوی میں محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا اور اموی خلافت کا حصہ بنا دیا۔ سندھ کو ”باب الاسلام“ (اسلام کا دروازہ) کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ برصغیر میں اسلام کے داخل ہونے کا پہلا دروازہ بنا۔ اس دور میں سندھ میں عربی زبان، اسلامی ثقافت اور تعلیم کو فروغ ملا۔ مسلم حکمرانوں نے زراعت، تجارت اور علم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

6۔ مقامی مسلم حکمران اور مغل دور ( 1000۔ 1700 عیسوی) : 10 ویں صدی میں غزنوی، غوری اور بعد میں خلجی اور تغلق سلطنتوں نے سندھ پر حکومت کی۔

1526 میں مغلوں نے سندھ پر قبضہ کیا اور اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ مغل دور میں سندھ ایک بڑا علمی و ثقافتی مرکز بن گیا، جہاں فارسی، اردو اور سندھی زبانوں کو فروغ ملا۔

7۔ کلہوڑا اور تالپور دور ( 1700۔ 1843 عیسوی)

مغل سلطنت کے زوال کے بعد کلہوڑا خاندان نے سندھ پر حکومت کی اور حیدرآباد کو دارالحکومت بنایا۔ 1783 میں تالپور خاندان نے اقتدار سنبھالا، جو بلوچ نژاد حکمران تھے۔ تالپور حکمرانوں نے سندھ میں کئی قلعے، مساجد اور تجارتی مراکز قائم کیے۔

8۔ برطانوی راج ( 1843۔ 1947 عیسوی)

1843 میں برطانوی جنرل چارلس نیپئر نے سندھ پر قبضہ کر لیا اور اسے برطانوی ہندوستان کا حصہ بنا دیا۔ انگریزوں نے سندھ میں جدید تعلیمی ادارے، ریلوے، نہری نظام اور بندرگاہیں بنائیں۔ سندھی زبان کا رسم الخط (عربی طرز کا ) اسی دور میں طے پایا۔

1947 میں سندھ پاکستان کا حصہ بنا۔

9۔ پاکستان کا قیام اور جدید سندھ ( 1947۔ موجودہ دور) : 14 اگست 1947 کو سندھ پاکستان کا حصہ بنا اور کراچی کو پہلے دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ بھارت سے لاکھوں مہاجرین سندھ آئے اور یہاں کی ثقافت میں ایک نئی جہت شامل ہوئی۔ سندھ نے پاکستان کی سیاست، تجارت، معیشت اور ثقافت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ جیسے شہر ملک کے بڑے صنعتی اور تجارتی مراکز بن گئے۔ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے اور یہ ہمیشہ تہذیب و تمدن، تجارت، ثقافت اور علمی ترقی کا مرکز رہا ہے۔ موہنجو داڑو کی وادی سندھ تہذیب سے لے کر، اسلامی فتوحات، مغلیہ عہد، برطانوی دور اور پھر پاکستان کے قیام تک، سندھ ہمیشہ ایک اہم خطہ رہا ہے۔

سندھ کی ثقافت کی طرح یہاں کے کھانے بھی قدیم، متنوع اور ذائقے سے بھرپور ہیں۔ سندھی کھانوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے اور اس پر سندھ کی قدیم تہذیب، عربی، مغلیہ اور وسطی ایشیائی اثرات نمایاں ہیں۔ یہاں کے کھانوں میں مسالے، گوشت، دالیں اور چاول کا خاص استعمال ہوتا ہے۔

مشہور سندھی کھانے اور ان کی تاریخ
1۔ سندھی بریانی

یہ سندھ کا سب سے مشہور کھانا ہے، جو اپنی تیز مسالے دار ترکیب، آلو اور خوشبو دار چاولوں کی وجہ سے الگ پہچان رکھتی ہے۔ اس کی جڑیں مغلیہ دور میں پائی جاتی ہیں، مگر سندھی لوگوں نے اسے مزید چٹپٹا اور منفرد بنا دیا۔

2۔ ساگ اور مکئی کی روٹی

یہ سندھی دیہات کا قدیم اور روایتی کھانا ہے، جو زیادہ تر سردیوں میں کھایا جاتا ہے۔ سرسوں کے ساگ کو مصالحوں کے ساتھ پکایا جاتا ہے اور مکئی کی روٹی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کھانے ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی تہذیب سے بھی جڑے ہوئے سمجھے جاتے ہیں۔

3۔ سویاں اور شیر خرما

یہ سندھی میٹھے پکوان ہیں، جو خاص طور پر عید اور دیگر تہواروں پر بنائے جاتے ہیں۔ ان کا آغاز مغلیہ دور میں ہوا اور یہ پورے برصغیر میں مقبول ہو گئے۔

4۔ سندھی کڑھی

یہ ایک خاص سبزیوں اور دہی سے بنی ہوئی مزیدار ڈش ہے، جو چاول کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ یہ کھانا ہلکا اور ہاضمے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ قدیم ہندوستانی اور آریائی دور سے جڑی ہوئی ہے۔

5۔ مچھلی (تلی ہوئی یا سالن میں )

سندھ کی دریائی اور ساحلی ثقافت کی وجہ سے یہاں مچھلی بہت پسند کی جاتی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے بسنے والے لوگ زیادہ تر مچھلی کو تل کر یا سالن میں پکا کر کھاتے ہیں۔

6۔ پلاء (سندھی پلاؤ)

یہ سندھی کھانوں میں بریانی کے بعد سب سے زیادہ مقبول چاولوں کی ڈش ہے، جو عام طور پر گوشت، چنے اور مسالوں کے ساتھ تیار کی جاتی ہے۔

7۔ کھٹائی گوشت

یہ ایک منفرد سندھی ڈش ہے، جس میں گوشت کو خاص قسم کی کھٹی چٹنی یا املی کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ یہ کھٹا اور چٹپٹا کھانا سندھ کی دیسی ترکیبوں کا بہترین نمونہ ہے۔

8۔ دال پکوان

یہ سندھی ناشتے کا ایک خاص پکوان ہے، جو مسالے دار چنے کی دال کو خستہ پوری یا پکوان کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ یہ ڈش سندھ میں ہندو اور مسلم دونوں برادریوں میں یکساں مقبول ہے۔

9۔ بھجیاں (فرائی سبزیاں )

یہ سندھ کے دیہات میں بہت مقبول ہیں، جن میں بیگن، آلو، توری، بھنڈی وغیرہ کو مسالے لگا کر تیل میں فرائی کیا جاتا ہے۔

10۔ لسی یا لاسی اور تھادل
لاسی: دہی اور دودھ سے بنا یہ ٹھنڈا مشروب گرمیوں میں سندھ بھر میں عام ہے۔

تھادل: بادام، الائچی اور گلاب کے عرق سے بنا یہ سندھی روایتی مشروب ہے، جو خاص طور پر گرمیوں میں پیا جاتا ہے۔

سندھی کھانوں کی تاریخی اہمیت

سندھی کھانے ہزاروں سال پرانی ثقافت کا حصہ ہیں، جن میں قدیم سندھ، عربی، مغلیہ اور وسطی ایشیائی اثرات نظر آتے ہیں۔ دریائے سندھ کے آس پاس بسنے والے لوگ زیادہ تر مچھلی، چاول، دال اور سبزیوں کو اپنی خوراک کا حصہ بناتے آئے ہیں۔

 

Facebook Comments HS