جعفر ایکسپریس کا سانحہ، پاکستانی ریاست اور میڈیا


مشرف دور میں ان دنوں لال مسجد والا معاملہ چل رہا تھا جس کی وجہ سے سارا میڈیا موقع پر موجود تھا۔ مسجد کے قریب ہی ایک پولیس پکٹ پر خود کش دھماکہ ہوا۔ انسان گوشت بن کر بکھر گئے۔ بغیر ٹانگوں کے دھڑ، ادھڑی بکھری لٹکی ٹانگیں اور پھٹے ہوئے انسانی پنجر جن میں سے سینہ پھاڑ کر پسلیاں نوک کی طرح باہر نکلی ہوں تھیں سٹریچر پر ڈال کر ایمبولینسوں میں منتقل کی جا رہی تھیں۔ ٹی وی رپورٹرز ان سٹریچرز پر لدے انسانی چیتھڑاں کے مناظر ٹی وی چینلز پر تبصروں کے ساتھ لائیو دکھا رہے تھے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ بے دھڑ کا سر ہے اور یہ بے سر کا دھڑ ہے۔ آج بھی وہ خوفناک منظر انکھوں سے نہیں ہٹتے۔ اتنا تکلف بھی نہیں کیا گیا تھا کہ بچے نہ دیکھیں یا کمزور دل حضرات نہ دیکھیں ٹائپ کوئی بھی وارننگ سکرین پر لگا دی جاتی۔

بعد ازاں لال مسجد کا متنازع آپریشن بھی کم از کم تین روز تک لائیو چلتا رہا۔ اب یہ ہو رہا اب وہ ہو رہا۔ اب پانی بند کیا اب گیس گئی۔ جہاں تک کیمرہ زوم ہو سکتا تھا فاصلے سے بھی لائیو کوریج ہوتی رہی۔ گولیاں سنائی دی جاتی رہیں۔ فورسز کی طرف سے لائی گئی اے پی سیز کو بتایا گیا کہ فورسز ٹینک لے آئی ہیں۔

دہشت گردی کی جلتی آگ میں پورے ملک میں کتنے ہی دہشت گردانہ واقعات اور آپریشنز ہوئے جہاں ایک ایک گولی کی آواز اور کوریج لائیو سنائی اور دکھائی جاتی رہی۔ بارہ مئی کراچی میں جو ہوا وہ سب نے لائیو دیکھا۔ چیختے پکارتے چلاتے لوگ، چلتی گولیاں، جلتا شہر بکھری لاشیں۔ پورے ملک میں ہر کوئی پھٹی آنکھوں سے ناقابل یقین مناظر دیکھ کر دہشت سے سن ہوا پڑا تھا۔ ایک سکندر نامی مسخرہ اسلام آباد میں پورے میڈیا کا مرکز نگاہ بنا رہا اور پوری قوم ہونقوں کی طرح دیکھتی رہی۔

جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کو اس قدر ائر ٹائم ملتا ہے کہ ایک جگہ پر دہشت گردی کا واقعہ پورے ملک کے ہر گھر کا واقعہ بن جاتا ہے۔ پورا ملک ایک ایک گھر اور فرد دہشت کا شکار ہو جاتا ہے۔ دہشت گردوں کا مقصد ایک جگہ پر واقعہ کر کے دہشت پیدا کرنا ہوتا ہے اور ان کا باقی کام یعنی اس دہشت کو آگے ہر شخص تک ثواب سمجھ کر منتقل کرنا میڈیا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

اس عمل سے نہ صرف آپریشنز متاثر ہوتے ہیں بلکہ دہشت گردوں کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔ اداروں اور قوم کا مورال الگ گرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اتنی تبدیلی آئی کہ شروع میں کچھ سکرینز پر بچے نہ دیکھیں یا کمزور دل حضرات نہ دیکھیں وغیرہ لگانا شروع ہو گئے اور بعض فورسز کے آپریشنز کی لائیو ٹرانسمشن پر ”کچھ دیر پہلے کے مناظر“ لکھ دیا جاتا مگر دہشت ہر صورت ہر ڈور سٹیپ تک ذمہ داری سے پہنچائی جاتی رہی۔

جعفر ایکسپریس بلا شبہ ریاست پاکستان کے عظیم ترین انسانی المیوں میں سے ایک ہو سکتا تھا مگر اس کو مکمل طور پر میڈیا سے آؤٹ رکھ کر سیکیورٹی فورسز نے اپنا کام مکمل کیا اور نہ صرف اپنی پروفیشنل صلاحیتوں کا اظہار کیا بلکہ پوری قوم کو دہشت و ہیجان سے دور رکھ کر دہشت گردوں کے بنیادی مقاصد کو روک دیا گیا۔ دہشت گردی کے تمام واقعات کو خبر تک ہی رہنا چاہیے تاکہ دہشت پھیلانے میں دہشت گردوں کی معاونت نہ ہو سکے۔

ہاں البتہ بعد ازاں میڈیا کو جاری کی گئی تفصیلات یا رسائی دیے جانے کے بعد آپ جس طرح کی تنقید یا تعریف مناسب سمجھتے ہوں ضرور کریں۔ اس دہشت گردی کے بہت بڑے واقعہ کی میڈیا کے حوالے سے پالیسی، خواہ وہ میڈیا کی اپنی ہو یا ریاست کی، بہت زبردست رہی۔ جتنی خبر ضروری تھی اتنی دی گئی۔ اب بقدر ظرف آپ فورسز کی معاملہ ہینڈل کرنے کی صلاحیت کو سراہیں یا سوال اٹھائیں یہ آپ کی مرضی ہے مگر یاد رہے ہم ہر طرح کے اختلافات کے باوجود ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔

اس کشتی کی سلامتی ہے تو سب کی سلامتی ہے ورنہ کسی کی بھی نہیں۔ اب پاکستان پھر اسی دہشت اور آگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی ناک تک آ گئی ہے۔ اب ہر دونوں اطراف سے آخری وار کی تیاریاں ہیں۔ کسی وقت کبھی بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ تو اس حوالے سے ریاست کو میڈیا پالیسی کا وقت سے پہلے بندوبست کرنا ہو گا ورنہ ایسے مناظر اگلی نسلوں کے اذہان سے بھی نہیں اتر سکیں گے۔

اور ہاں سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر موجودہ کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز اپنی پروفیشنلزم کے حوالے سے دلی تعریف کی مستحق ہیں۔

 

Facebook Comments HS