افضل اسٹوڈیو والے افضل ملک سے ایک بات چیت
ریڈیو پاکستان لاہور میرا دوسرا گھر ہے۔ یہاں گیٹ کے سیکورٹی اہلکار، استقبالیہ اسٹاف، پروگرامز منیجر سلیم بزمی، میوزک پروڈیوسر استاد ثروت علی خان، لائبریری کی عظمیٰ صاحبہ، کرکٹ کمنٹیٹر راجہ اسد علی خان اور دیگر شعبوں کے ذمہ دار سب ہی بہت پیارے اور میٹھے لوگ ہیں۔ کچھ عرصہ اُدھر ایک موقع پر راجہ اسد علی خاں صاحب نے مجھے اپنے دوست، مشہورِ زمانہ افضل اسٹوڈیو کے افضل ملک کا ذکر کچھ اس انداز سے کیا کہ مجھے ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا اور میں ایم ایم عالم روڈ پر واقع افضل اسٹوڈیو پہنچ گیا۔ افضل ملک عروسی تصویریں اور ویڈیو بنانے کے ماہر ہیں اور لاہور میں بڑا نام ہے۔ ان کا اسٹوڈیو خود ایک شاہکار ہے۔ اِن کی شروعات اداکار سنتوش کمار، درپن اور ہدایتکار ایس سلیمان صاحبان کے چھوٹے بھائی منصور صاحب نے کرائی۔ اِس خاندان نے اِن کے شوق کو پروان چڑھایا۔ افضل ملک کی گفتگو پیش ہے۔
” اپنی شروعات کے بارے میں بتائیں؟“
” انٹرو یو میں مجھے جھجک محسوس ہو رہی ہے لیکن یہ میری عزت افزائی بھی ہے۔ مجھے اس میدان میں لانے والے منصور صاحب تھے جن کا تعلق فلم انڈسٹری سے تھا۔ انہوں نے ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی بنائی اور شادی بیاہ کی عکاسی اور ویڈیوگرافی کا کام شروع کیا۔ اس کے لئے کیمرہ مین درکار تھے۔ انہوں نے مجھے وائرمین کی حیثیت سے رکھا۔ کچھ عرصہ بعد مجھے کیمرہ دیا اور یوں 41 سال پہلے 1984 میں میرا آغاز ہوا۔ اس وقت اسٹین گن نما ویڈیو کیمرہ ہوتا تھا جس کا ریکارڈر بہت وزنی تھا۔ وہ دن اور آج کا دن میں یہی کام کر رہا ہوں“ ۔
” فلمی اداکاروں کے پڑوس میں رہتے ہوئے آپ نے اداکار بننے کا سوچا؟“
” نہیں! “ افضل نے مسکراتے ہوئے کہنا شروع کیا، یہ لوگ خوش قسمتی سے ہمارے گھر کے قریب ہی تھے۔ سنتوش صاحب کا گھر تو ماشاء اللہ محل نما تھا جب کہ ہم لوگ ایک چھوٹی سی آبادی میں رہتے تھے۔ اِن فلمی ستاروں کو دیکھ کر دل تو مائل ہوتا تھا لیکن اس حد تک نہیں کہ فلموں میں کام کروں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سنتوش صاحب اور ان کے گھر والوں کی فلمیں دیکھ کر فخر محسوس ہوتا کہ یہ ہمارے پڑوسی ہیں ”۔
” فلم اسٹوڈیوز میں آنا جانا کیسے شروع ہو؟“
” میں فلم اسٹوڈیوز میں صبیحہ بیگم کے ساتھ جا تا تھا جنہیں ہم چھوٹی بیگم صاحب کہتے تھے۔ بڑی بیگم صاحب جمیلہ تھیں۔ اِن دونوں بیگمات نے مجھ سے بہت شفقت رکھی۔ اگر یہ نہ ہوتیں تو ہو سکتا ہے کہ میں یہاں نہ ہوتا۔ جب چھوٹی بیگم صاحب کے حالات ٹھیک نہ رہے تو ان کو ایک مددگار کی ضرورت ہوئی تب میں اُن کے ساتھ بحیثیت ایک مددگار اسٹوڈیوز جا تا تھا۔ میں ویسے بھی ان کے بچوں کی طرح ہی تھا۔ مجھے فلم اسٹوڈیوز سے کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ بہت اکتاہٹ محسوس ہوتی کہ ایک شاٹ پر اتنا زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں شادیوں والا کام اچھا لگا کہ دلہنیں خود ہی تیار ہو کر آ جاتی ہیں! پہلے تو میں خود شوٹنگ کرتا تھا لیکن اب میری ٹیم کے لڑکے کرتے ہیں“ ۔
” کیا یہ کام آپ نے سیکھا؟“
” میں نے یہ کام کہیں سے نہیں سیکھا نہ فوٹو اور ویڈیوگرافی کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ یہ کام تجربے سے سیکھا۔ پہلے سب کام میں اکیلا کرتا تھا اب اللہ کے فضل سے ایک پوری ٹیم کے ساتھ ہم اس کام کو منظم طریقے سے کرتے ہیں۔ میرے بچے بھی باہر سے پڑھ کر آئے ہیں۔ ایک میرے ساتھ ہے۔ جب اور بھی آ جائیں گے تو انشاء اللہ یہ کام مزید بہتر ہو جائے گا“ ۔
”ہمارے معاشرے میں عموماً شوبز کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ کیا خود آپ کی شادی میں کوئی رکاوٹ ہوئی؟“
”اب زمانہ کافی بدل چکا ہے۔ بہت سی یونیورسٹیاں یہ پڑھا رہی ہیں۔ پہلے یہی تھا کہ جو کچھ نہیں کر سکتا وہ ویڈیو کا کام کر لے۔ میں اب بھی سیکھ رہا ہوں اور اپنے کام سے مطمئن نہیں۔ اب بھی میں اُتنی ہی محنت کرتا ہوں جتنی اُس وقت کرتا تھا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اگر اپنے میدان میں تعلیم حاصل کرتا تو مزید آگے جا سکتا تھا“ ۔
”شادی بیاہ کی یادگار تصویریں ’پراپس‘ کے ساتھ نکھرتی ہیں جیسے پرانے زمانے کا فرنیچر، ریڈیو، پردے وغیرہ تو یہ کرنے کا خیال کس کا تھا؟“
”مجھے فوٹوگرافی کے لئے اچھے پس منظر کی اہمیت پہلے ہی معلوم تھی۔ کیوں کہ چھوٹی بیگم صاحب (صبیحہ بیگم) کے ساتھ فلم اسٹوڈیوز جاتا تو غور کرتا کہ یہ سیٹ کیسے بنائے یا پینٹ کیے۔ رنگ کر کے حویلی کیسے بناتے تھے۔ وہ مشاہدات میرے کام آئے۔ اب میں اسٹوڈیو اپنی مرضی سے ڈیزائن کر لیتا ہوں۔ اسٹوڈیو کی ہر ایک چیز میں نے خود ڈیزائن کی ہے جو ہر سال تبدیل کر دیتا ہوں۔ میں نے اپنی بہنوں اور چھوٹے بھائی کی شادی کی تصویریں اسی اسٹوڈیو میں بنائیں۔ یہ بھی میرا اعزاز ہے کہ میں نے اُن بچوں کی شادیوں کی تصویریں بنائیں جن کے والدین کی شادی کی تصاویر بھی میں نے بنائی تھیں“ ۔
”مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے کہ بچے خود ہمارے پاس آتے ہیں۔ ان کے والدین تو یہاں آ کر یا بعد میں کہتے ہیں کہ افضل نے تو ہماری شادی کی تصویریں بھی بنائی تھیں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ میں آج کی نوجوان نسل میں بھی اپنے کام کی وجہ سے مقبول ہوں“ ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مقبولیت ایک دن میں حاصل نہیں ہوتی۔ افضل نے یقیناً یہ نام محنت سے کمایا گیا ہو گا۔ میں نے گوگل پر صرف اسٹوڈیو افضل لکھا تو لوکیشن اور نقشہ سامنے آ گیا۔ آس پاس کے اہلِ علاقہ اِن سے اچھی طرح واقف ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ”دلہنوں کے اپنے گھر ماشاء اللہ خوب ہوتے ہیں لیکن وہ پھر بھی میرے اسٹوڈیو میں آتی ہیں۔ اگر ہم نے حویلی دکھانی ہے تو اسٹوڈیو کا ایک کونہ قدیم حویلی کا ہے اور ایک جدید طرز کا۔ جس طرح لوگ، گورنر ہاؤس، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ میں بیرونی عکس بندی کرواتے ہیں اس طرح ہم نے بھی کچھ بیک گراؤنڈ بنائے ہیں۔ ہم آنے والے جوڑوں کو راہنمائی اور آگہی دیتے ہیں کہ جیسے کپڑے یا جس رنگ کے عروسی ملبوسات ہیں وہ فلاں پس منظر یا جگہ پر اُن کی تصویریں اچھی آئیں گی“ ۔
”ہمارا کام شادیوں پر ویڈیو بنانا بھی ہے۔ ہم ویڈیو گرافی کے ساتھ ’سنیماٹِک ویڈیو‘ بھی بناتے ہیں۔ اس لئے یہاں ویڈیو کے سیٹ لگتے ہیں پھر ہائی لائٹس بنتی ہیں جس کا ہم ایک گانا بھی بنا کر دیتے ہیں۔ اس کا آج کل رجحان ہے“ ۔
”پتا نہیں کیوں ذہن میں ہے کہ افضل منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے جنہوں نے کبھی کوئی مشکل نہیں دیکھی“ ۔
”دوسرے کاموں کی طرح اِس کام میں بھی کوئی مختصر راستہ نہیں شروع میں ہم لوگ بڑی جدوجہد کرتے تھے۔ وہ ون مین شو تھا۔ خود بھاری کیمرہ، ریکارڈر کے ساتھ کاندھے پر لئے اکیلے بھاگ بھاگ کر پوری شادی کی ویڈیو بنانا۔ پھر رات کو واپس آ کر ایڈیٹ کر کے وقتِ مقررہ پر دینا۔ یہ تمام کام اکیلا میں ہی کرتا تھا۔ اب تو کافی آسانیاں ہیں“ ۔
”ایک چکرانے والا سوال کرتا ہوں۔ 80 کی دہائی کے شروع میں آپ کو مسلسل بھاری ویڈیو کیمرے اُٹھانے پڑے جس سے کاندھے بھی دُکھتے، کیا اس لئے آپ نے جِم جانا شروع کیا؟ آپ کا تو قد اور ماشاء اللہ جسم بالکل ماڈل کی طرح سے متناسب ہے۔ کیا اس سب کے پیچھے وہی بھاری کیمرے تو نہیں؟“ ۔
”شاہد صاحب بہت دلچسپ سوال ہے جی ہاں بالکل ایسے ہی ہے۔ مسلسل بھاری کیمرہ اٹھانے سے میرا پورا جسم فِٹ ہو گیا۔ میرے جم کے شوق کا سہرہ پڑوسی ملک کے اداکار سلمان خان کو جاتا ہے“ ۔
”ذرائع کے مطابق آپ اور اداکار شان ایک ہی جم میں ایک ہی وقت میں جاتے ہیں“ ۔
”جی ہاں یہ صحیح ہے۔ شان اور میں کئی سالوں سے ایک ہی جِم میں ورزش کرتے ہیں۔ روز ہی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔ اس کے ہاں چار رحمتیں ہیں۔ اب تو ماشاء اللہ بہشت سمیت چاروں بیٹیاں بھی ہمارے ساتھ ورزش کرتی ہیں۔ ہم تو شادی سے پہلے سے اسی جم میں ورزش کر رہے ہیں“ ۔
”اس جم میں جاتے ہوئے کتنے سال ہو گئے؟“
”باقاعدہ ایک ہی جِم جاتے ہوئے اندازہً 25 سال ہو گئے“ ۔
”اب تو جم مالکان کی اگلی نسل نے انتظامات سنبھال لئے ہوں گے“ ۔
” اب تو شادی کی ویڈیو ریکارڈنگ کا کام بہت ترقی پا گیا ہے۔ آپ کو کیسا لگتا ہے؟“
”مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ اب پورے پاکستان میں شادی بیاہ کی فوٹو اور ویڈیوگرافی ایک انڈسٹری بن گئی ہے۔ جتنے لوگ یہ کام کر رہے ہیں اُن میں کہیں نہ کہیں میرے پاس سے تیار ہوئے لڑکے ملیں گے“ ۔
افضل صاحب کے والد اور دادا مسلم ٹاؤن لاہور کے شروع سے رہائشی ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت ان کے دادا پلمبنگ کے ماہر تھے۔ وہ پانی کے پمپوں اور موٹروں کو ٹھیک کرنے کے ماہر تھے۔ اس زمانے میں کوئی کوئی ہی پمپوں کا کام کرتا تھا۔ 1947 میں یہ ایک نئی ایجاد تھی جو عام ہنرمندوں کا کام نہیں تھا۔ آج بھی ایسے کئی لوگ موجود ہیں جنہوں نے افضل کے دادا کو دیکھا ہوا ہے۔ گویا اس میدان میں یہ فنکار لوگ تھے۔ افضل کے والد ملک انور صاحب ایک ایسی شخصیت تھے جن کا اپنا ایک انداز تھا۔ اُن کی راجہ اسد علی خان صاحب کے والد سے بے تکلفی تھی۔ ملک انور صاحب کا گلے میں پلمبنگ کے اوزار کا بیگ ڈالنے کا ایک اسٹائل تھا۔ مسلم ٹاؤن کے تمام نامور خاندان جیسے ملک رشید صاحب، سنتوش کمار وغیرہ کے ہاں ان کا آنا جانا تھا۔ بے تکلفی سے ہر جگہ سب کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتے کیوں ان کا ایک انداز تھا۔ وہ بڑے لوگوں کی صحبت میں خود بھی ویسے ہو گئے تھے۔ ان کو فلمی دنیا کا شوق تو نہیں تھا لیکن وہ ان کو جانتے تھے۔ بہرحال افضل کے دادا اور والد صاحب مسلم ٹاؤن میں آنے والے اولین لوگوں میں سے ایک تھے۔
1980 کی دہائی میں ویڈیو کیمرے کی آمد ہوئی جو ایک بہت ٹیکنیکل کام تھا۔ اداکار سنتوش صاحب کے بھائی منصور صاحب کے ساتھ افضل نے کام شروع کیا۔ محنت رنگ لائی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بہت ترقی کی۔ شاید افضل پیدا ہی اس کام کے لئے ہوا۔ کیوں کہ اس کے ساتھ جو لوگ کام کرتے تھے، آج وہ افضل کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ اُن ہنرمندوں کے نزدیک افضل ملک ان کے معلم اور سرپرست ہیں۔ اپنے والد صاحب کی طرح افضل کو بھی اچھے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند ہے۔ اس نے پہلے الفتح اسٹور ’گیلریا‘ کے ساتھ ایک دُکان خریدی۔ پھر اللہ نے اس سے کچھ ایسے کام لئے کہ اس نے ایم ایم عالم روڈ لاہور میں یہ اسٹوڈیو والا گھر خرید لیا۔ فی زمانہ افضل نے کامیابی کے ساتھ مضبوط گاہک بنائے ہیں۔ اُس نے بے شک اِس فن کو ایک نیا رُخ دیا جو عوام میں مقبول بھی ہوا۔ پھر نئے لوگوں کے میدان میں آنے کے مواقع بھی پیدا کیے۔
اِن کی کامیابی کے پیچھے دو چیزیں ہیں۔ ایک معیار اور دوسرا اسٹوڈیو ماحول یا مزاج۔ جس ادارے کی اپنی عمارت ہو وہ ادارہ قائم دائم رہتا ہے۔ افضل کو یہاں رہتے ہوئے غالباً 13 سال ہو چکے ہیں لیکن موصوف کچھ نہ کچھ تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے اہم ترین لوگوں کی شادیوں کی عکس بندی کی ہے۔ تمام پیمانوں کے لحاظ سے یہ ایک کامیاب بزنس مین اور اس سے کہیں زیادہ ایک شاندار انسان ہیں۔ افضل نے اپنے والدین کی بہت خدمت کی ہے۔ یہ آج جہاں ہیں وہ ان کی والدہ کی منصوبہ بندی ہے۔ یہ والدہ کے سعادت مند تھے۔ والدہ نے جو کہا وہ من و عن مانا۔ خود ذاتی جدوجہد اور اپنی مدد آپ پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے یہ مقام اللہ کی رضا سے حاصل کیا۔ اب افضل اسٹوڈیو نے اپنا نام بنا لیا ہے اور سورج بن کے چمک رہا ہے۔
انہیں اس چیز نے بھی فائدہ پہنچایا کہ اُن کے ہمسائے سنتوش کمار تھے۔ پھر ان کے گھر سے پیدل کے فاصلے پر فلم اسٹوڈیو کے مالک پنچولی، اداکار سُدھیر، سیف الدین سیفؔ، آل انڈیا ریڈیو کے مشہور ڈرامہ اور میوزک پروڈیوسر راجہ فاروق علی خان جو ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کے نامور کرکٹ کمنٹیٹر راجہ اسد علی خان کے والد ہیں، عبد المجید سالک، غلام رسول مہر، عبد السلام خورشید، فلمی ہدایت کار نذر الاسلام ( جو افضل کے دوست بھی تھے ) وغیرہ رہتے تھے۔ ان سب دمکتے ستاروں کے گھر افضل صاحب کا آنا جانا تھا۔ پھر جیسا کہ خود انہوں نے بھی بتایا کہ صبیحہ خانم صاحبہ کے ساتھ بھی ان کی نیاز مندی تھی۔
افضل ملک کے پاس اُن کی بنائی ہوئی ایک انمول ویڈیو تھی جو اب گم ہو چکی ہے میڈم نورجہاں کے گھر میں سید شوکت حسین رضوی صاحب، میڈم یاسمین، اداکار اعجاز، اسد امانت علی خان اور میڈم کے تمام بچے، میڈم نورجہاں کی سالگرہ منا رہے ہیں۔ گانے بھی ہو رہے ہیں۔ بہت شاندار ماحول تھا۔ یہ ویڈیو خود میرے اور افضل صاحب کے مشترکہ دوستوں نے دیکھی ہے۔ افسوس کہ اب وہ یا اس کی کاپی ناپید ہو چکی۔ وہ اپنے وقت کی ایک اہم ترین اور تاریخی تقریب تھی۔ افضل نے بتایا کہ ظلِ ہما اپنی ہر ایک تقریب میں انہیں ہی لے کر جاتی تھیں۔ یہ اس لیے لکھا ہے کہ پڑھنے والوں کو بھی علم ہو کہ افضل ملک کی اپنے کام پر مضبوط گرفت تھی۔ اب افضل اسٹوڈیو ایک ادارہ بن گیا ہے جس سے کافی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ کتنے نشیب و فراز آئے لیکن ان کی مستقل مزاجی نے ان پر قابو پا لیا۔
”جب آپ نے کام شروع کیا تو کیا آپ کے ذہن میں تھا کہ میں نے اسی شعبے میں کمال حاصل کرنا ہے؟“
”شاہد صاحب! ایسی سوچ بالکل نہیں تھی اور نہ آگے کی کوئی منصوبہ بندی تھی۔ میں نے تو صرف محنت ہی کی۔ بس وہ محنت کچھ ایسی ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ بتدریج راستے کھُلتے چلے گئے اور اس میدان میں چیزوں کی سمجھ آنے لگی۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اب اِس انڈسٹری میں اکثر جگہوں پر اسی اسٹوڈیو کے لوگ کام کر رہے ہیں“ ۔
”کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ کے ساتھ پیش آیا ہو؟“
”ایک زمانے میں یہ اسٹوڈیو اتنا مقبول ہو گیا کہ لوگ شادی کی تاریخ مقرر کرنے سے پہلے ہمیں کہتے کہ شادی کی تاریخ رکھنی ہے، بتائیں آپ کب فارغ ہوں گے“ ۔
”کیا آپ مطمئن ہیں؟“
”جی جناب! میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہو گا، میں بہت مطمئن ہوں۔ اس ادارے سے بہت سے لوگوں کا روزگار چل رہا ہے۔ ہم سب کے ہاں اللہ کا فضل ہے“ ۔
”کیا آپ کے پاس سیکھنے والے اسی لگن کے ساتھ آتے ہیں جیسے آپ سیکھنے گئے تھے؟“
”جی بالکل! نئے لڑکے شوق سے سیکھتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اِن کے پاس تعلیم ہے۔ اپنی فیلڈ کی جتنی انہیں معلومات ہیں اتنی ہمیں نہیں تھیں بلکہ اِن سے تو ہم سیکھتے ہیں“ ۔
بات افضل ملک کی ہو رہی ہے تو میرے خیال میں ان میں مشاہدہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ صحیح مشورہ مان بھی لیتے ہیں۔ تعلقاتِ عامہ ان کی اضافی خوبی ہے۔ افضل کے حلقۂ احباب میں جج، اعلیٰ پولیس افسران، دانشور بھی ہیں۔ یہ اِن میں بیٹھ کر خوش ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ گھُلنے مِلنے والے اور ڈیرے دار آدمی ہیں۔ اچھی بات یہ دیکھی کہ یہ اپنے ماضی سے جُڑے ہوئے ہیں۔ احساسِ کمتری نہیں۔ لوگ بلند مقام پر پہنچنے پر اپنے شہروں محلوں کا ذکر نہیں کرتے۔ جب کہ افضل ملک اس کا ذکر بڑے فخر کے ساتھ کرتے ہیں۔ مغرب کی یہ بہت اچھی بات ہے کہ اگر کوئی سفیر یا وزیرِ اعظم بھی ہو تو فخر سے بتائے گا کہ میرے والد پلمبر تھے۔ ہم دعاگو ہیں کہ افضل ملک کا ادارہ مزید پھلے پھولے اور وہ اسی طرح ہنستے مسکراتے رہیں جو ان کی پہچان بھی ہے۔





